"کلب" سطح کے بالرز، "ٹیسٹ" ٹیم میں!

2005ء میں انضمام الحق کی کپتانی میں بھارت کا ٹور کرنے پاکستانی ٹیم کی بالنگ لائن کو بھارت آنے والی کسی بھی پاکستانی ٹیم کی سب سے کمزور بالنگ قرار دیا گیا تھا مگر اس ٹیم نے بھارتی وکٹوں پر بھارت کی عمدہ ترین بیٹنگ لائن کو دو مرتبہ آؤٹ کرکے بنگلور ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیریز برابر کردی لیکن پاکستان کی حالیہ بالنگ لائن آسٹریلیا میں جس طرح پٹ رہی ہے اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی کیونکہ میں اس پرفارمنس کا موازنہ 1983/84ء میں آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم سے بھی نہیں کروں گا کیونکہ اُس ٹور پربھی عظیم حفیظ نے دو مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹوں کا کارنامہ سر انجام دیا تھا اور عمران خان کی عدم موجودگی میں بھی پاکستانی بالرز نے ایسی غیر معیاری بالنگ نہیں کی تھی جس کا مظاہرہ حالیہ دورہ آسٹریلیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے کیونکہ ٹیسٹ میچ جیتنے کیلئے بیس وکٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور موجودہ پاکستانی بالنگ دو اننگز میں مجموعی طور پر دس وکٹیں لینے سے بھی قاصر ہے۔

عام طور پر آسٹریلین سرزمین پر پاکستانی بیٹسمین ناکامی سے دوچار ہوتے رہے ہیں مگر حالیہ دورے میں اظہر علی کی ڈبل سنچری، یونس خان کے 175اور اسد شفیق کی سنچری کے بعد اس ٹور کو بیٹسمینوں کیلئے مکمل فلاپ نہیں کہا جاسکتا مگر بالرز سے جس کارکردگی کی توقع کی جارہی تھی وہ اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے اور خاص طور پر انگلینڈ میں بہتر کارکردگی دکھانے کے بعد پاکستانی بالرز سے ایسی پرفارمنس کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔ یاسر شاہ کچھ عرصہ پہلے دنیا کے سرفہرست ٹیسٹ بالر کا اعزاز اپنے نام کرچکے ہیں مگر آسٹریلیا میں یاسر شاہ کی بالنگ کسی کلب بالر سے بڑھ کر نہیں ہے جس میں سڈنی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 14اوورز میں 124رنز دینے کا ”کارنامہ‘‘بھی شامل ہے۔آسٹریلیا میں پانچ اننگز کے دوران یاسر شاہ نے لگ بھگ ڈیڑھ سو اوورز کرتے ہوئے 84 کی بھاری اوسط ساڑھے چار رنز فی اوور کے حساب سے آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔یہ درست ہے کہ آسٹریلیا میں پاکستانی بالرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر ایسی کارکردگی ابھی تک کسی بھی پاکستانی لیگ اسپنر نے نہیں دکھائی جس کا مظاہرہ یاسر شاہ نے کیا ہے۔سڈنی کی وکٹ کو اسپنرز کیلئے سازگار قرار دیا جاتا ہے اور ماضی میں مشتاق احمد دو مرتبہ اور دانش کنیریا ایک مرتبہ سڈنی ٹیسٹ میں پانچ وکٹوں کا کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں لیکن یاسر شاہ نے اپنے کیرئیر کی بدترین بالنگ اس میدان پر رجسٹرڈ کروائی۔

یہ بھی پڑھیں:  صلاحیت کی تلاش صرف پی ایس ایل سے کیوں؟

اگر آسٹریلیا میں پاکستانی لیگ اسپنرز کی کارکردگی کا موازنہ کریں تو یاسر شاہ سابق اسپنرز عبدالقادر، مشتاق احمد اور دانش کنیریا سے کافی پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔مشتاق احمد نے آسٹریلیا میں پاکستان کی آخری ٹیسٹ فتح میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہوئے اس سرزمین پر مجموعی طور پر چار ٹیسٹ میچز میں 33.59کی اوسط سے 22وکٹیں اوردانش کنیریا نے پانچ ٹیسٹ میچز میں 40کی اوسط سے 24وکٹیں حاصل کیں جبکہ عبدالقادر آسٹریلیا میں بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوئے مگر پانچ میچز میں ان کی 61کی اوسط یاسر شاہ سے تو بہتر ہی ہے اور اس خراب کارکردگی کے باوجود قادر نے ایک مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں لیں لیکن یاسر شاہ کو اننگز میں تین سے زائد وکٹیں نہ مل سکیں۔

yasir-shah-pakistan

یاسر شاہ کی ناکامی نے جہاں پاکستانی بالنگ کو غیر موثر کیا ہے اتنا ہی نقصان فاسٹ بالرز نے ہی پہنچایا ہے جن کے نہ نام بڑے ہیں اور نہ کام۔2004/05ء میں شعیب اختر زخموں اور چوٹوں سے لڑنے کے باوجود دو مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں لے اُڑے تھے لیکن پاکستان کے موجودہ فاسٹ بالرز اننگز میں پانچ وکٹوں کے کارنامے سے کوسوں دور ہیں بلکہ آسٹریلیا میں انہیں کینگروز نے جو ”پھینٹی“ لگائی ہے اسے دیکھتے ہوئے اُ ن کے فاسٹ بالرز ہونے پر بھی شک ہونے لگا ہے۔وہاب ریاض کے سو اوورز میں چارسورنز اورگیارہ وکٹیں پاکستان کی طرف سے اس سیریز میں سب سے ”عمدہ“ کارکردگی ثابت ہوئی ہے جبکہ محمد عامر نے سیریز میں پانچ وکٹیں 61سے زائد کی اوسط سے حاصل کیں۔ تیسرے فاسٹ بالر کے طور پر کھیلنے والے راحت علی، سہیل خان اور عمران خان بھی تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم ماضی میں بھی آسٹریلیا میں شکستوں سے دوچار ہوتی رہی ہے اس لیے اگر کل پاکستانی ٹیم ہدف کے تعاقب میں ناکام رہتے ہوئے وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہوجاتی ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہ ہوگی کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے لیکن پاکستانی بالرز نے اس پوری سیریز میں جس طرح خود کو آسٹریلین بیٹسمینوں کے رحم و کرم پر رکھا ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔ پاکستانی بالرز کی باڈی لینگویج منفی رہی ہے جو بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے کی بجائے اُن سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں جو کسی بھی بالر کیلئے بدترین صورتحال ہے۔ اگر یہ بالرز بالنگ کرنا بھول گئے ہیں اور خود کو ”بالرز“ ثابت نہیں کرسکتے پھر سلیکشن کمیٹی کو بھی چاہیے نئے بالرز تلاش کرلے کیونکہ ایسی کارکردگی والے بالرز تو پاکستان میں کسی بھی کلب سے مل جائیں گے!!

Facebook Comments