پرانے "لالا" کی جھلک، پشاور نمبر ایک

اسلام آباد کے ہاتھوں ایک مایوس کن شکست کے بعد اپنے آخری مقابلے میں کوئٹہ شاہد آفریدی کے ہتھے چڑھ گیا۔ ایک خطرناک پچ پر ہونے والا لو-اسکورنگ مقابلہ آخری اوور تک گیا جہاں شاہد آفریدی نے دو چوکوں کے ساتھ مقابلے کا فیصلہ کردیا اور پشاور زلمی پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک بن گئے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا بلکہ پشاور کو یہاں تک پہنچنے میں بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

129 رنز کا تعاقب شروع کیا تو اننگز کا آغاز بہت ہی سست تھا۔ جب ساتویں اوور میں تمیم اقبال کی صورت میں پہلی وکٹ گری تو اسکور محض 38 رنز تھا لیکن اس سے بڑی مصیبت ابھی آگے موجود تھی۔ اگلے چند ہی اوورز میں کوئٹہ کے باؤلرز نے تباہی مچا دی۔ مارلن سیموئلز متبادل فیلڈر عمر امین کے ایک ناقابل یقین کیچ کا نشانہ بنے، پھر کامران اکمل امپائر کے ایک ناقص فیصلے کی زد میں آئے، شکیب الحسن رن آؤٹ ہوئے اور صہیب مقصود صفر پر کیچ دے کر چلتے بنے۔ اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تھی تو وہ کپتان ڈیرن سیمی نے پوری کردی جنہوں نے پہلی ہی گیند کو چھکا لگانے کی کوشش میں لانگ آف پر اپنی وکٹ دے دی۔ یوں صرف 52 رنز پر پشاور کے 6 بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے اور میدان میں صرف "لالا" ہی باقی بچے تھے۔

پشاور کو آخری دو اوورز میں 18 رنز کی ضرورت تھی جب ٹائمل ملز نے چار گیندوں پر صرف دو رنز دیے اور وہاب ریاض کی وکٹ بھی حاصل کرلی۔ یہاں پر حسن علی آئے اور آخری دو گیندوں پر دو چوکوں کے ساتھ معاملے کو آسان بنا دیا۔ آخری اوور میں درکار 7 رنز کے لیے "لالا" نے زیادہ وقت نہیں لیا۔ پہلی دونوں گیندوں کو ہی چوکے کے لیے روانہ کرتے ہوئے پشاور کو فتح یاب کردیا۔ شاہد آفریدی نے 23 گیندوں پر 45 رنز کی ایک بہت عمدہ اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور تین چوکے شامل تھے۔

قبل ازیں کوئٹہ کو ابتدائی اوورز میں ہی اسد شفیق اور احمد شہزاد کی قیمتی وکٹیں دینا پڑیں۔ محمد اصغر نے ایک ہی اوور میں دونوں کو آؤٹ کرکے پشاور کو ابتدا ہی میں غلبہ عطا کردیا۔ گو کہ کیون پیٹرسن اور رائلی روسو نے اننگز کو کافی حد تک سنبھال لیا اور دونوں نے 86 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ لیکن وکٹ بلے بازی کے لیے اتنی آسان نہيں تھی کہ ان کی پارٹنرشپ ٹوٹنے کے بعد آخری چھ اوورز میں 60 رنز بن جاتے۔ پھر کوئٹہ کی وکٹیں بھی یکایک گرنا شروع ہوگئیں۔ روسو 38 رنز بنانے کے بعد شکیب الحسن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے تو کچھ ہی دیر میں کیون پیٹرسن محمد اصغر کا تیسرا شکار بنے۔ انہوں نے 41 رنز بنائے۔ آنے والے بلے بازوں میں صرف محمد نواز 18رنز کے ساتھ کچھ نمایاں نظر آتے ہیں باقی کوئی دہرے ہندسے میں بھی نہیں پہنچا۔ کپتان سرفراز احمد صرف 8 اور مرد بحران محمود اللہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ آخری اوور کے خاتمے کے ساتھ ہی پوری ٹیم صرف 128 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

یہ اتنا کم مجموعہ تھا کہ اس کا دفاع کرنا کافی مشکل کام ہوتا۔ کوئٹہ نے اپنی پوری کوشش کی، بس "لالا" کو روکنے میں ناکام رہا۔ آخر میں پشاور کے محمد اصغر کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

Peshawar-Zalmi

Facebook Comments