اظہر نے قیادت چھوڑ دی، سرفراز نئے کپتان

بالآخر اظہر علی نے بھی تسلیم کرلیا کہ وہ قیادت کے لیے 'مس فٹ' ہیں اور عین اس موقع پر جب سب کی نظریں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے آغاز پر ہیں، کپتانی سے استعفیٰ دے دیا۔ اب ٹی ٹوئنٹی کپتان سرفراز احمد پاکستان کے نئے ایک روزہ کپتان بھی بن گئے ہیں

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان نے اظہر علی کی دستبرداری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ملاقات کرکے خود قیادت چھوڑنے کی خواہش ظاہر کی جسے تسلیم کرلیا گیا، لیکن وہ ایک بلے باز کی حیثیت سے دستے کا حصہ رہیں گے۔ بعد ازاں باہمی مشاورت کے بعد وکٹ کیپر بلےباز سرفراز احمد کو یہ منصب سونپ دیا گیا ہے۔

سپر لیگ کے لیے دبئی میں موجود قومی کرکٹ "چار بڑوں" کی بیٹھک میں چیئرمین شہریار خان کے علاوہ چیف سلیکٹر انضمام الحق، کوچ مکی آرتھر اور ٹیسٹ کپتان مصباح الحق شریک تھے۔ ملاقات میں پاکستان کرکٹ کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہوئی اور مستقبل کا لائحہ عمل بھی زیر بحث رہا۔

اس غیر رسمی اجلاس میں مصباح الحق اور یونس خان سمیت چند دیگر کھلاڑیوں کے مستقبل کے بارے میں بھی بات ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق مصباح الحق نے فوراً کسی حتمی فیصلے سے انکار کرتے ہوئے یقین دہائی کروائی کہ وہ پی ایس ایل کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ اس کا مطلب فوری طور پر ٹیسٹ قیادت میں تبدیلی کا امکان نہیں جبکہ یونس خان کو 10 ہزار رنز مکمل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں متواتر شکستوں کے بعد پاکستان کے سابق کھلاڑیوں اور عوام کی جانب سے ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کی قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا کہ یا تو سرفراز کو تینوں فارمیٹس میں قیادت سونپی جائے یا مختصر فارمیٹ کی قیادت سرفراز کو دے کر طویل فارمیٹ اظہر علی کے حوالے کر دیا جائے۔ یقیناً ایک روزہ کا فیصلہ اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔

ماہرین کرکٹ جہاں سرفراز کو کپتان بنانے پر خوش ہیں ساتھ ہی اسے بڑا چیلنج بھی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اب سرفراز کو فٹنس مزید بہتر بناتے ہوئے خود کو ثابت کرنا پڑے گا، ورنہ جان رکھیں کہ پاکستان کی کرکٹ قیادت کے منہ زور گھوڑے نے نجانے کتنے کپتانوں کو منہ کے بل گرایا ہے۔

Azhar-Ali

Facebook Comments