قلندر چھا گئے، اسلام آباد ناکام

بالآخر ایک طویل اور تھکا دینے والا عرصہ گزارنے کے بعد لاہور قلندرز نے جیت کا مزہ چکھ ہی لیا۔ فکسنگ تنازع میں ملوث ہونے کے بعد اپنے پہلے مقابلے میں اسلام آباد یونائیٹڈ پوری کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکا۔ شرجیل خان اور خالد لطیف جیسے بلے بازوں کے معطل ہونے کی وجہ اور تیز باؤلر محمد عرفان سے پوچھ گچھ کے بعد انہیں آرام دینے کی غرض سے نہیں کھلایا گیاجس کا اثر کھیل میں بھی محسوس ہوا۔ لاہور نے اس صورت حال کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور 6 وکٹوں سے میچ جیت لیا۔

دبئی میں جاری پی ایس ایل2 کے چوتھے مقابلے میں لاہور کے کپتان برینڈن میک کولم نے ٹاس جیت کر مصباح الیون کو بلے بازی کی دعوت دی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے ڈیوین اسمتھ اور سیم بلنگز نے 73 رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا۔ گرانٹ ایلیٹ نے ایک ہی اوور میں دونوں کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا۔ اسمتھ نے 37 اور بلنگز نے 31 رنز بنائے۔ اچھی بنیاد پڑ چکی تھی، اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا لیکن سوائے مصباح الحق کے اسلام آباد کا دوسرا کوئی بلے باز آج چل نہیں سکا۔ مصباح نے پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 61 رنز کی ایک جارحانہ اننگز کھیلی۔ کپتان نے صرف 36 گیندیں استعمال کیں اور اسی اننگز کی وجہ سے اسلام آباد 158 رنز جوڑنے میں کامیاب ہوا۔ لاہور کی طرف سے ایلیٹ نے 4 جبکہ سہیل تنویر اور سنیل نرائن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ہدف کے تعاقب ہی لاہوریوں کا آغاز ہی دھماکا خیز تھا۔ کپتان برینڈن میک کولم نے پہلے ہی اوور میں عمران خالد سے 21 رنز لوٹے جس میں تین چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ تیسرے اوور میں رمان رئیس نے میک کولم کی 10 گیندوں پر 25 رنز کی اننگز کا خاتمہ کیا اور اگلے ہی اوور میں محمد سمیع نے فخر زمان کو بھی واپسی کا راستہ دکھا دیا۔

یہاں پر لاہور کی امیدیں کریز پر کھڑے جیسن روئے اور آنے والے عمر اکمل سے وابستہ ہوگئیں اور دونوں نے مایوس نہیں کیا۔ دونوں کی 71 رنز کی شراکت داری نے لاہور کو درست سمت مین گامزن رکھا۔ عمر نے دو چھکے اور تین چوکے لگائے اور 35 رنز بنانے کے بعد اپنی وکٹ شین واٹسن کو دی۔ گرانٹ ایلیٹ بھی صرف 3 رنز بنا سکے۔ یہاں اسلام آباد مقابلے میں واپس آ سکتا تھا لیکن جیس روئے اور سنیل نرائن نے انہیں آخری دھکا نہ لگانے دیا۔ نرائن نے صرف 12 گیندوں پر 26 رنز بنائے جس میں دو چھکے بھی شامل تھے جبکہ روئے 51 گیندوں پر 60 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے جس پر انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی ملا۔

لاہور کو کوئٹہ کے ہاتھوں ایک مایوس کن شکست ہوئی تھی۔ اس کامیابی سے لگتا ہے کہ لاہور نے پچھلی شکست سے بہت سبق سیکھا ہے۔ ایک مشکل ہدف کا مکمل سوجھ بوجھ کے ساتھ تعاقب کیا گیا جس نے فرنچائز مالک رانا فواد کے چہرے پر خوشیاں بکھیر دیں۔ دوسری جانب اسلام آباد کے لیے یہ شکست لمحہ فکریہ ہے۔ خاص طور پر ایک عمدہ افتتاحی شراکت داری کے بعد انہیں اتنے کم مجموعے تک محدود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پھر جو کسر رہ گئی تھی وہ عمران خالد کے پہلے اوور میں پوری ہوگئی کہ جس میں 21 رنز پڑے اور میچ کی سمت کا تعین ہوگیا۔

Grant-Elliott

Facebook Comments