پاکستان کو پہلے ایک روزہ میں بھی شکست فاش

پاکستان ٹیم کی شکستوں کا سفر تو تھمنے میں ہی نہیں آ رہا، ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کے زخم ابھی تازہ تھے کہ پہلے ایک روزہ میں بھی کینگروز کے ہاتھوں دھلائی ہو گئی۔برسبین میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے باآسانی 92 رنز سے کامیابی حاصل کی حالانکہ صرف 78 رنز پر آدھی ٹیم آؤٹ ہو چکی تھیں۔ اس کے بعد میتھیو ویڈ کی سنچری اور گلین میکس ویل کی نصف سنچری آسٹریلیا کو مقابلے میں واپس لائی اور آخر میں پاکستانی بلے بازوں کی ناکامی نے مہر تصدیق ثبت کی۔

آسٹریلیا کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ اس وقت بہت غلط محسوس ہونے لگا جب 100 سے بھی کم رنز پر میزبان ٹیم کے پانچ کھلاڑی پوہلین لوٹ چکے تھے، محمدعامر کے ابتدائی شاندار اسپیل نے دو مسلسل گیندوں پر جارحانہ بلے باز ڈیوڈ وارنر اور اسٹیون اسمتھ کا شکار کیا تو میزبان ٹیم بوکھلا گئی۔ یکے بعد دیگرے تین مزید کھلاڑی بھی شاہینوں کا شکار بنے۔ کرس لن کو حسن علی نے جبکہ ٹریوس ہیڈ اور مچل مارش کو عماد وسیم نے اپنا شکار بنایا۔ اس طرح شاہینوں کے پاس بہترین موقع تھا کہ کینگروز کو 200 سے کم رنز تک محدود کر دیں مگر گلین میکس ویل اور میتھیو ویڈ کی جوڑی نے یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ محتاط اور جارحانہ دونوں انداز میں بلے بازی کرتے ہوئے دونوں نے ٹیم کو سہارا دیا۔ یہاں تک کہ میکس ویل کو 60 رنز پر حسن رضا نے چلتا کر دیا۔ جیمز فاکنز بھی کام نہ آئے جنہیں محمد نواز نے پانچ رنز پر واپس بھیج دیا مگر دوسرے کنارے پر میتھیو ویڈ آہنی دیوار بنے ہوئے تھے۔ ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے انہوں نے اننگز کی آخری گیند پر سنچری مکمل کی۔ آسٹریلیا 268 رنز کے معقول مجموعے تک پہنچا۔ پاکستان کی جانب سے حسن علی نے 3 جبکہ محمد عامر اور عماد وسیم نے 2،2 کھلاڑیوں کا آؤٹ کیا۔

ابتدا میں ملنے والی برتری گنوانے کے بعد پاکستان سے 269 رنز کے تعاقب کی امید کم ہی تھی۔ اظہرعلی اور شرجیل خان محتاط آغاز لیا۔ لیکن 38 رنز پر ہی پہلا بلاوا آ گیا۔ شرجیل فاکنز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے اور کپتان اظہرعلی اسی اوور میں ٹانگوں میں کھنچاؤ کے سبب ریٹائرڈ ہرٹ ہو گئے۔

اوپنرز کے یوں میدان سے واپس آنے کے بعد خدشات ابھرنے لگے اور بڑھتے ہوئے دباؤ کو بقیہ بلے باز برداشت نہ کر سکے۔ محمد حفیظ 3 رنز کے اضافے سے آؤٹ ہوئے تو ٹیم کا سارا انحصار بابر اعظم اور عمر اکمل پر آ گیا۔ قدرے بہتر کھیلتے ہوئے دونوں اسکور کو 79 تک لائے جہاں عمر اکمل مچل اسٹارک کا شکار بن گئے۔ بابر اعظم نے محمد رضوان کے ساتھ رنز کو 100 کے مجموعے تک پہنچایا اور پھر باری بابر اعظم کی آ گئی۔ ریکارڈ چوتھی سنچری کی تلاش میں بابر کی اننگز صرف 33 رنز پر سلپ میں اسٹیون اسمتھ کے کیچ ہاتھ تمام ہوئی۔

اب اظہر الیون کی کمر مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی، چار بلے باز آؤٹ اور خود کپتان زخمی۔ باقی کھلاڑیوں کی مزاحمت بھی کچھ خاص نہیں رہی۔ وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں اور شکست قریب سے قریب تر آتی گئی یہاں تک کہ 176 رنز پر سب آؤٹ ہوگئے جس میں خود اظہر علی بھی 24 رنز کے ساتھ شامل تھے۔ عماد وسیم نے 29 اور محمد رضوان نے 21 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کی جانب سے جیمز فاکنر نے 4 جبکہ پیٹرک کمنز نے 3 اور مچل اسٹارک نے 2 وکٹیں لیں۔

میتھیو ویڈ کو ناقابل شکست سنچری اور کیریئر کی پہلی سنچری بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

92 رنز کی اس شکست فاش میں پاکستان کا اگلا امتحان اتوار 15 جنوری کو دوسرے ون ڈے میں ہوگا۔

Sharjeel-Khan

Facebook Comments