بابر اعظم "ٹاپ ٹین" میں

گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں اگر پاکستان کرکٹ میں کسی کھلاڑی کی شمولیت کو بہترین اضافہ کہا جا سکتا ہے تو وہ بابر اعظم ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ میں خود کو قابل بھروسہ بلے باز کی حیثیت سے منوایا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پچھلی کئی دہائیوں میں آسٹریلیا کی سرزمین پر ون ڈے سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بھی بنے۔ اس کارنامے کا صلہ یہ ہے کہ بابر اعظم پہلی بار عالمی درجہ بندی میں ایک روزہ کے دس بہترین بلے بازوں میں شامل ہوگئے ہیں۔

پاک-آسٹریلیا سیریز کے اختتام پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے ایک روزہ کی تازہ ترین درجہ بندی جاری کی گئی ہے۔ جس کے مطابق آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر پہلی بار نمبر ایک بلے باز بن گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز دوسرے اور بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی تیسرے نمبر پر ہیں۔ بابر اعظم سے قبل جنوبی افریقہ کے کوئنٹن ڈي کوک، نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن، انگلستان کے جو روٹ، جنوبی افریقہ کے ہاشم آملا، آسٹریلیا کے کپتان اسٹیون اسمتھ اور نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل بالترتیب چوتھے سے نویں نمبر پر قابض ہیں۔

پاکستان کے ابھرتے ہوئے بلے باز بابر اعظم نے آسٹریلیا کے خلاف موثر کارکردگی پیش کرکے پانچ درجے ترقی پائی ہے اور نمبر 10 پر آ گئے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی پاکستانی بلے باز ٹاپ 20 کا حصہ بھی نہیں ہے۔ محمد حفیظ 26 ویں، کپتان اظہر علی 40 ویں اور سرفراز احمد 41 ویں پوزیشن پر ہیں۔

گیند بازی میں تو 'شاہینوں' کا حال افسوسناک ہے کیونکہ یہاں کوئی پاکستانی دنیا کے دس بہترین گیند بازوں میں بھی شامل نہیں۔ سب سے آگے محمد عرفان ہیں جو 17ویں نمبر پر ہیں اس کے بعد محمد حفیظ 38 ویں اور محمد عامر 41 ویں نمبر پر ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے کسی صدمے سے کم نہيں ہونی چاہیے کیونکہ یہ سرزمین ہمیشہ تیز گیند بازوں کے حوالے سے زرخیز رہی ہے اور بدترین حالات میں بھی گیند باز نمایاں رہے ہیں۔ گیند بازوں میں نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ پہلے، آسٹریلیا کے مچل اسٹارک دوسرے اور جنوبی افریقہ کے پاکستانی نژاد عمران طاہر تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے بعد سنیل نرائن، جوش ہیزل ووڈ، شکیب الحسن، میٹ ہینری، کاگیسو رباڈا، عادل رشید اور محمد نبی کے نام ہیں۔

Babar-Azam

Facebook Comments