بگ تھری کے خاتمے کا فیصلہ

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بالآخر اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ بگ تھری جیسی اجارادارانہ سوچ پر مبنی نظام مزید نہیں چل سکتا اور مساویانہ سوچ ہی کرکٹ کی بہتری کے لئے ضروری ہے۔ آئی سی سی کے ورکنگ گروپ کی جانب سے بگ تھری کے خاتمے یعنی آئینی اور مالی معاملات میں تبدیلیوں کی سفارش کی تھی جسے آئی سی سی بورڈ نے قبول کر لیا ہے۔ آئینی اور مالی معاملات میں متوقع تبدیلیوں پر غور وخوص کے لیے اپریل کے اجلاس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2014 میں آئی سی سی کے بنیادی اسٹرکچر میں تبدیلی کر کے اس کے مالی وسائل پر بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کی اجارہ داری قائم کر دی گئی تھی۔ پاکستان، جنوبی افریقہ ، سری لنکا وغیرہ نے اولاً اس اقدام کی شدید مخالفت کی تاہم بعد ازاں بادل نخواستہ 'بگ تھری' کو قبول کر لیا گیا۔ مگر لگتا ہے اکثر ممالک کے دلوں میں کسک برقرار رہی تھی۔

بگ تھری کے متوقع خاتمے کا کریڈٹ بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے سابق صدر ششانک منوہر کو بھی جاتا ہے۔ انہوں نے آئی سی سی کی کمان سنبھالتے ہی اس اجاراداری کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس سے نجات دلوانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ششانک منوہر نے اس فیصلے کو آئی سی سی کے مستقبل کے حوالے سے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ آئی سی سی بورڈ کی بڑی خواہش تھی کہ کرکٹ کی بہتری اور دنیا بھر میں کھیل کی وسعت کے لیے تمام ممبرز کو ترقی کے برابر مواقع حاصل ہوں۔ کرکٹ کھیلنے والے سب ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہوئے بہتر مستقبل کے لیے کام کریں۔ اس سے تمام معاملات میں شفافیت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  مصباح اور یونس کے لیے بڑا اعزاز

اب تمام ممبرز اس معاملے کے جزیات پر غور و خوض کے بعد اپریل کے اجلاس میں حتمی دستخط کریں گے۔ اس طرح بی سی سی آئی کو بھی غور کرنے اور تجاویز تیار کرنے کا موقع مل جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق آئی سی سی کے آئین میں تبدیلیوں کی مخالفت میں ہندوستان اور سری لنکا کرکٹ بورڈ نے ووٹ دیا، زمبابوے نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ دیگر بورڈز نے اس منصوبے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

Shashank-Manohar--ICC

Facebook Comments