گیم پلاننگ کس ’’چڑیا‘‘ کا نام ہے؟

جو لوگ آج سیر سے بیدار ہوئے انہیں شاید اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا ہو کہ پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا ون ڈے سیریز کے پہلے میچ کے پہلے پانچ اوورز میں صرف 13کے مجموعی اسکور پر آسٹریلیا کے دو تجربہ کار بیٹسمین ڈیوڈ وارنر اور کپتان اسٹیون اسمتھ پویلین لوٹ چکے تھے جبکہ 17ویں اوور میں 78کے اسکور پر پانچویں وکٹ گری تو یہ محسوس ہونے لگا کہ آسٹریلیا میں ون ڈے انٹرنیشنلز میں گرین شرٹس کی مسلسل آٹھ شکستوں کا جمود ٹوٹنے والا ہے اور 34اوورز میں 170کے اسکور پر 7کینگروز کو پویلین روانگی نے پاکستان کی کامیابی کے امکانات کو روشن تر کردیا لیکن اگلے 16اوورز میں آسٹریلیا نے دو وکٹوں پر 98رنز بنا کر ایک اچھا مجموعہ حاصل کیا جس کے بعد بالرز کی ذمہ داری نے 92رنز کی بڑی فتح کا سامان کردیا۔

جو لوگ پاکستانی کھلاڑیوں کی صلاحیت پر اعتراض کرتے ہیں مجھے اُن سے اختلاف ہے کیونکہ حالیہ دور میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی بھی باصلاحیت ہیں جبکہ ہر شکست پر ایسے کھلاڑیوں کو یاد کرنا بھی فضول ہے جو اس میچ میں شریک نہیں ہوئے ہوتے۔ جیسا کہ برسبین کے ون ڈے میں سرفراز احمد اور شعیب ملک کی کمی ’’شدت‘‘ سے محسوس کی گئی لیکن اصل مسئلہ گیم پلان سے ناواقفیت ہے کہ گیم پلان کس ’’چڑیا‘‘ کا نام ہے اس کا انہیں ذرا بھی پتہ نہیں ہے جبکہ دنیا کے بہترین کوچز بھی ان کھلاڑیوں کو یہ سمجھانے سے قاصر ہیں کہ گیم پلان کس طرح بنایا جاتا ہے۔گیم پلان کا فقدان صرف ون ڈے ٹیم میں نہیں بلکہ یہ تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ٹیموں میں دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ برس کے آخری دن بھی لکھا تھا کہ’’ٹیسٹ میچ پانچ دن کا ہوتا ہے‘‘ کیونکہ میلبورن ٹیسٹ میں بھی پاکستانی ٹیم نے میچ کو ’’پورا‘‘ نہ کھیلنے کی ’’پاداش‘‘ میں ڈرا کا موقع گنوادیا۔تینوں فارمیٹس میں پاکستانی ٹیم نے یہ ’’حرکت‘‘ متعدد مرتبہ کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات جیتا ہوا میچ گرین شرٹس نے طشتری میں رکھ کر مخالف ٹیم کو پیش کیا ہے جسے انہوں نے شکریہ کیساتھ قبول کیا۔

برسبین ون ڈے کا پوسٹ مارٹم کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جب 34اوورز میں 7وکٹیں مل چکی تھیں تو پھر بقیہ اننگز سمیٹنے کیلئے وکٹیں لینے کی حکمت عملی کیوں نہیں بنائی گئی۔ اگلے چار اوورز میں حفیظ اور نواز نے صرف 13رنز دیے لیکن 7اوورز میں 23رنز دینے والے حفیظ کو دوبارہ بالنگ کیلئے طلب نہیں کیا گیا۔آخری دس اوورز میں میتھیو ویڈ نے اپنے اسکور میں 57رنز کا اضافہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 75رنز دلوائے جبکہ پاکستان کے مایہ ناز بالرز ان دس اوورز میں نہ رنز روکنے میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی آخری تین وکٹیں لے کر اننگز کا خاتمہ کرسکے۔44ویں اوور میں وہاب ریاض کی واپسی 11رنز کیساتھ ہوئی جبکہ وارنر اور اسمتھ کو میدان بدر کرنے والے محمد عامر کو اسی میچ میں مچل اسٹارک سے چھکے کھاتے ہوئے بھی دیکھا گیاجس نے اپنے آخری تین اوورز میں26رنز دیے۔ اسی طرح پہلے چھ اوورز میں47رنز دینے والے حسن علی نے آخری لمحات میں دو وکٹیں ضرور لیں مگر یہاں محمد حفیظ کا کیا قصور تھا جو پہلے سات اوورز میں 23رنز دینے کے باوجود کوٹہ مکمل نہ کرسکا۔

یہ بھی پڑھیں:  صلاحیت کی تلاش صرف پی ایس ایل سے کیوں؟

بیٹسمینوں کی بات کریں توآغاز ہی ایسا تھا کہ یوں محسوس ہوا کہ پاکستانی بیٹسمین ابھی تک ٹیسٹ میچ کے ’’موڈ‘‘ سے باہر نہیں نکل سکے۔ پہلے پانچ اوورز میں18رنز کے بعد شرجیل خان نے چھکا لگا کر پریشر ریلیز کرنے کی کوشش کی مگر ’’پاکستانی ڈیوڈ وارنر‘‘ مزید ایک چوکا لگانے کے بعد ہمت ہار گیاجس کے بعد کپتان اظہر علی بھی ’’ریٹائرڈ ہرٹ‘‘ ہوگئے۔ محمد حفیظ بھی اپنی واپسی کو یادگار نہیں بناسکے شاید انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں دوبارہ ’’ایڈجسٹ‘‘ ہونے کیلئے وقت درکارہے۔ عمر اکمل کا آغاز اچھا تھا مگر ’’باصلاحیت‘‘ بیٹسمین کو جانے کیا سوجھی کہ مچل اسٹارک کے پانچویں اوور میں مڈ آن کے اوپر سے پُل کرنے کی کوشش میں وکٹ گنوادی حالانکہ اسٹارک کا یہ اوور گزار کر ہلکے بالرز کا انتظار کیا جاسکتا تھا۔آخری 25اوورز میں بابر اعظم کی موجودگی کیساتھ پاکستان کو جیت کیلئے ساڑھے چھ رنز کا اوسط درکار تھا جو زیادہ مشکل نہ تھا مگر یہاں بھی بیٹسمینوں نے اپنی اننگز کو پلان نہیں کیا۔بابر کے آؤٹ ہونے کے بعد کسی بھی بیٹسمین نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا اور اظہر علی کا دوبارہ میدان میں آنا بھی سود مند ثابت نہیں ہوسکا۔ آخری سات وکٹیں 67رنز پر گنوانے کے بعد پاکستانی ٹیم باآسانی 92رنز کی شکست سے دوچار ہوگئی۔

اگر ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد انتہائی دباؤ میں ویڈ سنچری اسکور کرکے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکال سکتا ہے اور ٹیل اینڈرز مہم جوئی سے دور رہتے ہوئے صرف ویڈ کا ساتھ دے سکتے ہیں تو پھر یہ کام ہمارے کھلاڑی کیوں نہیں کرسکتے۔ کیا 3/109کے اسکور سے بابر اعظم یا عمر اکمل فتح گر اننگز نہیں کھیل سکتے تھے؟ان کھلاڑیوں میں صلاحیت تو موجود ہے مگر منصوبہ بندی کا فقدان ہے کہ اپنی اننگز کی تعمیر کیسے کرنی ہے اور بالنگ میں اپنے اوورز کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ جس دن گیم پلاننگ کی ’’چڑیا‘‘ پاکستانی کھلاڑیوں کے قابو میں آگئی اُس دن سے نتائج میں بہتری آنا شروع ہوجائے گی!

Chris-Lynn

Facebook Comments