90ء کی فٹنس سے موجودہ دور میں کامیابی کی اُمید؟؟

کھیلوں کے میدان صلاحیت سے بھرے ہوئے ہیں اور فٹنس جم میں فٹ لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے تو پھر اس ٹیلنٹ اور فٹنس سے وہ آئیڈیل کمبی نیشن کیوں تیار نہیں ہورہا جو انٹرنیشنل سطح پر دوسری ٹیموں کا مقابلہ کرسکیں؟

شاید کرکٹ سے زیادہ کوئی اورکھیل اتنی زیادہ تکنیکی باریکیوں کا حامل نہیں ہے جس کیلئے فٹنس کی ضروریات بھی تکنیکی ہیں جبکہ فزیکل فٹنس کیساتھ ساتھ صبر، برداشت،پھرتی اور کھیل کی سمجھ بھی ضروری ہے۔پاکستان کرکٹ میں کچھ نئے الفاظ جیسے فٹنس،جم اور ٹریننگ سب کے ہاتھ لگ گئے ہیں مگر انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے فٹنس کا حصول کیسے ممکن ہے اس بارے میں سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے۔نیشنل کرکٹ اکیڈمی جیسی جگہ پر بھی پی سی بی کے کوالیفائیڈ کوچز اور باصلاحیت ٹرینرز کو اس بات کا نہیں پتہ کہ کس کھلاڑی کو کیسی ٹریننگ درکار ہے اور مختلف کھلاڑیوں کے فٹنس کے پیمانے کیا ہیں۔ کسی بھی کھلاڑی کی کارکردگی کے معیار کو بڑھانے کیلئے ٹریننگ کس طرح فٹنس میں بہتری کیلئے معاون ثابت ہوسکتی ہے یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب دینے کیلئے متعلقہ افراد ہونکوں کی طرح منہ تکنا شروع ہوجاتے ہیں۔

کھلاڑیوں کی فٹنس بہتر بنانے اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار لانے کی سب سے بڑی ذمہ داری نیشنل اکیڈمی ہے جہاں کوچز اور ٹرینرز نے کوچنگ اور ٹریننگ میں پتہ نہیں کتنے لیول کرلیے ہیں لیکن اُن کی اپنی صلاحیت کا ”لیول“ کیا ہے وہ جاننے کیلئے زیادہ تگ و دو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر کسی کھلاڑی کو فٹ ورک کا مسئلہ ہے تو کیا اس کے فٹ ورک کو بہتر بنانے کیلئے ٹریننگ کروانی چاہیے یا پھر اسے بھی وہی ٹریننگ کروائی جائے جو دوسرے کھلاڑی کررہے ہیں؟ کسی کھلاڑی کا فٹ ورک تیز نہ ہونا بھی خراب فٹنس کے زمرے میں آتا ہے جو صرف فٹ ورک مسائل کے سبب زیادہ رنز کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتالیکن ایسے کھلاڑی کے پاؤں کی فٹنس پر کام نہیں کیا جاتا بلکہ اسے بھی اُسی ٹریننگ سے گزارا جارہا ہے جو دوسروں کو کروائی جارہی ہے چاہیے اُسے ایسی ٹریننگ کی ضرورت بھی نہ ہو۔

موجودہ دور میں ٹی20اور ون ڈے فارمیٹس میں ایسے بیٹسمینوں کی ضرورت ہے جن کی لگائی گئی ہٹس باؤنڈری سے باہر گریں مگر ہمارے کھلاڑیوں کی لگائی گئی ہٹس 70گزسے دور نہیں جاتی۔اس کا مطلب ہے کہ ان کی کلائیوں میں اتنی جان نہیں ہے وہ آسٹریلیا میں اپنی لگائی گئی شاٹس کو چھکوں میں منتقل کرسکیں۔ ان کھلاڑیوں کی کلائیوں کو مضبوط بنانا کیا فٹنس کی درجہ بندی میں شامل نہیں ہے؟لیکن ایسا کون سا ٹرینر یا کوچ ہے جو اس نقطے کو سمجھتے ہوئے درست انداز میں ٹریننگ کروائے؟کسی بھی کھلاڑی کے مسلز کو ڈویلپ کرنے کی بجائے ساری توجہ وزن کم کروانے، ٹریڈ مل پر دوڑانے اور تیراکی کروانے پر ہے۔کھلاڑی کی باڈی کو کیسے ڈویلپ کرنا ہے اس پر کوئی توجہ نہیں ہے۔

Azhar-Ali

جب ڈسپلن کی بات کریں تو یہاں صرف ”ڈنڈا پیر“ کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے۔ ٹورز پر کرفیوٹائم کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے جاتے ہیں اورڈومیسٹک کرکٹ میں لڑائی جھگڑا کرنے پر پابندی لگائی جاتی ہے مگر اس ڈسپلن کے علاوہ لائف اسٹائل ڈسپلن بھی ہوتا ہے جس پر کام نہیں کیا جاتا۔فٹنس میں ڈسپلن لانے کیلئے ضروری ہے کہ لائف اسٹائل ڈسپلن بھی ضروری ہے جس میں نیند پوری کرنا، مناسب غذا، ایکسرسائز، نیٹ پریکٹس وغیرہ سب شامل ہیں۔لائف اسٹائل ڈسپلن کو بہتر بنانا کھلاڑیوں کی انفرادی ذمہ داری ہے جنہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ اُن کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور جو کام کرنے کے عوض انہیں پیسے اور شہرت مل رہی ہے کیا وہ کام درست طریقے سے کیا جارہا ہے یا نہیں کیونکہ یہ کھلاڑی محض شوق کیلئے کرکٹ نہیں کھیل رہے بلکہ یہ پیشہ ور کھلاڑی ہیں اس لیے ان کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں۔ اگراس سوال کا جواب نفی میں مل رہا ہے تو پھر یہ کام کھلاڑیوں کا ہے کہ وہ اس نفی کو مثبت میں بدلیں۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے کھلاڑیوں پر یہ ”الزام“ عائد کردیا ہے کہ کھلاڑی 90ء کے عشرے کی کرکٹ کھیل رہے ہیں مگر غیر ملکی کوچ نے پاکستانی کرکٹ کو موجودہ دور سے مطابقت کیلئے ”فاسٹ گیئر“ لگانے کا فارمولا نہیں بتایا۔ صرف کرکٹ ہی دو عشرے پرانی نہیں کھیلی جارہی بلکہ فٹنس کا معیار بھی اسی زمانے کا ہے جس کی وجہ سے 90ء کے عشرے کی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف کھلاڑیوں پر 90ء کے عشرے کی کرکٹ کھیلنے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا بلکہ پوری مینجمنٹ بھی اُسی اسٹائل سے چل رہی ہے۔ باہر سے آنے والے کوچز اور ٹرینرز بھی پاکستانی کرکٹ کے رنگ میں ڈھل کر اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں لگ جاتے ہیں کیونکہ انہیں پاکستانی ٹیم کے سابق کوچ جیف لاسن کی طرح قبل از وقت گھر جانا قبول نہیں ہے۔اگر موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کرکٹ کھیلنا ہے تو پھر فٹنس اور ٹریننگ بھی اسی انداز میں کرنا ہوگی جیسا کہ دیگر ماڈرن ٹیمیں کرتی ہیں۔ایسا نہیں کرسکتے تو پھر ہر شکست کے بعد الزام تراشی کرکے دل کو تسلیاں دیتے رہیں،یہ کام زیادہ آسان ہے!!

Facebook Comments