شارجہ میں بارش، "سب سے آگے" کی دوڑ کا خاتمہ ہوگیا

شارجہ دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیشنل میچز کروانے والا میدان ہے، بلکہ سب سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کا اعزاز بھی شارجہ ہی کو حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کبھی کوئی ایسا انٹرنیشنل میچ نہیں ہوا جو بارش کی نذر ہوا ہو۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران صرف دو مقابلے ایسے ہوئے ہیں جو بارش کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ ایک 1995ء میں بھارت 'اے' اور متحدہ عرب امارات کا مقابلہ اور دوسرا پاکستان سپر لیگ میں کھیلا گیا پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مقابلہ۔

پی ایس ایل2 کے پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست مقام حاصل کرنے کے لیے پشاور اور کوئٹہ کے اہم مقابلے میں شارجہ کے انوکھے موسم کی وجہ سے صرف 16 اوورز کا کھیل ہو سکا۔ کوئٹہ نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا، وجہ سادہ سی تھی، ایک تو گیند بازوں کے لیے سازگار موسم میں پشاور کو محدود کیا جا سکے اور دوسرا بارش کی وجہ سے ڈک ورتھ لوئس طریق کار لاگو ہو تو اس کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔ لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔

پشاور کی اننگز کے چوتھے اوور میں پہلی بار بارش کی وجہ سے مقابلہ روکا گیا۔ پون گھنٹے کا کھیل ضائع ہوا۔ جب 12 اوورز میں اسکور تین وکٹوں پر 72 رنز تک پہنچا تو بارش نے ایک مرتبہ پھر میدان کو گھیر لیا۔ اس کے بعد جب پشاور کو دوبارہ بیٹنگ ملی تو انہیں احساس ہوا کہ رنز بہت کم بنے ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے تمیم اقبال نے دوسری ہی گیند کو چھکے کی راہ دکھائی۔ انہوں نے ناٹ آؤٹ 62 رنز بنائے جس کی مدد سے پشاور نے 16 اوورز میں تین وکٹوں پر 117 رنز اسکور کیے۔ کوئٹہ ہدف کے تعاقب میں ضرور آتا اگر بارش اس مقابلے کا خاتمہ نہ کر دیتی۔ یہ میدان میں موجود ہزاروں تماشائیوں کے لیے مایوسی کا لمحہ تھا جو مقابلہ دیکھنے کے لیے آئے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بارش سے بھی انہوں نے خوب لطف اٹھایا۔

بالآخر میچ کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا اور دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ مل گیا۔ یوں پوائنٹس ٹیبل پر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ پشاور اب بھی بہتر رن ریٹ کی وجہ سے سب سے آگے ہے جبکہ کوئٹہ کے بھی چار میچز میں پانچ ہی پوائنٹس ہیں اور وہ دوسرے نمبر پر ہے۔

sharjah-stadium

Facebook Comments