اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ پاکستانی قائد مصباح الحق کے نام

پاکستان ٹیسٹ دستہ آج کل کافی مشکلات کا شکار ہے کیونکہ کپتان مصباح سمیت ٹیم کی مجموعی کارکردگی خاصی مایوس کن نظر آ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ناقدین مصباح کی فراغت کا خواب دیکھنے لگے مگر آئی سی سی نے مصباح الحق کو 2016 کے "اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ" سے نواز کر سب کے منہ بند کر دئیے۔

جب سے ٹیسٹ دستے کی قیادت مصباح نے سنبھالی ہے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری نظر آرہی ہے۔ ایسے حالات میں کہ ٹیم کو ایک میچ کے لئے بھی ہوم گراؤنڈ نصیب نہیں ہوا، مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے رواں سال عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ ہر سال ایسے کھلاڑی کو دیا جاتا ہے جو ذاتی بہترین کارکرگی کے ساتھ ساتھ مخالف ٹیم کے ساتھ خوشگوار رویے کا حامل بھی رہا ہو۔ سادہ الفاظ میں یوں کہنا چاہئے کہ جو فرد کرکٹ کی مجموعی اقدار و روایات کی پاسداری کرے اسے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) کی جانب سے اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ نوازا جاتا ہے۔

اس سا یہ ایوارڈ مصباح الحق کے نام رہا جو پورے ملک کے لئے باعث فخر ہے۔ یاد رہے کہ مصباح الحق پہلے پاکستانی کھلاڑی ہیں کہ جنہیں یہ ایوارڈ حاصل ہوا۔ 42 سالہ کپتان کا اس کامیابی پر کہنا تھا کہ ایوارڈ جیتنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، پہلے ٹیسٹ گرز اٹھانا اور اب یہ اعزاز 2016 میرے کیریئر کا بہترین سال ثابت ہوا ہے۔ محنت اور فٹنس دو ایسے ہتھیار ہیں جن سے ہر کھلاڑی کامیابی کی منزل حاصل کر سکتا۔ ساتھ ہی میں تمام پاکستانی شائقین کا شکر گزار ہوں جن کی دعائیں ہر لمحے میرے ساتھ ہوتی ہیں۔

مصباح الحق سے قبل اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں مہندر سنگھ دھونی (بھارت)، ڈینیئل وٹوری (نیوزی لینڈ)، مہیلا جے وردھنے (سری لنکا)، کیتھرین برنٹ (انگلستان) اور برینڈن میکولم (نیوزی لینڈ) شامل ہیں۔

Facebook Comments