"مصالحہ" ذرا تیز ہے بھائی!

پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں اکثر میچز یکطرفہ ثابت ہوئے تھے جبکہ دبئی اسٹیڈیم کے خالی اسٹینڈز بھی منہ چڑاتے رہے اور پھر پی ایس ایل ٹو کا آغاز بھی سنسنی خیز انداز میں نہیں ہوسکا ۔یہی وہ پہلو تھا جو پاکستان کی لیگ کو بھرپور کامیابی سے دور رکھے ہوا تھا۔ پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے پانچ میچز یکطرفہ رہے جس میں چار میچز بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے جیتے ۔ چھٹے میچ میں لاہور کی ٹیم محض 59رنز پر آؤٹ ہوئی تو پشاور نے سات وکٹیں گنواتے ہوئے اس میچ کو سنسنی خیز بنادیا لیکن جوں ہی پی ایس ایل کی ٹیموں نے شارجہ میں پڑاؤ ڈالا تو ’’سنسنی‘‘ میں بے انتہا اضافہ ہوگیا ۔اکثر میچز کا فیصلہ آخری اوورز میں ہونے لگا اور متعدد مرتبہ ایسادیکھنے کو ملا ہے کہ جو میچز یکطرفہ جارہے تھے ان میں ’’اچانک‘‘ ایک ڈرامائی موڑ آیا اور اُن میچز کا خاتمہ نہایت سنسنی خیز انداز میں ہوا ۔ یہ درست ہے کہ پی ایس ایل کے ابتدائی میچز میں سنسنی خیزی کی کمی محسوس ہورہی تھی لیکن اب لگ رہا ہے کہ سنسنی کا یہ تڑکا کچھ زیادہ ہی لگ گیا ہے جس کا ’’مصنوعی پن‘‘ آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔

چند دن پہلے کھیلے گئے میچز کی بات نہیں کرتے کیونکہ شائقین اور قارئین کی یاداشت پرانی باتیں یاد نہیں رکھتی لیکن گزشتہ رات اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلے گئے ’’سنسنی خیز‘‘ میچ کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اس میچ میں سنسنی کا ’’مصالحہ‘‘ کچھ زیادہ ہی ’’تیز‘‘ ہوگیا تھا۔ اسلام آباد نے پہلے کھیلتے ہوئے 165رنز بنائے جس میں اَن فارم ڈیون اسمتھ کا صفر، پہلا میچ کھیلنے والے نوجوان حسین طلعت کے 56اور اختتامی اوورز میں 16بالز پر شین واٹسن کے 29رنز شامل تھے۔جواب میں کوئٹہ کی طرف سے احمد شہزاد اور کیون پیٹرسن نے نصف سنچریاں اسکور کرتے ہوئے دوسری وکٹ پر 133رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو جیت کے قریب پہنچا دیا۔ 17ویں اوور کی آخری گیند پر کیون پیٹرسن کی پویلین واپسی ہوئی تو جیت کیلئے صرف17رنز درکار تھے اور آٹھ وکٹیں باقی تھیں۔

18بالز... 17رنز ...آٹھ وکٹیں باقی ... مگر اس کے باوجود کوئٹہ کی ٹیم ہار جاتی ہے کیونکہ 18ویں اوور کی پہلی گیند پر احمد شہزاد نے غیر ضروری طور پر چھکا لگانے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوائی مگر اسی اوور میں مجموعی طور پر دس رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد کوئٹہ کی جیت میں کوئی شک باقی نہیں تھا۔ دو اوورز میں 7رنز درکار ہوں تو کسی ’’مہم جوئی‘‘ کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن سرفراز نے دوسری ہی گیند کو ہوا میں’’کھڑا‘‘ کرتے ہوئے پویلین کا راستہ اختیار کیا ۔انور علی کو چھٹی نمبر پر ’’ترقی‘‘ کیوں دی گئی اس کا جواب جاننا بھی ضروری ہے کیونکہ بڑا ہدف بالکل بھی نہیں تھا جسے پورا کرنے کیلئے انور علی کے جارحانہ اسٹروکس کی ضرورت پڑتی لیکن کپتان کے انڈر19کے دنوں کے ساتھی انور علی اوررلی روسؤو نے چار گیندوں پر صرف دو رنز بنائے۔ آخری اوور میں پانچ رنز درکار تھے اور گیند محمد سمیع کے ہاتھوں میں تھی۔پہلی دو گیندوں پر انور علی بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں گیند کو اپنے بلے سے چھو بھی نہ سکے۔ تیسری گیند پر انور کے سنگل کے بعد روسؤو نے بھی لگ بھگ اسی انداز میں گیند کو وکٹ کیپر کے پاس بھیجا جیسا کہ دو مرتبہ انور علی کرچکے تھے۔ پانچویں گیند پر دوسرا رن لیتے ہوئے انور علی رن آؤٹ ہوئے تو آخری گیند پر تین رنز کی ضرورت تھی ۔ روسؤو نے لیگ اسٹمپ پر گرنے والی گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کی بجائے مصباح الحق کے پاس پہنچاتے ہوئے صرف ایک رن لیا اور اسلام آباد کی ٹیم ایک ہارا ہوا میچ محض ایک رن سے جیتنے میں کامیاب ہوگئی!

یہ محض ایک مثال ہے جبکہ پی ایس ایل میں ایسے متعدد میچز کھیلے گئے ہیں جن کا اسکرپٹ بالی وڈ کی کسی مصالحہ فلم جیسا لگتا ہے جس میں ہر طرح کے اُتار چڑھاؤ آنے کے بعد ’’ہیپی اینڈنگ‘‘ ہوتی ہے ۔ اسلام آباد کیخلاف لاہور کی طرف سے گرانٹ ایلیٹ کی طرف سے آخری اوور میں چھکا لگا کر جیت کا اعلان ہو یا پھر اسلام آباد کی پشاور کیخلاف آخری گیند پر ملنے والی فتح ہویا لاہور کیخلاف کوئٹہ کا دو سو پلس ہدف باآسانی حاصل کرلینا ہو ...یہ ایسے میچزہیں جنہیں محض سنسنی خیز میچز قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ایسے میچز میں جیتنے والی ٹیم نے عمدہ آغاز کرتے ہوئے باآسانی فتح حاصل کرنے کی بجائے مخالف ٹیم کو بھی واپسی کا موقع دیا تاکہ میچ میں ’’بوریت‘‘ کا عنصر شامل نہ ہو بلکہ شائقین کو سنسنی خیز میچز کا لطف فراہم کیا جائے ۔یہ اسی سنسنی اور ’’تیز مصالحہ‘‘کی مرہون منت ہے کہ اب صرف تین میچز باقی ہیں لیکن ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ کونسی ٹیم پلے آف مرحلے سے باہر ہوگی۔

پی ایس ایل کے آغاز سے چنددن قبل ایک ٹیسٹ اوپنر سے رابطہ ہوا تو اُن کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں پی سی بی کو کچھ ’’جوڑ توڑ‘‘کرنا چاہیے تھ تاکہ لیگ میں دلچسپی کا عنصر برقرار رہتا ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والی اوپنر کی ’’تجویز‘‘ پر پی ایس ایل انتظامیہ نے اس سال عمل کیا ہے ۔ ممکن ہے کہ ایسے نتائج کا مقصد صرف لیگ میں شائقین کی دلچسپی برقرار رکھنا ہو لیکن پی ایس ایل کی دیگ پکانے والے ’’باورچی‘‘ نے سنسنی کا مصالحہ حد سے زیادہ تیز کردیا ہے جس کا ’’اضافی ذائقہ‘‘ ہر کسی کو محسوس ہورہا ہے۔کرکٹ کا کھیل بائی چانس ضرور ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ ہر میچ ہی سنسنی خیز ہو!!

Shahid-Afridi

Facebook Comments