زبانی جمع خرچ کا نیا ڈرامہ؟

پاکستان کرکٹ کی حالت دن بدن خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے اور تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی رینکنگ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ون کا ’’گرز‘‘ پکڑنے والی ٹیم چند ہفتوں کے بعد چھٹے نمبر پر ’’بھٹک‘‘ رہی ہے۔ ون ڈے رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن ’’بچانے‘‘ کیلئے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور جس ملک میں گزشتہ چار عشروں سے کلب کی سطح پر بیس ،پچیس اوورز کے میچز کھیلے جاتے ہیں وہ ٹیم ٹی20فارمیٹ میں بھی جدوجہد سے نبردآزما ہے ۔ تینوں فارمیٹس میں ’’786‘‘ کی متبرک رینکنگ کا چند دن لطف اُٹھانے کے بعد اب پاکستان کرکٹ بورڈ تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی کارکردگی کو بہتر کرنے کیلئے ’’سنجیدہ‘‘ ہوگیا ہے جس کیلئے 6اور7 مارچ کو لاہور میں ماضی اور حال کے کئی سینئر کھلاڑیوں کی گول میز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سینئر اور جونیئر ٹیموں کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے ان تجربہ کار کھلاڑیوں سے مشورہ لیا جائے۔

اس کانفرنس کی صدارت چیف سلیکٹر انضمام الحق اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مدثر نذر کریں گے جبکہ قومی اکیڈمی کے ہیڈ کوچ مشتاق احمد کوآرڈینیٹر کے فرائض سر انجام دیں گے جس میں عمران خان ،مصباح الحق، وقار یونس، وسیم اکرم، ظہیر عباس، وسیم باری، شعیب اختر، عامر سہیل، جاوید میانداد، راشد لطیف، رمیز راجہ، معین خان، عاقب جاوید، عبدالقادر، اقبال قاسم، سعید اجمل اور بازید خان سمیت دیگر کئی کھلاڑیوں کو دعوت نامے ارسال کیے جائیں گے۔پی سی بی کی مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین اور گورننگ بورڈ کے اراکین کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت دیگر سپورٹ اسٹاف کو اس کانفرنس کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

جس پانچ نکاتی ایجنڈے کیلئے گول میز کانفرنس کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس میں قومی ٹیم کی پرفارمنس کو بہتر بنانا، ڈومیسٹک اسٹرکچر، پچز کی بہتری،جونیئر اور سینئر ٹیموں کی کوچنگ اور غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے پر راغب کرنا شامل ہیں۔ ماضی میں بھی اس طرح سابق کھلاڑیوں کو بلا کر بہتری کی تجاویز لینے کی مشق کی جاچکی ہے اور جب بھی پی سی بی کا نیا سربراہ آتا ہے یا پھر ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کی صورت میں کرکٹ بورڈ خواب غفلت سے جاگتے ہوئے ایسی میٹنگز کا انعقاد کرتا ہے جس میں مدعو کردہ سابق کھلاڑیوں کی اکثریت آنے سے گریز کرتی ہے اور جو لوگ ایسی میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں اُن کی دی گئی تجاویز پر عمل بھی نہیں کیا جاتا۔ ایسی کانفرنسز زبانی جمع خرچ کے بعد اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی

اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کو مختلف مسائل درپیش ہیں اور ان کے حل کی تجاویز کیلئے مختلف لوگوں سے مشورہ لینا ہوگا لیکن پی سی بی چاہتا ہے کہ صرف دو دن کی کانفرنس میں اسے وہ ’’جادوکا چراغ‘‘ مل جائے جس کے رگڑنے سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ایسا ہرگز ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ ان مسائل کے حل کا یہ طریقہ کار نہیں ہے۔ قومی ٹیم کی خراب کارکردگی ایک الگ مسئلہ ہے اور ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو بہتر بنانا دوسری بات ہے جبکہ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان بلانا بالکل ہی الگ موضوع ہے مگر چیئرمین پی سی بی چاہتے ہیں کہ دو دنوں میں ان مختلف اور اُلجھے ہوئے مسائل کا حل مل جائے۔

سابق کپتان عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اگر چیئرمین پی سی بی واقعی مسائل کا حل چاہتے ہیں تو پھر انہیں سب سے پہلے بورڈ کو سفارشیوں سے صاف کرنا ہوگا ۔ یہ بات درست ہے کہ صرف سابق کھلاڑیوں کی تجاویز سے ان مسائل کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ سابق کھلاڑیوں سے تجاویز لینے سے قبل پی سی بی کو اپنا ہوم ورک کرنا چاہیے اور چیئرمین پی سی بی کو اس ادارے میں جو خامیاں دکھائی دے رہی ہیں انہیں وہ پہلے ختم کریں جس کے بعد سابق کھلاڑیوں سے پوچھ لیں کہ بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے۔

پاکستان کرکٹ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پی سی بی کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آسٹریلیا کا دورہ ختم ہونے کے بعد بورڈ نے یہ اعلان ضرور کردیا ہے کہ سابق کھلاڑیوں کو مدعو کیا جائے گا لیکن یہ ’’ملاقات‘‘ پاکستان سپر لیگ کے بعد ہوگی جب قومی ٹیم ویسٹ انڈیز جانے کیلئے تیار ہوگی۔ اگر یہ مسائل پی سی بی کیلئے اس قدر اہم ہیں تو سابق کھلاڑیوں سے فوری طور پر تجاویز کیوں نہیں لی جارہیں؟ اس کیلئے پی ایس ایل ختم ہونے کا انتظار کیوں کیا جارہا ہے ؟کیا چیئرمین پی سی بی دن میں دو کھلاڑیوں سے ملاقات کرکے تجاویز نہیں لے سکتے؟ کیا گورننگ بورڈ کے اراکین اور کمیٹیوں کے سربراہوں کو کیوں طلب نہیں کیا جارہا؟ کیا یہ مسائل اتنے سنگین نہیں ہیں کہ ان کیلئے تجاویز کا اعلان کرکے پھر خوابوں کی دنیاکا رخ کرلیا جائے؟

یہ بات تلخ ہے مگر حقیقت ہے کہ پی سی بی کے اعلیٰ عہدیداران مسائل کا حل نہیں چاہتے کیونکہ اِن مسائل کو حل کرنے کیلئے انہیں اپنی نوکریوں کی قربانی دینا ہوگی جس کے یہ متحمل نہیں ہوسکتے ۔اس لیے آسان حل یہ ہے کہ جو لوگ بورڈ میں صرف ’’ہنی مون‘‘ کرنے آئے ہیں انہیں چاہیے کہ پی ایس ایل کی ’’انٹرٹینمنٹ‘‘ کو پوری طرح ’’انجوائے‘‘ کریں!

نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مدثر نذر

نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مدثر نذر

Facebook Comments