پاک-آسٹریلیا ون ڈے سیریز ریکارڈز کی نظر سے

پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ آسٹریلیا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ انتہائی ناقص منصوبہ بندی، کھلاڑی کے نجی مسائل، فٹنس پرابلمز اور بدترین کارکردگی کے نتیجے میں ملنے والی بھیانک شکستوں کو شاید ہی کوئی بھلا پائے۔ بہرحال، ایک اچھی خبر یہ ہے کہ دورہ اب ختم ہو چکا ہے یعنی اب مزید ذلت نہیں سہنی پڑے گی۔ کھلاڑیوں، کوچ اور انتظامیہ کے دیگر اراکین کو اب کئی دن تک پردے کے پیچھے چھپنے رہنے کا موقع مل چکا ہے۔ اس کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ پے در پے شکستوں نے اعصاب اور ذہن پر کتنا دباؤ ڈالا ہوگا۔ ٹیسٹ میچ تو پاکستان کیا خاک جیت پاتا کہ اب دہائیاں بیت چکی ہیں البتہ جیسے تیسے کرکے ایک ون ڈے میں کامیابی ضرور حاصل کی۔ باقی بلے بازی، گیند بازی اور فیلڈنگ میں جو حال رہا، وہ سب کے سامنے ہے۔

اگر ہم ایک روزہ سیریز پر نظر ڈالیں تو ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے نظر آئے، جن کا احاطہ ہم اس مضمون میں کر رہے ہیں جس سے اندازہ لگا لیں کہ آسٹریلیا کا پلڑا کس قدر بھاری رہا۔

1: شرجیل خان پاکستان کے تیسرے بلے باز بنے جنہوں نے آسٹریلیا کے خلاف کسی سیریز میں 3 یا زائد نصف سنچریاں بنائیں۔ اس فہرست میں شامل دیگر دو عظیم کھلاڑی سابق کپتان عمران خان اور انضمام الحق ہیں۔

2: ڈیوڈ وارنر نے 179 رنز کی اننگز بنا کر پاکستان کے خلاف دوسری طویل ترین اننگز کھیلنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کے خلاف سب سے لمبی اننگز بھارت کے وراٹ کوہلی نے 183 رنز بنا کر کھیلی تھی۔ اس کے علاوہ ایلکس ہیلز بھی گرین شرٹس کے خلاف 171 رنز کی یادگار باری کھیل چکے ہیں۔

3: وارنر کی 179 رنز کی اننگز کو آسٹریلیا کی طرف سے ون ڈے کرکٹ میں کھیلی گئی طویل ترین اننگز میں تیسرا نمبر حاصل ہوا۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے میتھیو ہیڈن نے 181 اور شین واٹسن نے 185 رنز کی اننگز کھیلی تھیں۔

4: ڈیوڈ وارنر اور ٹریوس ہیڈ نے پانچویں ایک روزہ میں پاکستان کے خلاف طویل ترین شراکت داری کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پاکستان کے خلاف پہلی وکٹ پر 284 رنز جوڑے۔ اس سے قبل یہ اعزاز جو روٹ اور ایلکس ہیلز کے پاس تھا جنہوں نے 248 کی شراکت داری قائم کی تھی۔

5: ڈیوڈ وارنر نے کیریئر میں پانچویں مرتبہ 150 اور زائد رنز کی اننگز جمائی۔ یوں وہ عظیم بلے بازی سچن تنڈولکر کے برابر آچکے ہیں کہ جو ایک روزہ کیریئر میں سب سے زیادہ پانچ ہی مرتبہ 150 رنز کا سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سچن 5 مرتبہ 150 رنز بنانے کے علاوہ 49 سنچریاں بھی بنا چکے ہیں تاہم ڈیوڈ وارنر 5 مرتبہ 150 رنز بنانے کے علاوہ صرف 13 سنچریاں اپنے کھاتے میں رکھتے ہیں۔

Australian-team

6: فروری 2015ء کے بعد یہ چھٹا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے پاکستان کے خلاف 350 رنز سے زائد کا مجموعہ بنایا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ایک روزہ کرکٹ میں صرف تین ہی مواقع ایسے آئے ہیں کہ جب پاکستان نے کسی ٹیم کو 350 یا زائد رنز بنانے کا موقع دیا ہو۔

7: آسٹریلیا کی ایک روزہ ٹیم مجموعی طور پر 18 مرتبہ 350 یا زائد رنز بنا چکی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس سیریز میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف اتنا بڑا اسکور بنایا ہو۔ اب صرف جنوبی افریقہ اور بھارت ہی کی ٹیمیں باقی ہیں جنہوں نے آسٹریلیا سے زیادہ مرتبہ 350 یا زائد مجموعہ بنایا۔

8: آسٹریلیا کے دورے میں صرف ایک ہی کھلاڑی کسی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرسکا۔ یہ کارنامہ پاکستانی گیند باز حسن علی کے حصے میں آیا جنہوں نے چوتھے ایک روزہ میں پانچ کینگروز شکار کیے۔ لیکن اگلے ہی میچ میں آسٹریلیا کے بلے بازوں نے حسن علی کی وہ درگت بنائی کہ الامان فی الحفیظ۔ پانچویں ایک روزہ میں حسن علی نے 9 اوورز پھینکے اور 100 رنز دیئے۔ یوں حسن علی کے اعزازات میں بدترین ریکارڈ کا بھی اضافہ ہوگیا۔ وہ ایک روزہ کرکٹ میں 100 یا زائد رنز دینے والے دوسرے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ "کارنامہ" وہاب ریاض انگلستان کے خلاف 110 رنز دے کر حاصل کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شاداب جیسے نوجوانوں کو موقع چاہیئے!
babar-azam-pakistan

9: نوجوان کھلاڑی بابر اعظم نے سیریز کے پانچویں اور آخری ایک روزہ میں تاریخی سنچری اننگز کھیلی۔ یہ آسٹریلیا میں میزبان ٹیم کے خلاف کسی پاکستانی بلے باز کی 35 سال بعد سنچری تھی۔ اس سے قبل ظہیر عباس نے 1981ء میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

10: پانچویں ایک روزہ میں پہاڑ جیسے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پاکستان نے 300 رنز کا سنگ میل عبور کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب آسٹریلیا کے میدان میں کینگروز کے خلاف پاکستان نے 300 یا زائد رنز بنائے۔ اس سے قبل پاکستان کا سب سے زیادہ اسکور 274 رنز ہی تھا۔

11: آسٹریلیا نے پاکستان کو مسلسل چھٹی مرتبہ ایک روزہ سیریز میں پچھاڑا۔ آخری مرتبہ پاکستان کو سال 2002ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی ایک روزہ سیریز میں 2-1 سے کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ 2002ء سے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کو 1982ء، 1988ء اور پھر 2002ء سمیت تین سیریز میں شکست دی تھی جبکہ آسٹریلیا کو صرف ایک مرتبہ 1998ء ہی کامیابی ملی۔

12: آسٹریلیا کی طرف سے سیریز میں سب سے زیادہ 367 رنز ڈیوڈ وارنر نے بنائے جبکہ دوسرے نمبر 270 رنز بنانے والے میتھیو ہیڈ رہے۔ جبکہ پاکستان کی طرف سے کامیاب ترین بلے باز بابر اعظم رہے جنہوں نے مجموعی طور پر 282 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ شرجیل خان کی کارکردگی قابل ذکر رہی جنہوں نے سیریز کے تمام میچز کھیلے اور 250 رنز جمع کیے۔

13: آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ایک روزہ سیریز میں میزبان ٹیم کی طرف سے 5 جبکہ مہمان ٹیم کی جانب سے صرف 1 سنچری بنائی گئی۔ ڈیوڈ وارنر 2 جبکہ ٹریوس ہیڈ، اسٹیون اسمتھ اور میتھیو ہیڈ ایک، ایک سنچری بناسکے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی اور آسٹریلوی بلے بازوں کی کارکردگی میں کتنا فرق رہا۔

14: اس سیریز میں حسن علی نے سب سے زیادہ 12 وکٹیں حاصل کیں۔ اس فہرست میں دوسرا نمبر آسٹریلیا کے مچل اسٹارک کا رہا جنہوں نے 9 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی امیدوں کا مرکز نوجوان فاسٹ بالر محمد عامر صرف 8 ہی کھلاڑیوں کو پویلین لوٹا سکے۔

15: محمد رضوان بلے بازی میں خود کو سرفراز احمد کا بہترین جانشین ثابت نہ کرسکے تاہم وکٹوں کے پیچھے ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔ ایک روزہ سیریز میں انہوں نے سب سے زیادہ 12 کیچز پکڑے اور کسی بھی سیریز میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ کیچ تھامنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔

اس سیریز کے نتائج دیکھ کر اکثر لوگ یہ کہتے نظر آئے کہ پاکستان ٹیم سے کامیابی کی امید رکھنا ہی فضول ہے۔ ایسے ناقدین کو کہنا چاہوں گا کہ بالکل ہی ناامید ہوجائیں اور مستقبل میں بھی ایسے ہی نتائج کی توقع رکھیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلا قدم تیز رفتار طرز کرکٹ کو سمجھنا اور یہ سیکھنا ہے کہ دیگر ممالک کے کھلاڑی اس تیز رفتاری سے کیسے کھیل رہے ہیں۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ اس سیریز کی شکست کو کوئی بھی اثر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر ہوتا نظر نہیں آرہا کیونکہ تمام تر لوگوں کی نظریں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر مرکوز ہیں۔ لیکن مارچ میں پی ایس ایل 2017ء کے ختم ہوجانے کے بعد جب ہم دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلیں گے تو پھر سے وہی باتیں کی جائیں گی، دلاسے دیے جائیں گے لیکن پھر وہی نتائج سامنے آئیں گے۔ مستقبل میں اس قسم کی ذلت آمیز صورتحال سے بچنے کے لیے پاکستان ٹیم اور انتظامیہ کو فی الفور اہم اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ آنے والی چیمپیئنز ٹرافی میں شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔
azhar-ali-pakistan

Facebook Comments