آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان: ٹیسٹ سیریز کے دلچسپ اعداد و شمار

پاکستان ایک بار پھر آسٹریلیا کی سرزمین پر ناکام ہوا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ مسلسل چوتھی بار دورہ آسٹریلیا کا یہ نتیجہ حاصل ہوا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم مسلسل چھ مقابلوں میں شکست کا ذائقہ چکھ چکی ہے اور موجودہ صورتحال دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ناکامیوں کا یہ سفر کب تک جاری رہے گا۔

مجھے اب بھی یاد ہے کہ جب پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں شکست سے دوچار ہوئی تھی۔ کسی نے اس شکست کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا بلکہ یہ کہا گیا کہ ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ ہمارے کوچ اور کپتان بھی یہ کہتے سنائی دیئے کہ کھلاڑی تھوڑا ریلیکس ہو گئے تھے۔ مگر میرا خیال ہے کہ اسی میچ نے ہماری فتوحات کا سلسلہ توڑا اور شکست پر شکست کا اذیت ناک سفر شروع ہوا۔

اس مرتبہ بھی کچھ مختلف نہیں ہوگا۔ کچھ روز ذرائع ابلاغ میں کافی باتیں ہوںگی۔ ٹویٹر پر کچھ ایکسپرٹ رائے دیں گے، ٹرینڈز بنائے جائیں گے، اسے واپس بلاؤ، اسے نکالو، پرانوں کو جبری رخصت اور نئے خون کو موقع دینے جیسے نہ جانے کتنے موضوعات پر بحث کی جائے گی اور پھر سب ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ سب کی توجہ آنے والے پاکستان سپر لیگ کی طرف ہو جائے گی۔

لیکن اب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی انتظامیہ اور ٹیم کا انتخاب کرنے والوں کو کو تلخ فیصلے کرنا ہونگے۔ چاہے کسی اہم کرکٹ یا کھلاڑیوں کو باہر ہی بیٹھانا پڑے، انہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ پھر باقائدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کھلاڑیوں کو شامل کیا جانا چاہئے تاکہ آئندہ ایسی ذلت آمیز شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے جیسا کہ آج سب کے سامنے ہے۔

Sarfraz-Ahmed
اب ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ آسٹریلیا کے پاکستان کی تیسٹ سیریز میں کون کون سے ریکارڈ بنے اور کس کھلاڑی نے کتنا اچھا کھیلا اور کتنی بری کارکردگی دکھائی۔

1۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان نے لگا تار چھ ٹیسٹ میچوں میں شکست کھائی۔ ویسٹ اانڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات سے شروع ہونے والا سلسلہ آسٹریلیا میں بھی جاری رہا۔

2۔ ڈیوڈوارنر نے تیسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 23 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔ جس پچ پر پاکستانی بلے باز کچھ نہ کر سکے، وارنر نے تیز ترین نصف سنچری بنانے والے دوسرے بلے باز بن گئے۔ پہلے نمبر پر اب بھی مصباح الحق ہیں جنہوں نے 2014 میں آسٹریلیا کے خلاف 21 گیندوں پر 50 بنائے تھے۔

3۔ یاسر شاہ نے ایک ہی اننگز میں 14 اوورز کرائے اور ریکارڈ 124 رنز کھائے۔ 8.85 اوسط کے ساتھ وہ ٹیسٹ میچ میں کم سے کم 10 اوورز کروانے والوں میں سب سے بدترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہوگئے۔

yasir-shah-fielding

4۔ یاسرشاہ نے ٹیسٹ سیریز کے دوران مجموعی طور پر 672 رنز کی پھینٹی کھائی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے 2004 میں مرلی دھرن نے اپنے ملک میں ہی آسٹریلیا کے خلاف 649 رنز کھا رکھے ہیں۔ اور سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اتنے زیادہ رنز دینے کا باوجود ان کے حصے میں صرف 8 حصے میں آئیں یعنی 85 رنز فی وکٹ۔ یہ اعداد و شمار یاسر کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

5۔ پاکستان کے تیز گیندباز سہیل خان نے پاکستان کی جانب سے 2016 میں سب سے زیادہ 7 چھکے مارے۔ اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سہیل ٹاپ آرڈر کا کوئی مستند بلے باز نہیں بلکہ گیند باز کے طور پر ٹیم کا حصہ ہیں۔ مگر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے یہ ریکارڈ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:  شاداب جیسے نوجوانوں کو موقع چاہیئے!

6۔ اسد شفیق نے اپنی 9ویں سنچری مکمل کر کے دلچسپ ریکارڈ قائم کیا۔ وہ چھٹے نمبر پر کھیلنے والے بازوں میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ سر گیری سوبرز کے پاس تھا جنہوں نے اس نمبر کھیلتے ہوئے پر 8 سنچریاں بنا رکھی ہیں۔ اسد نے آسٹریلیا کے خلاف اس سیریز میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کے ساتھ 239 رنز بنائے تھے۔

7۔ یونس خان نے اپنی 34ویں سنچری مکمل کی جو کہ ایک بڑا اعزاز ہے۔ وہ پوری دنیا میں واحد بلے باز بن گئے ہیں جس نے تمام گیارہ ٹیسٹ ممالک میں سنچریاں بنا رکھی ہیں۔ یونس نے ثابت کیا وہ ہر ملک میں اچھا کھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ وہ اب بھی 10 ہزار رنز کے سنگ میل سے 23 رنز دور ہیں۔

8۔ تین ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز میں سب سے کامیاب گیندباز جوش ہزلووڈ رہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 15 وکٹیں حاصل کیں۔ جبکہ آستریلیا کے ہی مچل اسٹارک 14 وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیاہ 11 شکار وہاب ریاض نے کیے باقی کوئی بھی گیند باز قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔

9۔ اس سیریز کی عجیب اور قدرے دلچسپ بات یہ رہی کہ دونوں ٹیموں میں سے کوئی بھی گیند باز ایک اننگ میں 5 وکٹیں حاصل نہ کر سکا۔ ایسا کرکٹ کی تاریخ میں دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ کم سے کم تین ٹیسٹ کی سیریز میں کوئی بھی بالر ایک اننگز میں پانچ شکار نہ کر سکے۔

10۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں اظہر علی سرفہرست رہے۔ انہوں نے ایک ڈبل سنچری کی مدد سے 406 رنز بنائے۔ مجموعی طور پر سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں اظہر علی دوسرے نمبر پر رہے۔

11۔ اس سیریز میں آسٹریلین کپتان اسٹیو اسمتھ 441 رنز بنا کر سب سے کامیاب بلے باز قرار پائے۔ انہوں نے سریز میں 2 سنچریاں اور 2 نصف سنچریوں بنائیں۔ ناقابل شکست 165 رنز کی اننگز ان کا سب سے بہترین اسکور رہا۔ اس سیریز میں ان کی اوسط 110.25 رہی جو کہ شاندار ہے۔

david-warner-century-australia

12۔ ایک ہی سیشن میں سنچری بنانے کا کارنامہ انجام دینے والے ڈیوڈوارنر کا سیریز میں اسٹرائک ریٹ 103.79 رہا۔ اس کے علاوہ سیریز کی تیز ترین جبکہ ٹیسٹ کرکٹ کی دوسری ترین نصف سنچری بنانے کا اعزاز بھی وارنر کے پاس ہے جس نے صرف 23 گیندوں پر پچاس رنز مکمل کیئے۔ وارنر نے مجموعی طور پر 356 رنز بنائے۔

13۔ پاکستان کے کپتان مصباح الحق کی بیٹنگ اوسط صرف 12.66 رہی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کارکردگی کس قدر مایوس رہی۔ اس سیریز میں مصباح مسلسل ناکام ثابت ہوتے رہے اور یہی وجہ ہے کسی حد تک وہ خاصے مایوس بھی نظر آئے اور غصے میں ریٹائرمنٹ تک کا اشارہ دے بیٹھے۔

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم اپریل میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرے گی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ کرکٹ بورڈ، سلیکٹرز اور ٹیم انتظامہ کچھ بہتر حل نکالنے اور باقاعدہ منصوبہ سے یہ دورہ کریں گے۔

Facebook Comments