پی ایس ایل فائنل...لاہور میں میلہ؟

کل یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کھیلا جائے گا اور ایک فرنچائز کی جانب سے کچھ حیل و حجت کے بعد تمام فرنچائز مالکان نے لاہور میں فائنل کھیلنے کیلئے حامی بھر دی ہے اور پی ایس ایل کے چیئرمین نے وزیر اعظم، بری افواج کے سربراہ اور تمام وزرائے اعلیٰ کو فائنل دیکھنے کی دعوت بھی دے دی ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا غیر ملکی کھلاڑی لاہور آئیں گے یا نہیں؟جب تک پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور میں فائنل کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا اُس وقت تک بہت سے غیرملکی کھلاڑیوں نے لاہور میں کھیلنے کا ’’مثبت‘‘ بیان دیا تھا لیکن حتمی فیصلہ ہوتے ہی ’’فارنرز‘‘ کو چپ لگ گئی ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے ہر صوبے میں خود کش حملے ہوئے ہیں اوراس میں تازہ ترین اضافہ آج چارسدہ میں ہونے والا حملہ ہے۔ان حملوں میں کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن گئی ہیں اور جوں جوں پی ایس ایل فائنل کا دن قریب آتا جارہا ہے ایسے واقعات میں شدت آرہی ہے۔یقینا اس طرح کے واقعات قوم کے ’’حوصلے‘‘پست نہیں کرسکتے کیونکہ حکمران مسلسل قوم کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کی کمر توڑنے کیلئے پر عزم ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کروانے کیلئے کمر باندھ لی ہے ۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پی ایس ایل پاکستان کی لیگ ہے اور اس لیگ کے میچز پاکستان میں ہونے چاہیے جس کی پہلی کڑی لاہور میں فائنل کا انعقاد ہے مگر اس فائنل کا انعقاد کس قیمت پر ہورہا ہے؟مان لیتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کیخلاف ’’مہم‘‘ نہیں ہے مگر پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کروانے کے جو مقاصد تھے وہ بھی مکمل طور پر پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔

بہت عرصے سے یہ راگ الاپا جارہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی وطن واپسی ہی وہ دروازہ ہے جس کے ذریعے انٹرنیشنل کرکٹ پاکستان میں دوبارہ داخل ہوگی اور اس کا سب سے بڑا جواز یہ تھا کہ پی ایس ایل میں شامل غیر ملکی کھلاڑی جب لاہور میں فائنل کھیلیں گے تو دنیا بھر میں یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے محوظ ملک ہے اور یہ کھلاڑی اپنے اپنے ممالک میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کی وکالت بھی کریں گے مگر فی الوقت سب کچھ اس کے برعکس دکھائی دے رہا ہے کیونکہ پی ایس ایل کے بڑے غیر ملکی اسٹارز نے اضافی معاوضے کی پیشکش کے باوجود پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

کرس گیل، کمار سنگاکارا اور مہیلا جیاوردنے جیسے بڑے کھلاڑیوں نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کراچی کنگز نے آخری وقت تک لاہور میں فائنل کی مخالفت کی کیونکہ اگر کراچی کی ٹیم فائنل تک پہنچ بھی جاتی ہے تو بڑے کھلاڑیوں کے بغیر یہ ٹیم کمزور ثابت ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف برینڈن میک کولم ،کیون پیٹرسن اور ڈیرن سیمی نے بھی ابھی تک پاکستان میں کھیلنے کی حامی نہیں بھری۔ پچھلے دو دن سے پی ایس ایل کے میچز میں جس طرح اتار چڑھاؤ اور نتائج دیکھنے کو ملے ہیں انہیں دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پی ایس ایل کا فائنل بھی انہی دو ٹیموں کے درمیان ہوگا جس کے سب سے زیادہ غیر ملکی کھلاڑی پاکستان میں فائنل کھیلنے کیلئے راضی ہونگے ۔ممکن ہے ابھی بہت لوگوں کو یہ باتیں محض باتیں لگ رہی ہوں لیکن اگلے چند روز میں اس کی گھتیاں بھی سلجھ جائیں گی تو پس منظر میں بہت کچھ اُلجھا ہوا دکھائی دے گا۔

پی ایس ایل میں ٹیموں کی کارکردگی اور نتائج ایک الگ قصہ ہے لیکن یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ لگ بھگ دو برس پہلے جس طرح زمبابوے کی ٹیم کی لاہور آمد پر سیکورٹی کا غیر معمولی انتظام کیا گیا تھا یقینا اس مرتبہ پہلے سے بھی بہتر سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور ایک ٹی20میچ کا لاہور میں انعقاد سیکورٹی کے حوالے سے بہت زیادہ بڑا مسئلہ ثابت نہیں ہوگا مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا سبب بنے گا؟

پی سی بی نے ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس مرتبہ غیر ملکی کھلاڑیوں کیساتھ کیے گئے معاہدوں میں یہ شق بھی شامل ہے کہ وہ لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلیں گے مگر یہ شق اور اضافی رقم کا لالچ بھی غیر ملکی اسٹارز کو پاکستان آنے پر آمادہ نہیں کرسکاتو یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ جب تک پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر بہتر نہیں ہوگی اُس وقت تک کوئی بھی ’’لالچ‘‘ کسی غیر ملکی کھلاڑی یا ٹیم کو پاکستان آنے پر آمادہ نہیں کرسکے گا ۔

ماضی میں بھی زمبابوے، افغانستان، کینیا، ملائیشیاجیسی ٹیموں کی آمد سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے اور بڑے غیر ملکی کھلاڑیوں کے بغیر پی ایس ایل کا فائنل بھی شایدپاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال نہ کرواسکے ۔ہر سال پاکستان میں پی ایس ایل کا ایک میچ ’’فیسٹیول‘‘ تو ثابت ہوسکتا ہے جس پر کچھ لوگوں کا ’’کارنامہ‘‘ نمایاں ہوجائے گا مگر اس کے اصل مقاصد حاصل کرنے کیلئے تسلسل کیساتھ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے جو بدقسمتی سے دکھائی نہیں دے رہیں!!

Imad-Wasim

Facebook Comments