کوئٹہ میں جنوبی افریقہ کی روح، اسلام آباد 1 رن سے جیت گیا

بظاہر تو ایسا لگتا تھا کہ لاہور قلندرز کے خلاف گزشتہ مقابلے میں ایک وکٹ کی مایوس کن شکست کے بعد دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے اوسان خطا ہو چکے ہیں۔ گرانٹ ایلیٹ کا "بیٹ ڈراپ" اتنی آسانی سے بھولنے والی چیز نہیں جناب! پھر جب اگلا ہی مقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جیسے مضبوط حریف کے خلاف ہو تو پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اسلام آباد نے تب بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھا جب بیشتر ٹیمیں ہمت ہار دیتی ہیں۔ آخری دو اوورز میں صرف 7 رنز کا دفاع کرنا بلاشبہ آسان نہیں تھا لیکن رمان رئیس اور محمد سمیع کے دو اوورز نے میچ کا پانسہ ہی پلٹ دیا اور پورے مقابلے میں غالب رہنے والے کوئٹہ کو صرف ایک رن سے ہرا دیا۔ گو کہ اس سے کوئٹہ کی سرفہرست مقام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن اسلام آباد نے پلے آف کے لیے ضرور کوالیفائی کرلیا ہے۔

166 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 18 اوورز میں کوئٹہ 159 رنز بنا چکا تھا اور اس کی صرف تین وکٹیں گری تھیں۔ 'مین ان فارم' رائلی روسو اور کپتان سرفراز احمد کریز پر موجود تھے۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ اسلام آباد یہاں سے میچ نکال جائے گا لیکن رمان رئیس کے ہاتھوں سرفراز احمد کا آؤٹ ہونا اور اس کے بعد انور علی اور روسو کی غائب دماغی نے اسلام آباد کے لیے کام آسان کردیا۔ آخری اوور میں جب کوئٹہ فتح سے صرف پانچ رنز کے فاصلے پر تھا تو محمد سمیع نے اپنی زندگی کا یادگار ترین اوور پھینکا۔ انور علی کو پہلی دونوں گیندیں ضائع کروائیں اور پہلی تین گیندوں پر صرف ایک رن دیا۔ اب ساری ذمہ داری روسو پر تھی اور وہ اگلی گیند پر دیوانہ وار جھپٹے لیکن گیند وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ اب مقابلہ سنسنی خیز ہو چکا تھا۔ روس نے اگلی گیند کو لانگ آف کی طرف کھیلا اور ڈیوین اسمتھ کے ہاتھوں سے دو رنز لوٹنے کی کوشش کی۔ انور علی نے جست بھی لگائی اور پوری کوشش کی کہ کریز میں پہنچ جائیں لیکن اسمتھ کا باؤنڈری لائن سے پھینکا گیا تھرو براہ راست وکٹ پر لگا اور انور علی رن آؤٹ ہوگئے۔ ایک قیمتی رن ضائع ہوا آخری گیند پر روسو صرف ایک رن دوڑ سکے۔ اسلام آباد صرف ایک رن سے جیت گیا۔

قبل ازیں کوئٹہ کا آغاز شاندار تھا۔ 16 رنز پر اسد شفیق کی وکٹ گرے کے بعد کیون پیٹرسن اور احمد شہزاد نے دوسری وکٹ پر 133 رنز کی شراکت داری جوڑی اور 17 اوورز میں کوئٹہ کا اسکور صرف ایک وکٹ پر 149 رنز تک پہنچا دیا۔ پیٹرسن نے گزشتہ مقابلے کے صفر کا بدلہ 43 گیندوں پر 69 رنز سے لیا جبکہ شہزاد نے ایک مرتبہ پھر عمدہ اننگز کھیلی۔ 51 گیندوں پر 59 رنز بنانے کے بعد وہ محمد سمیع کا واحد شکار بنے۔ یعنی صرف آخری تین اوورز میں ہی میچ کا پانسہ پلٹ گیا۔

اسلام آباد نے کوئٹہ کی دعوت پر پہلے بلے بازی کی تو پہلے ہی اوور میں ڈیوین اسمتھ کی وکٹ کھوئی۔ رفعت اللہ مہمند نے حسین طلعت کے ساتھ مل کر اسکور کو نویں اوور میں 60 رنز تک پہنچایا البتہ خود وہ 17 رنز سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نوجوان حسین طلعت نے بہت عمدہ بیٹنگ کی۔ 39 گیندوں پر 56 رنز بنائے۔ اس میں دو چھکے اور 6 چوکے بھی شامل تھے۔ آنے والے بلے بازوں میں مصباح نے 25 اوران کے بعد بریڈ ہیڈن اور شین واٹسن نے بالترتیب 22 اور 29 رنز بنائے۔ اسلام آباد 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 165 رنز بنا سکا جو ہرگز فاتحانہ اسکور نہیں تھا۔

اسلام آباد کا یوں اچانک خاک تلے سے ابھرنا دوسری ٹیموں کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ گزشتہ سال تو اسلام آباد اس سے بھی برا تھا پھر بھی وہ عین وقت پر اٹھا اور چیمپیئن بن گیا۔ کہیں اس سال تاریخ تو نہیں دہرائی جائے گی؟

Islamabad-United

Facebook Comments