پاکستانی بیٹنگ...کبھی ’’کامیڈی شو‘‘ ،کبھی ’’ہارر شو‘‘

گابا میں جب یونس خان پہلی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ تھما کر ’’ڈک‘‘ کے مالک بنے تو اگلے ہی لمحے ایک خاتون دوست نے ٹیکسٹ میسج بھیجا کہ پہلی گیند پر تو میں آؤٹ ہوسکتی ہوں، ایسا کرنے کیلئے 112ٹیسٹ کھیلنے کی بھلاکیا ضرورت ہے!!

اس مذاق میں بھی گہرا طنز چھپا ہواتھا کہ اتنے برس تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے بعد بھی اگر کوئی بیٹسمین اس طرح پہلی ہی گیند پر اپنی وکٹ گنوائے تو پھر کسی دوسرے بیٹسمین سے کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی ۔ یونس خان گزشتہ چھ اننگز میں دو صفر سمیت صرف 16رنز 2.66کی ’’بھاری‘‘ اوسط سے ہی بنا سکے ہیں تو دوسری طرف اسد شفیق کی سات اننگز میں اوسط محض 8.28رہی ہے جس میں تین ’’ڈک‘‘ شامل ہیں اسی طرح دیگر بیٹسمین بھی برسبین میں بے بسی کی تصویر بنے دکھائی دیے اور 429رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم 8/98 کے اسکور پر عبرتناک شکست کیلئے پوری طرح تیار ہے۔صفر پر آؤٹ ہونے کو ’’ڈک‘‘ کا نام آسٹریلیا نے دیا تھا اور شاید اسی لیے ہر مرتبہ آسٹریلیا میں پاکستانی بیٹسمین ’’بطخیں‘‘ جمع کرنے کام میں جُت جاتے ہیں۔

پاکستان کے دورہ آسٹریلیا کے حوالے سے پچھلی تحریر میں لکھا تھا کہ گابا کے میدان پر کینگروز مہمان پاکستانی ٹیم کو کھابہ سمجھ کر کھا جائیں گے لیکن جس طرح آسٹریلین بالرز نے مہمانوں کو ’’چٹ‘‘ کیا ہے اس کی توقع شاید کسی کو بھی نہیں تھی۔429رنز کے جواب میں ابتدا میں اظہر علی(5)کی قربانی دینے کے بعد 1/43کے اسکور پر اننگز سنبھلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی مگر اس اسکور پر بابر اعظم (19)نے آف اسٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیند کو دوسری سلپ میں پکڑایا اور اگلی ہی گیند پر ’’تجربہ کار‘‘ یونس خان نے وکٹوں کے عقب میں کیچ دے کر گولڈن ڈک کا ’’اعزاز‘‘ اپنے نام کیا تو مہمان ٹیم کی بدقسمتی کا ٹریگر دب گیا جو 1/43کے اسکور سے 8/67پر منتقل ہوگئے اور یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے ایک سیشن میں نو وکٹوں کا ’’تحفہ‘‘ حریف ٹیم کو دیا ہو!

پاکستانی بیٹسمینوں نے جو کچھ نیوزی لینڈ میں کیا تھا اسی کا ’’ری پلے‘‘ برسبین میں بھی دیکھنے کو ملا ہے جس میں ہر بیٹسمین مہم جو بنا ہوا دکھائی دیا اور وکٹ پر رک کر وقت گزارنے کی بجائے کیچ تھمانے کی پریکٹس کرواتے رہے۔ ایسی صورتحال میں مکی آرتھر کی کوچنگ کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی کہ گزشتہ چند اننگز میں پاکستانی بیٹسمین بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور ٹی وی اسکرین پر اگر مکی آرتھر کا چہرہ نظر آجائے تو ایسا لگتا ہے کہ کوچ اپنے کھلاڑیوں سے بھی زیادہ بے بس ہے جس کا سارا تجربہ اور ہائی پروفائل نہ جانے کہاں چلا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں بہت کم ایسا دیکھنے کو ملا ہے جب پاکستانی بیٹسمینوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو اور اس خطے میں کھیلتے ہوئے اکثر و بیشتر پاکستانی بیٹسمینوں کا یہی حال ہوتا ہے جو برسبین ٹیسٹ کے دوسرے دن ہوا ہے۔آسٹریلیا میں کھیلنا یقینا آسان نہیں ہے اور خاص طور پر برسبین کی وکٹ کا باؤنس مہمانوں کیلئے ہمیشہ مشکلات کا سبب بنا ہے مگر پاکستانی بیٹسمینوں سے کسی نے یہ اختیار نہیں چھینا کہ اپنی صلاحیت کے مطابق نہ کھیلیں مگر یہ کیا بات ہوئی کہ پاکستانی اننگز کبھی ’’کامیڈی شو‘‘ لگتی ہے تو کبھی ’’ہارر شو‘‘ بن جاتی ہے۔

کپتان مصباح الحق نے انگلینڈ اور یواے ای میں مسلسل رنز کیے ہیں مگر نیوزی لینڈ کیخلاف ایک ٹیسٹ میں اوسط درجے کی کارکردگی دکھانے کے بعد برسبین میں بھی وہ صرف چار رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے اور جس طرح مصباح نے اپنی وکٹ گنوائی تو کوئی اچھا نظارہ نہ تھا۔ دوسری طرف یونس خان اور اسدشفیق مسلسل ناکامیوں کا شکار ہیں اور جب کسی بھی ٹیم کے مڈل آرڈر کے تینوں تجربہ کار بیٹسمینوں کو رنز بنانے کے حوالے سے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑے تو پھر اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ٹیم قابل قدر مجموعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔

برسبین میں جہاں پاکستانی بیٹسمینوں نے بری طرح مایوس کیا ہے بالکل اسی طرح بالرز کی کارکردگی بھی ایسی نہیں رہی جسے قابل فخر قرار دیا جاسکے اور پھر وکٹ کیپر سرفراز احمد سمیت جس طرح پاکستانی فیلڈرز نے کیچز ڈراپ کیے ہیں اس کے بعد بھی پاکستانی ٹیم کا شکست بچ جانا کسی ’’چمتکار‘‘ سے کم نہیں ہوگا اور ایسا کرنے کیلئے دوسری اننگز میں دو بیٹسمینوں کو بڑی اننگز کھیلنا ہونگی۔اگلے دو دنوں میں برسبین ٹیسٹ میں جو کچھ ہونے والا ہے اس کا اسکرپٹ پہلے دو دن کے کھیل کے بعد واضح ہوگیا ہے ۔اب صرف یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم مزید کتنی مزاحمت کرتی ہے اور شکست کے مارجن کو کس قدر کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔

ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ’’جیت کا فارمولا‘‘ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بیٹسمین 280 سے 300رنز بنا لیں تو بالرز بیس وکٹیں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔مجھے مکی آرتھر سے صرف اتنی وضاحت چاہیے کہ انہوں نے مجموعی طور پر تین سو رنز ایک اننگز میں کرنے کیلئے کہے تھے یا ٹیسٹ میچ کی دو اننگز میں!!

Facebook Comments