بائیکاٹ کی "ڈریم ٹیم"، کوئی بھارتی شامل نہیں

بھارتی عوام اپنے کھلاڑیوں کے حوالے سے بہت حساس واقع ہوئے ہیں، بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ انہیں دیوتاؤں کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس لیے جب کوئی بھارتی "ہیروز" کو انہی کے ملک میں بیٹھ کر غیر اہم قرار دے ڈالے اور ایک پاکستانی کو زیادہ اہمیت دے تو سوچیں یہ کتنا گراں گزرا ہوگا۔

ہوا کچھ یوں کہ انگلستان کے سابق اوپنر جیفری بائیکاٹ، جو ان دنوں بھارت-انگلستان سیریز کے حوالے سے کمنٹری کے لیے بھارت میں ہی موجود ہیں۔ ایک پروگرام میں موجود تھے کہ عوام کی جانب سے انہیں اپنی "ڈریم ٹیم" منتخب کرنے کے لیے کہا گیا۔

76 سالہ بائیکاٹ نے "ظلم" یہ کیا کہ اپنی بہترین ٹیم میں ایک بھی بھارتی کو شامل نہ کیا بلکہ پاکستان سے عمران خان کو صرف منتخب کیا، وہ بھی اس ٹیم قیادت کے لئے۔ سنیل گاوسکر اور سچن تنڈولکر کے عدم انتخاب پر جب عوام نے "نا انصافی" کی طرف توجہ دلائی تو جیفری نے بے باکانہ انداز میں کہا کہ "محض سامعین کو خوش کرنے کے لئے کسی بھارتی کو شامل نہیں کر سکتا۔ میں نے تو خود کو بھی شامل نہیں کیا۔"

گاوسکر کے متعلق بات کرتے ہوئے انگلش مبصر نے کہا کہ وہ یقیناً شاندار کھلاڑی تھے، کیا میں انہیں ڈبلیو جی گریس اور جیک ہوبس پر فوقیت دے کر منتخب کرتا؟ گریس کے اعداد و شمار ہو سکتا ہے آپ کو برے لگیں لیکن آپ اس زمانے کی کرکٹ کا موجودہ کرکٹ سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آجکل وکٹیں شاندار توازن کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں جبکہ وہ اس وقت کھیلتے تھے جب پچز پتھروں جیسی ہوتی تھیں۔ ان مشکل حالات میں کھیلنے والوں کا موجودہ کھلاڑی سے کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی کرکٹ بورڈ کا حکومت کو خط؛ شوشہ یا حقیقت؟

جیفری بائیکاٹ نے مڈل آڈر پر سر ڈان بریڈمین، سر ویوین رچرڈز اور سر گیری سوبرز کے ساتھ جارج ہیڈلی کو شامل کر لیا مگر رنزوں کا پہاڑ کھڑا کرنے والے سچن کو باہر کرکے سب کو حیران کر دیا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے جیفری کا کہنا تھا کہ ہیڈلی نے بمشکل 22 ٹیسٹ کھیلے ہوں گے، مگر انہیں دنیا نے "بلیک ماسٹر" کا خطاب دیا کیونکہ انہوں نے اس وقت ویسٹ انڈین ٹیم کو سہارا دیا جب وہ اچھا نہیں کھیل رہی تھی۔

اسی طرح اپنی تصوراتی ٹیم کی قیادت کے لئے عمران خان کو منتخب کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے بائیکاٹ کا کہنا تھا کہ وہ مضبوط اعصاب کے کھلاڑی تھے اور ٹیم کو سنبھالنے کی مہارت رکھتا تھے۔ البتہ عمران خان ہی کے ہم عصر کپل دیو اور این بوتھم بائیکاٹ کی الیون میں جگہ نہیں بنا سکے۔ "کپل ایک شاندار باؤلر تھے، اور این بوتھم بھی۔ لیکن میں انہیں سوبرز کی جگہ نہیں دے سکتا۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے بھارت کے پانچ کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا چاہیے تھا کیونکہ میں بھارت میں ہوں تو معذرت کے ساتھ، میں ایسا نہيں کر سکتا۔

Sachin-Gavaskar

Facebook Comments