پاکستانی لیگ میں غیر ملکی کپتان!

پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کا فائنل اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلا گیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسرے ایڈیشن کیلئے انہی دو ٹیموں نے اپنے کپتانوں کو ’’برقرار‘‘ رکھا جبکہ دیگر تین ٹیموں نے ’’لوکل‘‘ کپتانوں کو ایک طرف کرتے ہوئے تجربہ کار غیر ملکی کھلاڑیوں کے سر پر کپتانی کا تاج سجا دیا ہے کیونکہ ’’مالکان‘‘ کا خیال ہے کہ برینڈن میک کولم (لاہور)،ڈیرن سیمی(پشاور)اورکمار سنگاکارا (کراچی) ان کی ٹیموں کو ٹائٹل جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ پی ایس ایل کی ٹیموں کے اکثر مالکان ’’شوقیہ فنکار‘‘ ہیں جو بڑے ناموں کے سامنے پیسوں کا ڈھیر لگا کر سمجھ رہے ہیں کہ محض غیر ملکی کھلاڑیوں کو کپتان بنانے سے اُن کے مسائل حل ہوجائیں گے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

ٹی20فارمیٹ میں کپتان کا کردار اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا دیگر دو فارمیٹس میں ہے بلکہ 20 اوورز کی اننگز میں ایک غیر معمولی پرفارمنس میچ کا نقشہ بدل دیتی ہے ۔اگر ٹاپ آرڈر میں تین چار بیٹسمین اوپر تلے آؤٹ ہوجائیں تو مڈل آرڈر بیٹسمینوں کو اچھی کارکردگی دکھا کر مشکلات سے نکالنا ہوتا ہے اور یہاں کپتان کی قائدانہ صلاحیتیں ٹیم کو بہتر مقام دلوانے میں معاون ثابت نہیں ہوتیں۔ اسی طرح اگر ٹیم کے دو اہم بالرز پٹ جائیں تو پھر دیگر بالرز کی ذمہ داری میں اضافہ ہوجاتا ہے اگر وہ نپی تلی بالنگ کرکے کم بیک کروادیں تو ٹھیک ورنہ کپتان میدان میں بے بسی کی تصویر بنا ہی دکھائی دیتا ہے۔

ٹی20فارمیٹ میں کسی کھلاڑی کا کپتان ہونے سے زیادہ اہم اس کی حالیہ فارم ہے جس کی بدولت وہ اپنی ٹیم کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ لاہور قلندرز کی کپتانی سنبھالنے والا برینڈن میکلم اس وقت ٹاپ فارم میں ہے اور یہ امید کی جاسکتی ہے کہ جارح مزاج کیوی بیٹسمین بگ باش کی کارکردگی کی جھلک پی ایس ایل میں بھی دکھائے گا جو اُس کی ٹیم کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگی لیکن یہ سمجھنا بالکل غلط ہوگا کہ محض برینڈن میکلم کی کپتانی لاہور قلندرز کی قسمت بدل دے گی۔ یہی صورتحال کراچی کنگز اور پشاورزلمی کے کپتانوں کیساتھ بھی ہے جنہیں قیادت سے کہیں ز یادہ اپنی انفرادی کارکردگی سے واضح فرق بننا ہوگا تاکہ یہ ٹیمیں جو کارنامہ پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں سر انجام نہیں دے سکیں ‘اس مرتبہ وہ اس کے قریب پہنچ جائیں۔

جہاں پی ایس ایل کی تین ٹیموں نے غیر ملکی کپتانوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ٹائٹل جیتنے کی امید لگا لی ہے وہاں اس فیصلے کا دوسرا پہلو پاکستان کرکٹ کیلئے تشویش ناک ہے کہ ان تینوں ٹیموں نے پہلے ایڈیشن میں کپتانی کرنے والے پاکستانی کپتانوں کو ایک طرف کرتے ہوئے غیر ملکیوں پر بھروسہ کرلیا ہے کیونکہ انہیں اپنی ٹیموں میں ایک بھی ایسا پاکستانی کھلاڑی دکھائی نہیں دیا جس کی قائدانہ صلاحیتوں پر بھروسہ کیا جاسکے۔ کراچی کی ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک پہلے ایڈیشن کے دوران ہی قیادت سے علیحدہ ہوگئے تھے لیکن اس مرتبہ عماد وسیم اور بابر اعظم جیسے انڈر19 کپتانوں کی موجودگی میں کمار سنگاکارا پر بھروسہ کیا گیا ہے حالانکہ عماد اور بابر اس وقت مختلف فارمیٹس میں پاکستانی ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور ان نوجوانوں کو مستقبل میں پاکستان کے کپتان کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے لیکن فرنچائز مالکان ان دونوں کھلاڑیوں میں کپتانی کے جراثیم نہیں دیکھ سکے۔لاہور کے پاس عمر اکمل اور سہیل تنویر موجود ہیں اور یہ دونوں کھلاڑی کپتانی کیلئے مضبوط امیدوار ہوسکتے تھے۔ خاص طور پر سہیل تنویر ڈومیسٹک کرکٹ میں بطور کپتان اچھا خاصا تجربہ رکھتے ہیں جبکہ عمر اکمل کی کپتانی کی صلاحیتوں کا امتحان پی ایس ایل میں لیا جاسکتا تھا۔ اگر پشاور کی بات کریں تو محمد حفیظ جیسا تجربہ کار کپتان اس ٹیم کا حصہ ہے جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کا تجربہ رکھنے والے کامران اکمل بھی اسی ٹیم کا حصہ ہیں۔

یہ وہ پہلو ہے جو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کیلئے تشویش ناک ہے۔ فرنچائز ٹیموں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کھلاڑیوں اور کپتان کا انتخاب کریں اور اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں مجبور نہیں کرسکتا لیکن یہاں یہ نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں مصباح اور سرفراز کے علاوہ کوئی بھی ایسا کھلاڑی موجود نہیں ہے جس پر فرنچائز ٹیمیں بطور کپتان بھروسہ کرسکیں۔ اگر پی ایس ایل کی ٹیمیں پاکستانی کپتانوں پر بھروسہ نہیں کررہیں تو انٹرنیشنل سطح پر پاکستانی ٹیموں کے کپتان کہاں سے آئیں گے؟مستقبل کے ان کپتانوں کی نشونما کہاں کی جائے گی؟ ماضی میں جیسے مصباح ،فیصل اقبال اور حسن رضا مستقل بنیادوں پر پاکستان اے کی کپتانی کرتے تھے‘اب وہ روایت بھی ختم ہوچکی ہے کیونکہ چھ آٹھ ماہ بعد ہونے والے اے ٹور پر ہر مرتبہ کپتان تبدیل ہوتا ہے جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں انفرادی کارکردگی کیساتھ ساتھ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے کھلاڑیوں کو اگلے مرحلے کیلئے قابل غور نہیں سمجھا جاتا ۔

اگر یہی صورتحال رہی تو مستقبل کے کپتانوں کی نشونما کیسے ہوگی۔مصباح کا مستقبل ڈانواڈول ہے جبکہ اظہر علی کو برطرف کرنے کا سامان ہوچکا ہے تو کیا ’’سیفی‘‘ پر تینوں فارمیٹس کی کپتانی کا بوجھ ڈال دیا جائے گا یا پھر پی سی بی کسی ایک فارمیٹ میں نئے کپتان کو سامنے لانے کا جرات مندانہ فیصلہ کرسکتا ہے؟

Darren-Sammy

Facebook Comments