انگلستان کی نیا ڈوب گئی، سیریز بھارت کے نام

انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا آخری مقابلہ میزبان بھارت نے ایک اننگز اور 75 رنز سے جیت کر سیریز اپنے نام کرلی ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم نے پہلی اننگز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 759 رنز کا تاریخی مجموعہ اکٹھا کیا، جسے انگریز کھلاڑی اپنی دونوں باریاں کھیل کر بھی حاصل نہ کرسکے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھارت کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔

نومبر میں بھارت روانگی کے وقت انگلستان کرکٹ ٹیم کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ پرائے دیس میں اس کا کیا حال ہونے والا ہے۔ دورۂ بھارت سے قبل، انگلستان کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی خدمات تو حاصل کی تھیں، لیکن شاید اپنی کرکٹ ٹیم کے حالات کا جائزہ لینا بھول گیا تھا۔ پانچ میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں انگلستان کے لیے واحد حوصلہ افزا مقابلہ سیریز کا پہلا ٹیسٹ تھا، جس کی پہلی اننگز میں وہ پانچ سو سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔ تاہم، وہ میچ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا۔ بعد ازاں، اسے میزبان ٹیم کے ہاتھوں چاروں مقابلوں میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے میچ میں 246 رنز اور تیسرے میچ میں 8 وکٹوں سے شکست کھانے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ انگلش ٹیم کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ تمام تر امیدیں چھوڑ بیٹھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چوتھے اور پانچویں میچ میں اسے ایک اننگز سے شکست ہوئی۔

سیریز کا پانچواں اور آخری ٹیسٹ میچ شروع ہوا تو مہمان انگلستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ اس کا آغاز ہی مایوس کن ثابت ہوا اور صرف 21 رنز پر اس کے دونوں اوپنرز پویلین لوٹ چکے تھے۔ تاہم جو روٹ اور معین علی نے صورتحال سنبھالی اور 146 رنز کی عمدہ شراکت قائم کی۔ 167 کے مجموعی اسکور پر رویندرا جدیجا نے روٹ کو نشانہ بنایا جو 88 رنز پر کھیل رہے تھے۔ البتہ معین علی نے ہمت نہ ہاری اور وکٹ کیپر بلے باز جانی بیئراسٹو کے ساتھ مل کر 86 رنز کی اہم شراکت داری کی۔

moeen ali

جدیجا کو یہ شراکت بالکل نہ بھائی اور 253 کے مجموعی اسکور پر انھوں نے بیئراسٹو کا شکار کرلیا جو نصف سنچری سے ایک رن کی دوری پر تھے۔ اس کے بعد بین اسٹوکس اور جوس بٹلر کو تو دہرے ہندسے میں داخل ہونے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ دوسرے اینڈ پر ساتھی کھلاڑیوں کی رخصتی سے معین علی پریشان ہوگئے اور 146 رنز کی اہم اننگز کھیل کر پویلین کو لوٹ گئے۔ 321 رنز پر سات کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ چار سو تک پہنچنا اب میزبان ٹیم کے لیے ناممکن ہے۔ تاہم ٹیل اینڈر جم گئے۔ اپنا ڈیبیو ٹیسٹ کھیلنے والے لیام ڈاؤسن نے عادل راشد کے ساتھ مل کر آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 108 رنز جوڑے۔ عادل راشد 60 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ جب آخری وکٹ گری تو ڈاؤسن 66 رنز بناکر ناٹ آؤٹ تھے جبکہ انگلستان کا مجموعی اسکور 477 رنز تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سپر لیگ اسکینڈل کا پہلا شکار، عرفان پر ایک سال کی پابندی

پہلی اننگز میں 477 رنز کا مجموعہ فیصلہ کن نہ سہی، لیکن حوصلہ افزا ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر میزبان ٹیم جب بلے بازی کے لیے میدان میں اتری تو مہمان ٹیم کے لیے صورتحال جلد ہی حوصلہ شکن ہوتی چلی گئی۔ پہلی ہی وکٹ پر لوکیش راہل اور پارتھیو پٹیل کے درمیان ڈیڑھ سو رنز کی پارٹنرشپ قائم ہوئی۔ پٹیل 71 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو چتیشور پجارا اور ویرات کوہلی نے بالترتیب 16 اور 15 رنز بناکر پویلین کا رخ کیا، لیکن تب اپنا صرف تیسرا ٹیسٹ کھیلنے والے کرون نایر میدان میں اترے۔ ابتدائی دو ٹیسٹ میں صرف 13 رنز بنانے والے نایر نے اس میچ میں اگلے پچھلے تمام حساب برابر کردیے اور تیسرے ٹیسٹ کی نسبت سے 303 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

Karun Nair triple century

دوسری طرف لوکیش راہل بھی 199 رنز بناکر ٹلے اور صرف ایک رن کی کمی سے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی ابتدا میں ڈبل سنچری بنانے سے محروم رہے۔ تاہم، پہلے رویچندرا آشون (67 رنز) اور پھر رویندرا جدیجا (51 رنز) نے نایر کا خوب ساتھ دیا۔ مہمان کھلاڑیوں کو 191 اوورز کروانے کے بعد بھی صرف 7 وکٹیں حاصل ہوسکیں، یہاں تک کہ میزبان ٹیم نے رحم کھاکر ان کی جان بخشی کردی۔ بھارت نے سات کھلاڑیوں کے نقصان پر اننگز ڈیکلیئر کی تو اس کا مجموعی اسکور 759 تھا، بھارتی کرکٹ ٹیم کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور۔

بھارت کی 282 رنز کی برتری، انگلش ٹیم کی دوسری اننگز کے لیے ایک کڑا امتحان تھی، لیکن جدیجا نے انھیں اس سے بڑے امتحان میں مبتلا کردیا۔ پہلی وکٹ کی شراکت میں 103 رنز سمیٹنے کے بعد، وکٹیں یوں بکھرنا شروع ہوئیں کہ انھیں کوئی روک نہ سکا۔ صرف پانچویں وکٹ کی شراکت میں بین اسٹوکس کے ساتھ ایک بار پھر معین علی نے مزاحمت کی کوشش کی تاہم یہ مزاحمت صرف 63 رنز تک محدود رہی۔ جدیجا کی گیند بازی نے مخالف ٹیم کی بیٹنگ لائن میں سات چھید کیے، جن کے باعث پوری ٹیم 207 رنز پر ڈھ گئی۔ کہاں یہ کہ پہلی وکٹ پر 103 رنز کی شراکت ہوئی اور کہاں یہ کہ آخری نو وکٹیں صرف 104 رنز کے اضافے پر گرگئیں۔

جدیجا نے 25 اوورز میں 48 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں، لیکن ’پلیئر آف دی میچ‘ کا اعزاز 303 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلنے والے کرون نایر کے نام رہا۔ سیریز میں 2 سنچریوں اور 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 655 رنز بناکر سرِ فہرست رہنے والے بلے باز ویرات کوہلی، ’پلیئر آف دی سیریز‘ قرار پائے۔

انگلش کرکٹ ٹیم کو مہمان نواز ایشیا کی یہ مہمان نوازی شاید ہمیشہ یاد رہے گی۔

Facebook Comments