یونس خان ٹیسٹ قیادت کے لیے تیار

اب جبکہ کرکٹ کیریئر کا آخری وقت آن پہنچا ہے اور 'خدا حافظ' کی آوازیں بھی سنائی دینے لگی ہیں تو مایہ ناز بلےباز یونس خان کے اندر ٹیسٹ دستے کی قیادت کی خواہش بیدار ہو گئی ہے۔ اس کا برملا اظہار موصوف نے گزشتہ دن ذرائع ابلاغ کے سامنے بھی کر دیا کہ اگر مصباح الحق کے بعد انہیں پیشکش ہوئی تو وہ بخوشی قبول کر لیں گے۔ ممکن ہے اس خواہش کا اظہار فراغت سے بچنے کی آخری پناہ گاہ کے طور پر کیا ہو؟ مگر سچ یہی ہے کہ بہت دیر کی مہرباں آتے آتے!

یونس خان جدید اور قدیم کرکٹ کا حسین امتزاج ہیں۔ اگر وکٹ پر ٹھہرنے میں آ جائیں تو دو، تین دن مسلسل پچ پر کھڑے ہو کر 300 کا ہندسہ بھی عبور کرسکتے ہیں اور اگر تیز کھیلنا مقصود ہو تو اگلے قدموں پر اچھلتے کودتے بھی دکھائی دیں گے۔ انضمام الحق اور محمد یوسف کے بعد اگر کسی کو مستند بلےباز کہا جا سکتا ہے وہ یونس ہی ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیادت کرنے کے لیے جتنی صلاحیتیں مطلوب ہوتی ہیں، وہ یونس میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ 115 ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والے تجربہ کار بلے باز 10ہزار رنز کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اب تک 53.06 کی اوسط سے 9ہزار 977 رنز بنا چکے ہیں جس میں 34 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ انہیں دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے کیلئے محض 23 رنز درکار ہیں۔

گو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا افراد کا موڈ بتا رہا ہے کہ دس ہزار رنز مکمل ہوتے ہی سابق کپتان کے کیریئر کے اختتام کا نقارہ بھی بچ جائے گا مگر خان صاحب کے ارادے کچھ اور ہی پتا دے رہے ہیں لگتا نہیں اتنی جلدی بین الااقوامی کیریئر کو خیر باد کہیں گے کیونکہ ابھی ان میں رنز بنانے کی بھوک ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  آفریدی کے فیصلے پر سیمی بھی حیران و پریشان

مایہ ناز بلے باز کا کہنا ہے کہ فارم اور فٹنس پر انحصار ہے کہ مزید کتنا عرصہ کھیل سکوں گا تاہم خواہش یہی ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے 10ہزار رنز بنانے والے پہلے بلے باز بنیں اور اس کے بعد بھی ملک کی نمائندگی کرتے رہیں۔ سابق کپتان اپنے کیریئر کا اختتام ہوم گراؤنڈ پر کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں تاہم اس سے زیادہ انہیں نوجوان کرکٹرز کے ساتھ ہمدردی ہے جو اب تک ایک میچ بھی پاکستانی سرزمین پر نہیں کھیل سکے۔

یونس خان اس پر پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی سے منسلک ہیں اور نوجواں کھلاڑیوں کو بلےبازی کے گر سیکھا رہے ہیں۔ پی ایس ایل میں حالیہ فکسنگ تنازع کو بدترین قرار دیتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ کرپش سے باز رکھنے کیلئے نوجوان کرکٹرز کی ڈومیسٹک کرکٹ میں تربیت ہونی چاہیے تاکہ وہ ایسی حرکتوں سے باز رہیں جبکہ خاندانی پس منظر اور تعلیم کی کمی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔

یاد رہے کہ 2009ء میں ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ جیتنے والے گرین دستے کی قیادت یونس خان ہی کر رہے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف کپتانی کے اہل ہیں بلکہ ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ عمران خان کے بعد عالمی کپ کے بعد دوسرے فاتح کپتان ہیں۔

Younis-Khan2

Facebook Comments