مہندر پال سنگھ: پاکستان کرکٹ کا پہلا سکھ کھلاڑی

کرکٹ نے رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ملک میں یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یوسف یوحنا اور دانش کنیریا کی مثال سب کے سامنے ہے جنہیں اقلتی برادری سے تعلق ہونے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے مساوی مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ دونوں ہی کھلاڑیوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی کرکٹ میں خوب نام کمایا۔

اب پاکستان کرکٹ میں پہلی مرتبہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مہندر پال سنگھ کا نام شامل ہوا چاہتا ہے۔ دائیں ہاتھ سے تیز گیند کروانے والے مہندر سنگھ نے ننکانہ صاحب میں پرورش پائی اور اب نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مصروف ہیں۔ مہندر سنگھ نے پاکستان کرکٹ سے وابستہ ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے کرکٹ کھیلنے کا شوق ہے۔ نوجوانی میں مہندر سنگھ کورنمنٹ کالج لاہور کی ٹیم کا حصہ رہے اور اب اوپن ٹرائل کے ذریعے مردان ریجن کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں اپنا نام لکھوا چکے ہیں۔

mahinder-pal-singh-pics

مہندر سنگھ خود کو آل راؤنڈر کہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ دائیں ہاتھ سے تیز گیندبازی کے ساتھ بلے بازی میں بھی اپنے جوہر دکھا سکتے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے مہندر سنکھ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ قومی ٹیم کا حصہ بن کر پاکستان کا نام روشن کریں گے اور بدی خواہوں کو پیغام دینا چاہیں گے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہے۔

مہندر پال سنگھ کے خیالات خود ان کی زبانی سنیں:

ویڈیو بشکریہ فاضل جمالی

Facebook Comments