کوئٹہ اگلے مرحلے میں، کراچی لبِ گور

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ان تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ کردیا ہے جو دوسرے سیزن سے قبل پیدا ہوئے تھے کہ شاید وہ اس بار پچھلی کامیابیوں کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ کراچی کنگز کے خلاف 6 وکٹوں کی زبردست کامیابی کے ساتھ کوئٹہ پلے آف مرحلے میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بن گیا ہے جبکہ پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیم کراچی کے لیے سنگین مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔

شارجہ میں یادگار میچز کے بعد ایک مرتبہ پھر دبئی میں میدان سجا جہاں کراچی نے کوئٹہ کی دعوت پر پہلے بلے بازی کی اور مقررہ 20 اوورز میں 154 رنز ہی بنا سکا۔ کوئٹہ نے مطلوبہ ہدف 19 اوورز میں صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا اور پوائنٹس ٹیبل پر اپنی سرفہرست پوزیشن کو مزید مضبوط کرلیا ہے۔

کراچی کنگز نے میچ کا آغاز تو اچھا کیا تھا۔ بابر اعظم اور کمار سنگاکارا نے 63 رنز کی شراکت داری قائم کی لیکن سنگا باہر نکل کر کھیلتے ہوئے محمود اللہ کی گیند پر اسٹمپڈ ہوئے اور کچھ ہی دیر میں انہوں نے بابر اعظم کو بھی آؤٹ کردیا۔ یہیں سے اننگز کی خرابی کا آغاز ہوا۔ شعیب ملک صرف 9 رنز بنانے کے بعد محمود اللہ کی تیسری وکٹ بنے تو اسکور 94 رنز تھا اور تمام تر امیدیں کرس گیل سے وابستہ تھیں۔ گیل اب تک پی ایس ایل میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے تھے اور گزشتہ مقابلے کی بہ نسبت یہاں بہتر کارکردگی تو دکھائی لیکن ایک بڑے مجموعے کی راہ ہموار نہیں کر سکے۔ انہوں نے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 32 گیندوں پر صرف 29 رنز بنائے جو ہرگز ان کے شایان شان نہیں تھے۔ روی بوپارا ایک رن بنا کر انور علی کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے جبکہ کیرون پولارڈ نے جارحانہ بلے بازی دکھائی اور 19 گیندوں پر 31رنز بنا کر مجموعے کو 154 رنز تک پہنچایا۔ کوئٹہ کے بنگلہ دیشی اسپنر محمود اللہ نےتین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ انور علی نے دو اور میر حمزہ نے ایک وکٹ حاصل کی۔

ہدف کے تعاقب ميں کوئٹہ کا آغاز شاندار تھا۔ احمد شہزاد اور اسد شفیق نے 105 رنز کی ایسی ساجھے داری کی جس نے ٹیم کی جیت کو بہت ہی آسان بنا دیا۔ دونوں اوپنرز نے کراچی کے گیند بازوں کی خوب درگت بنائی اور نصف سنچریاں بنائیں۔ احمد شہزاد خاص طور پر کافی جارحانہ انداز میں نظر آئے لیکن ان کی اننگز میں دیوانہ وار نہيں تھی بلکہ خاصے سلجھے انداز میں کھیلی گئی جس میں تین چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 54 رنز بنائے گئے۔

اسٹریٹجک ٹائم آؤٹ میں کوچ مکی آرتھر سے بری طرح ڈانٹ کھانے کے بعد کراچی نے کچھ ہمت پکڑی۔ سہیل خان نے ایک ہی اوور میں تین وکٹیں سمیٹیں جس میں احمد شہزاد اور اسد شفیق کو آؤٹ کیا اور کیون پیٹرسن کے رن آؤٹ کی صورت میں بونس وکٹ بھی ملی۔ اسد نے ایک چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 38 گيندوں پر 51 رنز بنائے۔

گزشتہ مقابلے کے ہیرو کیون پیٹرسن کے صفر پر واپس چلے جانے کے باوجود کوئٹہ نے ہدف کی جانب پیشقدمی جاری رکھی۔ سرفراز احمد اور رائلی روسو نے اسکور کو 142 رنز تک پہنچا دیا جہاں روسو کی صورت میں آخری وکٹ گری۔ سرفراز احمد نے محمود اللہ کے ساتھ مل کر کوئٹہ کو ایک اور کامیابی سے ہمکنار کیا۔

اب کوئٹہ 7 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آگے ہے جبکہ کراچی 4 پوائنٹس کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔ گوکہ کراچی کا باہر ہونا یقینی نہیں ہے لیکن اسے اپنے آخری دونوں مقابلے بھی جیتنا ہوں گے اور دیگر نتائج کا انتظار بھی کرنا ہوگا۔

Asad-Shafiq

Facebook Comments