واپڈا اور حبیب بینک ...فائنل ٹاکرے کیلئے تیار!

قائد اعظم ٹرافی کا سپر ایٹ مرحلہ مکمل ہوگیا ہے جس میں دونوں گروپس سے پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست رہنے والی ٹیموں واپڈا اور حبیب بینک نے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا جبکہ دفاعی چمپئن سوئی نادرن گیس کی کارکردگی دوسرے مرحلے میں زیادہ معیاری نہیں رہی اور گزشتہ سیزن کی فائنلسٹ ٹیم یو بی ایل بھی آخری میچ میں فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔ گزشتہ برسوں کے برعکس اس سیزن کی سب سے اچھی بات یہ رہی کہ کسی ایک ٹیم کی اجارہ داری ثابت نہیں ہوئی جیسا کہ ماضی میں سوئی نادرن گیس کی ٹیم مخالف ٹیموں کو مکمل طور پر آؤٹ کلاس کردیا کرتی تھی۔

واپڈا اور حبیب بینک کے علاوہ سوئی سدرن گیس، یوبی ایل اور کے آر ایل کی ٹیموں نے بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر بدقسمتی یہ ٹیمیں فائنل کیلئے کوالیفائی نہ کرسکیں۔پہلے مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کرنے والی کے آر ایل کی ٹیم کو خراب امپائرنگ کے باعث حبیب بینک کے ہاتھوں شکست کے بعد فائنل کی دوڑ سے باہر ہونا پڑا ۔یو بی ایل اور حبیب بینک کا آخری میچ مارو یا مرجاؤکی صورتحال کے مترادف تھا جس میں یو بی ایل کا جیتنا لازمی تھا مگر کراچی کے ہوٹل میں حادثے کے بعد یو بی ایل کی ٹیم نے میچ منسوخ کرنے کی درخواست کی جس کے بعد دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا اور حبیب بینک کی ٹیم فائنل میں پہنچ گئی۔ سب سے زیادہ بدقسمتی کی حامل سوئی سدرن گیس کی ٹیم رہی جو سپر ایٹ کے دوسرے میچ کے خاتمے پر پوائنٹس ٹیبل پر واپڈا کیساتھ کھڑی تھی اور آخری میچ میں پہلی اننگز میں برتری کی بنیاد پر فائنلسٹ ٹیم کا فیصلہ ہوجانا تھا ۔واپڈا کے پہلی اننگز میں 353رنز کے جواب میں سوئی سدرن گیس کی ٹیم 306رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی جس پر واپڈا کو پہلی اننگز میں برتری کے تین پوائنٹس مل گئے اور یوں واپڈا کی ٹیم پہلی مرتبہ قائد اعظم ٹرافی کے فائنل میں پہنچ گئی۔اس میچ کا ٹرننگ پوائنٹ یہ تھا جب 90رنز پر بیٹنگ کرنے والے سوئی سدرن گیس کے بیٹسمین عادل امین نے واپڈا کے اسپنر زاہد محمود کو سویپ کرنے کی کوشش تو گیند زمین سے ٹکرانے کے بعد شارٹ لیگ پر کھڑے فیلڈر عامر سجاد کے ہاتھوں میں گئی اور امپائر قیصر وحید نے ساتھی امپائر احسن رضا سے مشورہ کرنے کے بعد عادل امین کو آؤٹ دے دیا جس کے بعد سوئی سدرن گیس کی ٹیم پہلی اننگز میں برتری حاصل نہ کرپائی۔ اس غلط فیصلے پر سوئی سدرن گیس کے کوچ نے شدید احتجاج بھی کیامگر یہاں واپڈا کی ٹیم کو بھی پورا کریڈٹ دینا ہوگا جس نے پہلی اننگز میں کامران اکمل کی شاندار سنچری کی بدولت خاطر خواہ رنز بنائے اور پھر بالنگ میں پہلے وقاص مقصود نے دونوں اوپنرز کو جلدی فارغ کیا جبکہ چوتھے دن محمد آصف نے آخری تین وکٹوں پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے واپڈا کی فائنل تک رسائی کا اعلان کردیا۔کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پہلے مرحلے میں واپڈا کی ’’مہربانی‘‘ سے سوئی سدرن گیس کو اننگز کی فتح سے جو ’’اضافی‘‘ پوائنٹ ملا تھا اس کا ازالہ سپر ایٹ کے اہم ترین میچ میں امپائر کی ’’غلطی‘‘ نے کردیا۔

فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیموں کی بات کریں تو واپڈا کی ٹیم کو واضح برتری حاصل ہے جسے سلمان بٹ، کامران اکمل، محمد عرفان، جنید خان جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی آمد نے ناقابل تسخیر بنا دیا اور اگر غیر جانبدارانہ انداز سے دونوں فائنلسٹ ٹیموں کا جائزہ لیا جائے تو واپڈا کو حبیب بینک پر واضح برتری حاصل ہے جو ایک ہی کمبی نیشن اور کپتان کیساتھ اس ٹورنامنٹ میں آگے بڑھتے ہوئے فائنل تک پہنچی ہے جبکہ دوسری طرف حبیب بینک کی ٹیم پہلے راؤنڈ میں صرف دو میچز جیتنے کے بعد چوتھی پوزیشن کیساتھ سپر ایٹ میں آئی اور یہاں بھی ایک میچ میں کامیابی اور دوسرے میچ کی منسوخی نے بینک کی ٹیم کو فائنل میں پہنچا دیا۔اس کے علاوہ پورے ٹورنامنٹ میں جبیب بینک کا کمبی نیشن بھی تبدیل ہوتا رہا ہے اور کپتان بھی۔ فائنل میں بھی ممکن ہے کہ احمد شہزاد دوبارہ حبیب بینک کی کپتانی سنبھال لیں۔

قائد اعظم ٹرافی کے ٹاپ پرفارمرز کی اگر بات کریں تو واپڈا کیلئے پہلا سیزن کھیلنے والے کامران اکمل 13اننگز میں ہزار رنز بنا کر سرفہرست ہیں جبکہ دوسری طرف کے آر ایل کی نمائندگی کرنے والے فاسٹ بالر محمد عباس نے 71وکٹیں لے مسلسل دوسرے سیزن میں ٹاپ کیا ہے اور یہ ایسی پرفارمنس ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی مسلسل ایسے کھلاڑیوں کو نظر انداز کررہی ہے جو فرسٹ کلاس کرکٹ میں جان ماررہے ہیں۔ واپڈا کی ٹیم پہلی مرتبہ قائد اعظم ٹرافی کے فائنل میں پہنچی ہے جبکہ حبیب بینک کی ٹیم دو مرتبہ یہ ٹرافی اپنے نام کرچکی ہے ۔ماضی کے ریکارڈ کے مطابق حبیب بینک کی ٹیم کو برتری حاصل ہے لیکن زمینی حقائق واپڈا کو ٹاپ کلاس ٹیم ثابت کررہے ہیں کیونکہ 10 میں سے 7 میچز جیتنے والی واپڈا کی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں لاجواب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ممکن ہے کہ سلمان بٹ اینڈ کمپنی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں برقی قمقموں کی روشنی میں حریف کے چودہ طبق روشن کردے!!

quaid-e-azam-trophy-2016-17

Facebook Comments