پاکستانی کپتان اظہر علی پر پابندی عائد

پاکستان ایک روزہ ٹیم کے کپتان اظہر علی کے ستارے واقعی گردش میں ہیں۔ ان کی مشکلات ہیں کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ کپتان ہونے کے ناطے پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں 4-1 سے بدترین شکست کا دباؤ پہلے ہی بہت تھا کہ اب بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سلو اوور ریٹ کی بنیاد پر اظہر علی نے ایک میچ کی پابندی اور میچ فیس کا 40 فیصد جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں پر بھی میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد ہوا ہے۔

آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے آخری ایک روزہ میچ کے اوورز مقررہ وقت پر مکمل نہ کروا سکنے پر ی سزا سنائی گئی ہے۔ چونکہ پاکستانی ٹیم مقررہ وقت کے حساب سے دو اوورز پیچھے تھی لہٰذا میچ ریفری جیف کرو نے آئی سی سی کے قوانین اور ضابطہ اخلاق کے مطابق کپتان پر پابندی سمیت میچ فیس میں کٹوتی کا فیصلہ سنایا۔ قوانین کے مطابق فی اوور کے لحاظ سے کھلاڑی پر 10 فیصد اور کپتان پر اس سے دگنا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

مزید پریشانی یہ کہ اپریل میں دورہ ویسٹ انڈیز کا پہلا میچ بھی اظہر علی نہیں کھیل سکیں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگر کوئی ٹیم 12 ماہ کے عرصے میں دو بار سلوریٹ کی مرتکب قرار پائی جائے تو کپتان کو ایک میچ کی پابدی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیم اس سے قبل 31 جنوری 2016 کو نیوزی لینڈ کیخلاف میچ میں سست رفتار بولنگ کی وجہ سے 20 فیصد میچ فیس کا جرمانہ بھگت چکی ہے۔

یاد رہے کہ پانچ میچوں کی سیریز اظہر علی کے لئے انتائی مایوس کن ثابت ہوئی ہے۔ دو ایک روزہ میچ وہ ہیمسٹرنگ انجری کی بدولت کھیل ہی نہ سکے باقی تینوں میچوں میں خاطر خواہ کارکردگی بھی نہ دکھا سکے۔ پہلے میچ 24 اور بقیہ دو میں بالترتیب 7 اور 6 ہی بنا کر مجموعی طور پر 37 رنز بنا پائے۔

Facebook Comments