اسمتھ کی حرکت، "براڈ خوش ہوا!"

آپ کو وسط 2013ء میں انگلستان میں کھیلا گیا ایشیز کا پہلا ٹیسٹ یاد ہے؟ جہاں اسٹورٹ براڈ کی متنازع حرکت نے ایک بڑا ہنگامہ کھڑا کردیا تھا۔ ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے دوران ایک نازک مرحلے پر اس وقت کریز چھوڑنے سے انکار کردیا تھا جب گیند ان کے بلّے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی گئی اور سلپ میں کھڑے مائیکل کلارک نے اسے تھام لیا۔ امپائر علیم ڈار نے زور دار اپیل کے باوجود براڈ کا آؤٹ نہیں دیا اور یوں وہ بچ گئے۔ آسٹریلیا نے اس حرکت پر بڑا شور مچایا تھا یہاں تک کہ سیریز ہارنے کے بعد کوچ ڈیرن لیمین نے یہ تک کہا کہ اس کا بدلہ تب لیا جائے گا جب انگلستان آسٹریلیا کا دورہ کرے گا اور پھر واقعی ایسا ہوا۔ جب براڈ اگلی ایشیز کے لیے آسٹریلیا گئے تو انہیں اپنی "بے ایمانی" یاد دلائی گئی اور خوب آوازے کسے گئے۔

آج کپتان اسٹیون اسمتھ نے ثابت کیا کہ آسٹریلیا کا معاملہ "دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت" والا ہے۔ پاکستان کے خلاف برسبین میں جاری پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن جب اسمتھ 97 رنز پر کھیل رہے تھے تو محمد عامر کی گیند ان کے بلّے کا کنارہ لیتی ہوئی وکٹ کیپر سرفراز احمد کے دستانوں میں چلی گئی۔ سرفراز 53 رنز پر اسمتھ کا ایک کیچ چھوڑ چکے تھے لیکن جب پکڑا تو انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ کیچ لیا گیا اور خود عامر بلکہ تمام فیلڈرز کو بھی پتہ نہیں چلا کہ گیند اصل میں بلّے کو چھوتے ہوئے گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی کرکٹ بورڈ کا حکومت کو خط؛ شوشہ یا حقیقت؟

جب اس گیند کو ری پلے دیکھا گیا تو نہ صرف "ہاٹ اسپاٹ" میں بلے کے کنارے پر سفید نشان آیا بلکہ "اسنکو" میں آواز بھی پائی گئی۔ کم از کم خود اسمتھ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ وہ آؤٹ ہیں، تو انہوں نے خود واپس جانا مناسب کیوں نہ سمجھا؟ کیا یہ نصیحت صرف "معصوم صورت" اسٹورٹ براڈ کے لیے ہے؟ ویسے آج وہ خود بڑے ہوئے ہوں گے، بالکل "موگیمبو" کی طرح!

ویسے اسے پاکستان کے کھلاڑیوں کی غائب دماغی کہیں یا کچھ اور، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسمتھ کو دو مرتبہ زندگی عطا کرنا پاکستان کے لیے بڑا نقصان ثابت ہوگا۔ پیٹر ہینڈس کمب کے ساتھ شراکت داری ویسے ہی 134 رنز تک پہنچ چکی ہے۔ اسمتھ 110 رنز پر ناقابل شکست ہیں۔ وہ دوسرے روز کہاں تک پہنچیں گے؟ اللہ ہی جانتا ہے۔

Facebook Comments