"ری پلے"، لاہور ایک مرتبہ پھر 200 رنز کا دفاع نہ کرسکا

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن میں پہلی بار 200 کا ہندسہ عبور ہوا لیکن کیون پیٹرسن کی طوفانی بلے بازی کے سامنے یہ بھی ہیچ ٹھیرا۔ "کے پی" اور سرفراز احمد کی دھواں دار بلے بازی نے لاہور قلندرز کے منہ سے فتح چھین لی اور ایک مرتبہ پھر 200 سے زیادہ کے ہدف کی تاریخ دہرا دی۔ کوئٹہ نے لاہور ہی کے خلاف پچھلے سال پی ایس ایل میں 200 سے زیادہ کا ہدف حاصل کیا تھا۔

شارجہ میں ہونے والے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیتا اور پہلے لاہور قلندرز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ لاہور کی جانب سے جیسن روئے اور فخر زمان نے جس جارحانہ انداز سے اننگز کا آغاز کیا، صاف نظر آ رہا تھا کہ قلندر آج مختلف موڈ میں ہیں۔ دونوں نے 77 رنز کی افتتاحی شراکت داری قائم کی، جو ایک بہترین آغاز تھا۔ جیسن روئے کی 27 گیندو ں پر 51 رنز کی اننگز حسان خان کے ہاتھوں تمام ہوئی۔ لیکن فخر زمان نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھا۔ گیارہویں اوور میں جب لاہور تہرا ہندسہ پار کر چکا تھا تب عمر اکمل 17 رنز بنا کر ہی پویلین لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد فخر زمان بھی ذوالفقار بابر کی وکٹ بنے۔ وہ صرف تین رنز کی کمی سے نصف سنچری نہ بنا سکے مگر لاہور قلندرز کو مستحکم جگہ پر ضرور لا کھڑا کردیا تھا۔ محمد رضوان اور کیمرون ڈیلپورٹ نے اننگز کی رفتار کم نہ ہونے دی اور 77 رنز کی شراکت قائم کر کے رواں سیزن کا سب سے بڑا مجموعہ اکٹھا کر ڈالا۔

رضوان نے صرف 28 گیندوں پر 46 رنز بنائے جبکہ ڈیلپورٹ 21 گیندوں پر 35 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ لاہور قلندرز نے مقررہ 20 اوورز میں صرف تین وکٹوں کے نقصان پر 200 رنز بنائے اور کوئٹہ کو 201 رنز کا بھاری ہدف دیا۔ کوئٹہ کی جانب سے نوجوان باؤلر حسان خان نے 2 اور ذوالفقار بابر نے 1 وکٹ حاصل کی۔

کوئٹہ نے صرف 24 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے باوجود نہایت سنجیدگی اور سمجھداری کے ساتھ ہدف کا تعاقب جاری رکھا۔ اوپنرز احمد شہزاد اور سعد نسیم دونوں ناکام ثابت ہوئے اور بالترتیب 15 اور 5 رنز بنا کر میدان سے واپس آ گئے۔ مگر کیون پیٹرسن اور رائلی روسو نے دباؤ میں آنے کے بجائے ضرورت کے عین مطابق کھیلا اور 57 رنز کا اضافہ کیا۔ جب روسو اپنی ترنگ میں آ گئے تو محمد عرفان نے انہیں چلتا کر دیا۔ 18 گیندوں پر 33 رنز کی اننگز تمام ہوئی اور کچھ ہی دیر میں تھیسارا پیریرا بھی آؤٹ ہوگئے۔ گیارہویں اوور میں کوئٹہ کا اسکور صرف 89 رنز تھا اور چار بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود اننگز وہ رفتار نہیں پکڑ رہی تھی جس کی ضرورت تھی یہاں تک کہ مطلوبہ رن اوسط 15 کو بھی عبور کر گیا۔

آخری پانچ اوورز کا مرحلہ شروع ہوا تو کوئٹہ کو 77 رنز درکار تھے۔ یہاں پر کپتان سرفراز احمد اور پیٹرسن کی جوڑی نے لاہوری گیند بازوں کی وہ درگت بنائی کہ وہ عرصے تک یاد رکھیں گے۔ مقابلے نے خاص طور پر 17ویں اوور سے پلٹا کھانا شروع کیا۔ سنیل نرائن کو پیٹرسن نے دو جبکہ سرفراز احمد نے ایک چھکا رسید کیا اور اوور میں 21 رنز لوٹنے میں کامیاب ہوئے۔

اگلا اوور محمد عرفان جونیئر کو دیا گیا جو اپنے ابتدائی تین اوورز میں متاثر کن کارکردگی دکھا چکے تھے اور دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔ لیکن اپنے آخری اوور میں نوجوان باؤلر دباؤ میں آ گئے اور پیٹرسن کے ہاتھوں چار چھکے کھا لیے۔

کیون پیٹرسن پی ایس ایل کے جاری سیزن میں صرف ایک میچ میں تین رنز بنا سکے تھے اور اس کے بعد مسلسل دو میچز میں صفر پر آؤٹ ہوئے لیکن یہاں تو وہ فارم میں ایسے واپس آئے کہ لاہوریوں کی جیت کی خواہش پر ہی پانی پھیر دیا۔ محمد عرفان کے اوور میں 26 رنز لوٹنے کے بعد کوئٹہ کو دو اوورز میں صرف 15 رنز کی ضرورت تھی جب سرفراز ایک چوکا لگانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 25 گیندوں پر 45 رنز بنائے۔ باقی بچ جانے والے 11 رنز کے لیے انور علی نے آتے ہی چھکا لگایا اور 19 ویں اوور کی پانچویں گیند پر چوکے کے ذریعے کوئٹہ کو کامیابی دلا دی۔

201 رنز کا بھاری ہدف 7 گیندیں قبل پورا کرکے کوئٹہ نے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دے دیا ہے۔ پیٹرسن نے 8 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے صرف 42 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 88 رنز بنائے اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

ایک ہی میچ میں 402 رنز، چوکوں اور چھکوں کی بارش، تماشائیوں کے بھرپور جوش و خروش اور کھلاڑیوں کے جذبے نے اس مقابلے کو یادگار بنا دیا ہے۔ جس کے ساتھ کوئٹہ پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک پوزیشن سنبھال چکا ہے۔

Kevin-Pietersen

Facebook Comments