اظہر پر ہی بھروسہ کریں!!

ایڈیلیڈ کے آخری ون ڈے میں شکست کیساتھ آسٹریلیا کا دورہ تمام ہوگیا ہے جس میں قومی ٹیم کو تین ٹیسٹ اور چار ون ڈے میچز میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جبکہ صرف میلبورن کا ون ڈے ایسا تھا جہاں پاکستانی ٹیم نے فتح حاصل کی۔ گزشتہ دورہ آسٹریلیا کے بعد قومی ٹیم کا باقاعدہ ’’آپریشن‘‘کیا گیا اور اس کے نتیجے میں سات کھلاڑیوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر پاکستانی ٹیم سے دور کیا گیاجس کے بعد دورہ انگلینڈ کیلئے نئے کپتان اور متعدد نئے کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا گیا۔اس مرتبہ ممکن ہے کہ ’’ہول سیل ‘‘پیمانے پر تبدیلیاں نہ کی جائیں لیکن ون ڈے ٹیم کے کپتان کی تبدیلی کا فیصلہ ہوچکا ہے کیونکہ دو سال پہلے اظہر علی کو کپتان بنانے کا جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ اب پی سی بی کو ’’غلطی‘‘محسوس ہورہا ہے جس کا ’’ازالہ‘‘ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اگر پاکستان کرکٹ بورڈ ہمیشہ کی طرح ناکام کارکردگی پر کپتان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے تو یہ کسی بھی طور پر عقلمندی کا فیصلہ نہیں ہوگا جو پاکستانی ٹیم کو بھی دو برس پیچھے لے جائے گا کیونکہ دیگر ٹیمیں 2019ء کے ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو اظہر علی کو قیادت سے برطرف کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم اُس جگہ پہنچ جائے گی جہاں وہ 2015ء کے ورلڈ کپ کی شکست کے بعد کھڑی تھی۔یہاں اظہر علی کا دفاع کرنا مقصود نہیں ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2015ء میں کپتانی کیلئے جو ’’نیک لڑکا‘‘ تلاش کیا تھا اُس کی واحد خوبی یہی تھی کہ وہ اُس وقت کے کوچ اور بورڈ کے عہدیداروں کا ’’تابعدار‘‘ تھا لیکن کہاں کی عقلمندی ہے کہ ایک غلط فیصلے کا ازالہ کرنے کیلئے ایک اور غلط فیصلہ کیا جائے ۔

اظہر علی کی قیادت میں پاکستان کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے دوروں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر ماضی میں بھی پاکستان کو ان ممالک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اظہر علی کو کپتانی سے ہٹانے کے بعد پاکستان کی ون ڈے ٹیم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنا شروع ہوجائے گی ۔کیا اظہر علی کے دور میں باآسانی دوسری ٹیم کو ساڑھے تین سوپلس کا ٹوٹل بنانے کی اجازت دینے والی بالنگ لائن اَپ ڈسپلن ہوجائے گی؟ یا پھر اپنے کوٹے میں 80رنز دینے والے بالرز جو کبھی کبھار سنچری کا اعزاز بھی حاصل کرلیتے ہیں کیا دس اوورز میں پچاس رنز دینا شروع ہوجائیں گے؟جو بیٹسمین 35سے 40بنا کر اپنی جگہ پکی کرنے کی کوشش میں ہیں کیا وہ اظہر علی کے ہٹتے ہی سنچریاں بنانا شروع ہوجائیں گے ؟اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر کپتان کی تبدیلی پاکستان کی ون ڈے ٹیم کیلئے معاون ثابت نہیں ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اگر 2015ء میں اظہر علی کو اپنے مفاد میں کپتان بنایا تھا تو آج 2017ء میں پاکستان کے مفاد کیلئے اظہر کو کپتان برقرار رکھے کیونکہ ون ڈے ٹیم کے کپتان کو بدلنے سے صرف تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ اس کیلئے بہت کچھ تبدیل کرنا ہوگی جس میں کپتان کی تبدیلی نہ بہت زیادہ معنی رکھتی ہے اور نہ ہی بہت زیادہ فیصلہ کن ہے۔اگر پی سی بی کا تھنک ٹینک صرف کپتان کی تبدیلی کو فیصلہ کن ’’فیکٹر‘‘ سمجھ رہا ہے تو ایسا سوچنا غلط ہے ۔ اس وقت پاکستان کرکٹ کو نئے سرے سے منظم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام نچلی سطح سے شروع ہوگا کیونکہ ون ڈے ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسے بیٹسمینوں کی تیاری ضروری ہے جو انفرادی طور پر ڈیڑھ سو رنز کی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ٹیم کی حیثیت سے ساڑھے تین سو اسکور کرنا یا اس کا تعاقب کرنا ان کیلئے مسئلہ نہ ہو۔ حقیقی رفتار کے پیسرز کی ضرورت ہے جو رنز روکتے ہوئے وکٹ لینے کا فن بھی جانتے ہوں ۔ ایسے اسپنرز چاہیے جنہیں وکٹیں لینے کا فن آتا ہو۔ایسے سلاگرز کی ضرورت ہے جو اختتامی اوورز میں میچ کا نقشہ پلٹ دیں۔ مگر نچلی سطح پر کام کرنے کی بجائے بورڈ کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ کپتان تبدیل کردیا جائے !

اگر اظہر علی کی ذاتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کپتان کی حیثیت سے یہ اتنی خراب کارکردگی نہیں ہے اور اگر اظہر علی کو قیادت سے برطرف کیا جاتا ہے تو پھر کس کھلاڑی پر بھروسہ کیا جائے۔ سب سے پہلا نام سرفراز احمد کا ذہن میں آتا ہے جو ون ڈے ٹیم کا نائب کپتان ہے اور ٹی20میں قیادت کررہا ہے ۔اسی لیے سرفراز احمد کو کپتانی کیلئے مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا یہ درست فیصلہ ہوگا کہ ایک ٹاپ پرفارمر کو دو فارمیٹس کی کپتانی کے بوجھ تلے دبا دیا جائے ؟اگر ’’سیفی‘‘ کھلاڑی کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کررہا ہے تو پھر کپتانی کا اضافی بوجھ کیوں؟جبکہ یہ بھی نظر آرہا ہے کہ کپتان کی تبدیلی نتائج پر اثر انداز نہیں ہوگی تو پھر پی سی بی کو غیر ضروری ’’ایڈوینچر‘‘ کا شوق کیوں ہورہا ہے ؟

اظہر علی کو مزید حوصلہ دیتے ہوئے اصل مسائل کو ٹھیک کیا جائے توبہتر ہوگا جس میں فٹنس سرفہرست ہے کیونکہ کپتان کی تبدیلی صرف منہ کا ذائقہ بدلنے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے اور جب ’’میٹھی گولی‘‘ کے اوپر سے مٹھاس اترے گی تو منہ پھر سے ’’کڑوا‘‘ ہوجائے گا اس لیے فیصلوں میں تسلسل لائیں،اظہر پر بھروسہ کریں!

Azhar-Ali2

Facebook Comments