بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر اور سیکریٹری عہدے سے برطرف

بھارت کی عدالت عظمی نے انڈین کرکٹ بورڈ کے صدر انوراگ ٹھاکر اور سیکرٹری اجے شرکے کو توہین عدالت اور غلط بیانی کے جرم میں عہدے سے برطرف کردیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ اور بی سی سی آئی کے مابین گزشتہ چند ماہ سے سردجنگ جاری ہے اور سپریم کورٹ لودھا کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حکم پر قائم ہے۔ جبکہ دوسری طرف بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر اپنے عہدے کے زعم میں ان سفارشات کو بورڈ کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کہہ کر نظر انداز کرتے رہے۔

بی سی سی آئی مالی لحاظ سے بہت مالدار کرکٹ بورڈ تصور کیا جاتا ہے۔ مگر اس کے نظام کو چلانے کے لئے جس نوعیت کی شفافیت درکار تھی اس کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مالی اسکینڈل بھی سامنے آنے لگے تو ایسے میں بہت سے سیاستدانوں اور بڑے بزنس مینوں نے بورڈ کے معاملات پر تشویش ظاہر کرنا شروع کردی۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ نے تین رکنی لودھا کمیشن تشکیل دیا تاکہ وہ بورڈ کے لئے سفارشات مرتب کرے۔

لودھا کمیشن کی مرتب کردہ سفارشات کو سپریم کورٹ نے قبول کرتے ہوئے فورا ان پر عمل کرنے کا حکم جاری کر دیا اور ساتھ ہی عمل نہ ہونے تک بورڈ کے بینک کھاتے بھی منجمد کر دئیے۔ جس سے ایک بڑا بحران اس وقت شروع ہوا جب بورڈ کے تحت بین الاقوامی میچز کروانا تھے مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میچز کا انعقاد ناممکن ہونے لگا۔ ایسے میں سریم کورٹ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے میچز کی میزبانی کے لئے فنڈ ریلیز کر دیئے مگر ساتھ یہ بھی وضاحت کی کہ ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کرنے والی ریاستوں کو فنڈز جاری کرنے سے قبل بورڈ کو اس کے انتظامی معاملات کی تفتیش کرنے والے خصوصی پینل سے منظوری لینی ہو گی۔

وقتی طور پر فنڈ تو جاری ہو گئے مگر کرکٹ بورڈ نے لودھا کمیشن کی سفارشات من و عن قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی خودمختار ہونے کی بات پر استفسار جاری رکھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے صدر اور سیکرٹری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عہدوں سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں انوراگ ٹھاکر کو 19 جنوری کے لئے اظہار وجوہ جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔ اور ان عہدوں پر تقرریوں تک بورڈ کے معاملات نائب صدور کو سونپ دیئے گئے ہیں۔

anurag thakur bcci

Facebook Comments