آخر پاکستان کا مسئلہ کیا ہے؟

پاکستان کرکٹ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، کسی بھی موڑ پر یہ آپ کو قابلِ بھروسہ نظر نہیں آئے گی۔ تاریخ کے کسی ایک دور میں پاکستان کی حکمرانی تو ایک طرف، پاکستان کے بارے میں تو یہ پیشن گوئی بھی نہیں کی جا سکتی کہ ایک میچ کے مختلف سیشنز میں یہ ایک جیسا کھیل پیش کر بھی پائے گا یا نہیں۔ اچھا برا وقت سب ٹیموں پر آتا ہے، لیکن بڑی ٹیموں کی بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اچھے وقت کو جلد ہاتھ سے نہیں نکلنے دیتے۔ ویسٹ انڈیز کو عروج ملا تو اس نے مدتوں راج کیا، یہاں تک کہ 'کالی آندھی' کو شکست دینا خواب بن گیا۔ پھر 90ء کی دہئی سے آسٹریلیا نے جو مقام حاصل کیا، دس پندرہ سالوں ۃک کسی کو اپنے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیا۔ آج یہی مقام بھارت کو حاصل ہوتا جا رہا ہے لیکن پاکستان ہمیشہ ایسے استحکام سے محروم رہا ہے۔

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں؛ کرکٹ بورڈ میں سیاسی مداخلت، نااہل افراد کی مضبوط کرفت، سلیکشن کمیٹی میں سفارشات کا چلن، ڈومیسٹک کرکٹ کا غیر موثر نظام اور بہت کچھ، سب وجوہات اپنی جگہ مگر میری نظر میں کھلاڑیوں میں بھی محنت سے کترانے، کارکردگی میں بہتر لانے کے جتن کرنے اور سیکھنے کی تڑپ کا فقدان ہے اور یہ بھی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ شاید اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے فٹنس کی بات کی ہے۔ یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آئی سی سی فٹنس، حکمت عملی پر عملدرآمد اور کارکردگی میں بہتری لانے کی رفتار کے ساتھ تمام ٹیموں کو پرکھنا شروع کردے اور بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے ہر کیٹیگری میں 33 فیصد نمبر لینا لازمی قرار دے دے تو افغانستان کھیلتا رہے گا اور پاکستان کسی فارمیٹ میں نظر نہیں آئے گا۔

فٹنس کا معیار کیچز پکڑنے، گیند کے پیچھے دوڑنے، اسے روکنے کے لیے جست لگانے، ایک، ایک رنز بچانے کے لیے تگ و دو، رن آؤٹ کے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور جہاں ایک رنز نکلتا ہو وہاں دو حاصل کرنے کی کوشش سے نظر آتا ہے، لیکن پاکستانی ان میں سے کس میں بہتر ہیں؟ کیچ تو میچ جتوانے ہیں یعنی ایک کیچ پورے میچ کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ آج جدید کرکٹ میں کیسے کیسے کیچز ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن پاکستان کے شائقین نے اپنا کھلاڑیوں کا شاید ہی کبھی کوئی ایسا کیچ دیکھا ہو جسے 'کلاسک کیچ' کہا جا سکے۔ ایسا لگتا ہے نہیں کیچ پکڑنے میں نہیں چھوڑنے میں کمال حاصل ہے۔ پھر آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی تو بات ہی نہ کریں، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش تک کے کھلاڑیوں کی فٹنس اور فیلڈنگ اتنی معیاری ہوگئی ہے کہ پاکستانی ان سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔

"گیم پلان" اور حکم عملی کی تیاری کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے، لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ کسی میچ میں اول تو کوئی منصوبہ بندی نظر ہی نہیں آئے گی، بس ٹیم اللہ آسرے پر میدان میں اترتی نظر آتی ہے۔ مقابل ٹیم کا معیار کیا ہے، اس کی قابلیت اور کمزوریاں کیاں ہیں، انہیں کہاں سے دبوچنا ہے اور اگر کوئی چھوٹی موٹی منصوبہ بندی ہو بھی دوران میچ اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ کتنا ہدف دینا ضروری ہے؟ کسی ہدف تک پہنچنے کے لیے اننگز کو کس رفتار سے آگے بڑھانا ہے؟ ابتدائی وکٹیں جلد گر جائیں تو باقی بے بازوں کو اوورز اور رنز کے مابین توازن کیسے برقرار رکھنا ہے؟ جدید کرکٹ میں جہاں آخری دس اوورز کا کھیل بہت اہمیت اختیار کر گيا ہے، وہاں بھی ہمیں کچھ نہیں دکھائی دیتا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو نہ آغاز کا پتہ ہے اور نہ انجام کی فکر ہے۔

پھر سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کھلاڑیوں میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر خود کو بہتر بنانے کی نہ خواہش نظر آتی ہے اور نہ تڑپ دکھتی ہے۔ صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد اگلی بار سنچری بنانے کا عزم تو خیر الگ بات، یہاں تو سنچری اور ڈبل سنچری بنانے کے بعد اگلے میچ میں صفر پر ہی آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ احساس ذمہ داری کے بجائے 'رلیکس' ہوگئے ہیں کہ کوٹہ تو پورا ہوچکا، اب مزید رنز نہ بھی بنیں تو خیر ہے۔ خود کو بہتر نہ بنانے کی فکر کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ موجودہ کرکٹ کے سب سے بڑے بیٹسمین ویراٹ کوہلی نے بتایا کہ پاکستانی کھلاڑی ملتے ہیں تو بیٹنگ ٹپس لینے کے صرف گاڑیوں کی معلومات لیتے رہتے ہیں۔

بلاشبہ پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں لیکن اگر کھلاڑیوں کی انفرادی و اجتماعی سوچ میں تبدیلی نہیں لائی جائے گی، تو ہو سکتا ہے کسی دن کسی ایک کھلاڑی کی کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کوئی مقابلہ جیت بھی جائے لیکن تسلسل کے ساتھ بہتر کارکردگی محض ایک خواب ہی رہے گی۔

Facebook Comments