پاکستان سپر لیگ: پہلے سیزن کے یادگار لمحات

پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا میلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہونے والا ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ بدترین دورۂ آسٹریلیا کے بعد ہو رہا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کا دوسرا سیزن بہت زیادہ توقعات اور امیدوں کے ساتھ 9 فروری کو متحدہ عرب امارات میں شروع ہوگا اور متوقع طور پر ایک ماہ بعد لاہور میں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ سپر لیگ سے وابستہ امیدیں اس لیے بھی زیادہ ہیں کیونکہ پہلا سیزن بہت زیادہ کامیاب رہا تھا اور پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔ آج ہم اسی سیزن کے چند یادگار لمحات اپنے قارئین کو یاد کروا رہے ہیں کہ جنوہں نے اسے پاکستان کا سب سے بڑا اسپورٹس ایونٹ بنایا۔

محمد عامر کی یادگار ہیٹ ٹرک

پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے پہلے ہی کراچی اور لاہور کی دیرینہ رقابت جنم لے چکی تھی۔ اسی وجہ سے جب کراچی کنگز اور لاہور قلندرز پہلے مقابلے میں آمنے سامنے آئے تو ملک کے دونوں بڑے شہروں سمیت ہر کرکٹ شائق کی نگاہیں ٹیلی وژن اسکرین پر جم گئیں۔ پھر افتتاحی میچ میں محمد عامر کی یادگار ہیٹ ٹرک نے کراچی کو فاتح بنا دیا اور لاہور کے حوصلے ایسے پست کیے کہ وہ آخر تک سر نہیں اٹھا سکا۔ عامر نے مسلسل تین گیندوں پر ڈیوین براوو، زوہیب خان اور کیون کوپر کو آؤٹ کیا اور پی ایس ایل تاریخ کی پہلی، اب تک کی آخری، ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ لاہور قلندرز صرف 125 رنز تک ہی محدود رہے اور یوں کراچی کو باآسانی مقابلے جیتنے کا موقع دیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی غیر متوقع فتوحات

پی ایس ایل I کے آغاز سے پہلے جس ٹیم کو سب سے کمزور ٹیم سمجھا جاتا رہا وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز تھی۔ لیکن اس ٹیم نے پہلے ہی دن ثابت کردیا کہ لوگ غلطی پر ہیں۔ افتتاحی مقابلے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دینے کے بعد کوئٹہ نے نہ صرف 'ہاٹ فیورٹ' کراچی کو بھی شکست دی بلکہ 'فین فیورٹ' پشاور زلمی کو بھی ناقابل یقین انداز میں ہرایا اور وہ بھی اس وقت جب کوئٹہ کو جیتنے کی اشد ضرورت تھی۔ کوئٹہ کو پہلے مرحلے میں پشاور کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جس کے بعد دونوں ٹیموں کا مقابلہ کوالیفائنگ فائنل میں ہوا۔ کوئٹہ پشاور کی مضبوط باؤلنگ لائن کے خلاف صرف 133 رنز بنا سکا جو پشاور کے لیے آسان ہدف ہوتا لیکن معاملہ آخری اوورز میں 8 رنز تک چلا گیا۔ یہاں پر کپتان سرفراز احمد نے گیند تھمائی اعزاز چیمہ کے ہاتھوں میں۔ وہی کہ جنہوں نے 2012ء کے ایشیا کپ فائنل میں بنگلہ دیش کے خلاف "وہ" یادگار آخری اوور پھینکا تھا جس نے پاکستان کو ایشین چیمپیئن بنایا اور یہاں بھی انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ دوسری گیند پر وہاب ریاض کے ہاتھوں چوکا کھانے کے بعد انہوں نے حسن علی اور وہاب ریاض کو آؤٹ کیا، جس میں ایک خوبصورت کیچ خود پکڑا اور دوسرا احمد شہزاد نے۔ آخری گیند پر پشاور کو دو رنز کی ضرور تھی اور وہ صرف ایک رن دوڑ سکا اور یوں کوئٹہ صرف ایک رن سے جیت کر فائنل میں پہنچ گیا۔ میچ جیتنے کے بعد کوئٹہ کا جشن، خاص طور پر کپتان سرفراز احمد کا اوندھے منہ زمین پر پڑ جانا سب کو یاد ہوگا۔

quetta-psl-2013

محمد نبی کی فاتحانہ اننگز

اس شاندار میچ سے پہلے بھی کوئٹہ نے لاہور کے خلاف ایک زبردست میچ کھیلا تھا۔ پے در پے شکستوں کے بعد قلندرانِ لاہور بے حال تھے اور اس کا غصہ انہوں نے کوئٹہ پر اتارا جب دھواں دار بیٹنگ کرتے ہوئے 202 رنز بنا ڈالے۔ کوئٹہ اس سے پہلے بھی لاہور کے خلاف اپنا میچ ہار چکا تھا اور ایک اور شکست کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے ابتدا ہی سے ہدف پر نظر رکھی لیکن احسان عادل کے ایک ہی اوور میں کپتان سرفراز اور اہم بلے باز کمار سنگارا کی وکٹیں گرنے سے پریشان ہوگیا اور یکے بعد دیگرے پانچ وکٹیں گنوا بیٹھا۔ یہاں پر افغانستان کے محمد نبی نے ثابت کیا کہ اعصاب شکن مرحلے میں خود پر قابو کیسے رکھا جانا چاہیے۔ انیسویں اوور میں ایک چھکا اور ایک چوکا لگا کر دباؤ کو کم کرنے کے باوجود آخری اوور میں کوئٹہ کو 15 رنز کی ضرورت تھی۔ یہاں پر لاہور کے کپتان اظہر علی نے بہت بڑی غلطی کی کہ گیند زوہیب خان کو تھما دی۔ محمد نبی نے انہیں چھکا بھی لگایا اور آخری گیند پر جب تین رنز کی ضرورت تھی تو فاتحانہ چوکا بھی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی سست مگر کامیاب چال

شاہد آفریدی کی وجہ سے پشاور زلمی کو دیکھنے کے لیے تماشائی امڈے چلے آتے تھے، کوئٹہ نے بھی اپنی کارکردگی سے سب کے دل جیت لیے لیکن اصل چیمپیئن اسلام آباد کچھ دیر سے ترنگ میں آیا۔ کپتان مصباح الحق کی ٹیم کو اپنے پہلے دونوں میچز میں شکست ہوئی۔ پہلے کوئٹہ اور پھر پشاور کے ہاتھوں اور اس کے بعد کراچی اور لاہور کو ہرانے کے باوجود اسے پشاور اور کوئٹہ سے پھر ہارنا پڑا یعنی کہ پہلے چھ میچز میں سے اسلام آباد صرف دو جیت سکا تھا۔ یہاں پر ایک شکست اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی تھی لیکن کسی نہ کسی طرح وہ دونوں میچز جیت کر پلے آف مرحلے میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ پہلے کوالیفائنگ فائنل کی شکست خوردہ پشاور زلمی سے ہوا جو کوئٹہ کے ہاتھوں ایک ناقابل یقین شکست کے بعد آخری موقع کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ دونوں ٹیموں کے پاس کھونے کے لیے اب کچھ باقی نہیں بچا تھا، جو ہارتا باہر ہو جاتا۔ اس لیے سب کچھ داؤ پر لگا کر میدان میں اتریں۔ یہاں پر شرجیل خان کی دھواں دار سنچری نے پشاور کی امیدوں کا خاتمہ کردیا۔ صرف 62 گیندوں پر 117 رنز بنا کر شرجیل نے پی ایس ایل کی تاریخ کی پہلی سنچری اپنے نام کی۔ اس اننگز کے دوران شرجیل نے 12 چوکے اور 8 چھکے بھی لگائے۔ پشاور کو جیتنے کے لیے 177 رنز کا بھاری ہدف ملا اور وہ دباؤ تلے صرف 126 رنز بنا سکا۔ عمران خالد نے چار وکٹیں حاصل کیں اور یوں پشاور زلمی کے چیمپیئن بننے کی امیدوں کا خاتمہ کردیا۔

مصباح الحق کا یادگار وننگ شاٹ

اسلام آباد یونائیٹڈ اب مکمل 'ترنگ' میں آ چکی تھی جس نے فائنل میں کوئٹہ کے خلاف 175 رنز کا بڑا ہدف بھی آسانی سے حاصل کیا اور یوں پہلی بار پی ایس ایل چیمپیئن بن گیا۔ لیگ مصباح الحق کے وننگ شاٹ کے ساتھ اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور شائقین کے دلوں میں گھر کر گئی۔

psl-2016-winner

پی ایس ایل میں کسی بھی کامیاب لیگ کا ہر رنگ موجود تھا، گیند اور بلّے کے درمیان متوازن مقابلے، طوفانی بلے بازی، جاندار چھکے، شاندار چوکے، بہترین گیند بازی، عمدہ کیچ، یہاں تک کہ جھگڑے بھی۔ جس طرح پشاور کے وہاب ریاض اور کوئٹہ کے احمد شہزاد اہم میچ میں الجھ پڑے تھے، ایسا منظر بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ پھر پلے آف میں کوئٹہ کی فتح کو قریب دیکھتے ہوئے "گرو" ویوین رچرڈز کا جشن اور پشاور کے ڈیرن سیمی کا نازک مرحلے پر آؤٹ ہو جانے کے بعد آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ بیٹھنا بھلا کون بھلا سکتا ہے؟

پاکستان سپر لیگ 2017ء میں کیا ہوگا؟

یہ سب یادیں ایک مرتبہ پھر تازہ ہونے کے لیے آ رہی ہیں۔ پی ایس ایل کا یہ سیزن ذرا مشکل ہوگا کیونکہ اب بہت زیادہ توقعات وابستہ ہوگئی ہیں۔ پہلا سیزن غیر متوقع تھا، اس لیے خوب داد سمیٹی لیکن اب تحسین سمیٹنے کے لیے خون پسینہ ایک کرنا پڑے گا۔

دیکھتے ہیں کہ "قلندرانِ لاہور" کی دھمال چلتی ہے یا "کراچی جیتے گا" کے نعرے کامیاب ٹھہرتے ہیں؟ "دھن دھنا دھن" کا شور ایک مرتبہ پھر اٹھے گا یا "لالا" کے متوالے اس مرتبہ جشن منائیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر کیا "شان پاکستان" کوئٹہ اس بار دلوں کے ساتھ ساتھ ٹرافی بھی جیت سکے گا؟

Facebook Comments