لالہ نے بالآخر ہمت ہار دی

بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد اب شاہد آفریدی ہمت ہارتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے دورے پر سابق کپتان اپنے بین الااقوامی کیریئر کے حوالے سے کچھ زیادہ پرامید نظر نہ آئے اور انہوں نے اپنا مستقبل صرف لیگ کرکٹ تک محدود کر دینے کا عندیہ دیا ہے۔

آفریدی کا کہنا تھا کہ میں مکمل طور پر فٹ ہوں مگر اب بس، جتنی کرکٹ کھیلنی تھی کھیل چکا ہوں اب سے ساری توجہ لیگ میچز اور رفاعی کاموں کی جانب ہو گی۔ قومی ٹیم کی قیادت کے حوالے سے آفریدی نے بھی سرفراز احمد کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ایک سچا فائیٹر ہے، اگر بورڈ اسے تینوں فارمیٹ کے لئے قیادت سونپ دے تو پاکستان کے مستقبل کے لئے بہت ائدہ مند ثابت ہو گا اور کھلاڑیوں میں کپتانی کے لئے کھینچا تانی بھی ختم ہو جائے گی۔

لالہ نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) ٹاسک فورس کے سربراہ جا ئلز کلارک کے دورہ پاکستان کو خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ کلارک کے دورے سے دنیا کو یہ پیغام بھی ملا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہےاور اس کا مکمل کریڈٹ چیرمین بورڈ شہریارخان کی محنت کو جاتا ہے۔

سابق کپتان نے پاکستان سپر لیگ (PSL) کی افادیت کو پاکستان کے اندر انعقاد سے مشروط کر دیا کہ جب تک تمام میچز کراچی، ملتان، فیصل آباد، پشاور اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی منعقد نہیں ہونگے اس لیگ سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ تاہم پی ایس ایل کے فائنل کے لاہور میں انعقاد پہلے قدم کے طور پر بہترین ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی کرکٹ بورڈ کا حکومت کو خط؛ شوشہ یا حقیقت؟

واضح رہے کہ شاہد آفریدی نے گزشتہ سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران آخری مرتبہ پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی تھی جس کے بعد وہ کرکٹ منظرنامے سے باہر ہیں۔

shahid-afridi-ku

Facebook Comments