کرس گیل آ گیا میدان میں، ہو جمالو!

ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کو بیٹنگ کے نرالے انداز اور 'انٹرٹیننگ' مزاج کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا بادشاہ کہا جاتا ہے کیونکہ محدود ترین فارمیٹ اور لیگز گیل کے مزاج کے عین مطابق ہیں۔ لیکن ایسے جارحانہ بلے بازوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس ایک راستہ ہوتا ہے "آر یا پار"۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کی یہ طنز کرنے کی جرات ہوئی کہ یہ "چائنا کا مال" ہے، چل جائے تو چاند تک، ورنہ شام تک! اگر کرس گیل کا بلّا چل پڑے تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور وہ "ون مین آرمی" ہی نیّا پار لگانے کے لیے کافی رہتی ہے لیکن جب بلے اور مزاج کا تال میل نہ بن رہا ہو تو کریز پر پہلا اوور بھی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی بے ربط سے تعلق نظر آیا گیل اور پی ایس ایل کے درمیان۔

پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن میں لاہور قلندرز نے بڑی آرزوؤں کے ساتھ انہیں حاصل کیا لیکن یہ "سیاہ ہاتھی" ثابت ہوئے اور چند ایک مقابلے کے علاوہ کہیں کچھ نہ کر سکے۔ قلندروں کے لیے یہ دھچکا اتنا بڑا تھا کہ دوسرے سیزن میں انتظامیہ نے گیل سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا اور ان کی جگہ سہیل تنویر لے کر سکھ کاسانس لیا۔ اب گیل کراچی کنگز کی امیدوں کے مرکز تھے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات!

ابتدائی پانچوں مقابلوں میں گیل کا بلّا کراچی کنگز کے دامن میں کل 30 رنز کے علاوہ کچھ نہ ڈال سکا۔ ان کی مسلسل ناکامی سے نہ صرف تماشائی مایوس تھے بلکہ خود جناب بھی خاصے پریشان نظر آئے۔ پریشانی ہونا بھی چاہیے 11، 2، 5، 10 اور 2 رنز کی اننگز ہرگز گیل کے شایان شان نہیں تھیں۔ توقعات پر پورا نہ اترنے پر گیل نے عوام سے زبانی معذرت بھی کی لیکن کرکٹ کے کھیل میں اصل معذرت وہ ہوتی ہے جو زبان کے بجائے کارکردگی سے کی جائے۔ پھر یوں ہوا کہ گیل نے کراچی کے اہم ترین مقابلو ں میں طوفانی اننگز کھیل کر ناراض شائقین کو منا لیا۔

مسلسل ناکامی کے بعد کپتان کمار سنگاکارا نے گیل کو آرام دینے کا فیصلہ کیا تھا اور شاید یہی موقع تھا جب گیل کو احساس ہوا اور اپنی ڈوبتی ساکھ کو بچانے کی فکر لاحق ہوئی، خیر جو بھی تھا فائدہ بالآخر کراچی کو پہنچا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 'مارو یا مر جاؤ' والے مقابلے میں گیل ترنگ میں لوٹ آئے اور اپنی کارکردگی سے کراچی کو پلے آف مرحلے میں لے آئے۔

کراچی کنگز کو اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف فتح کی ضرورت تو نہیں تھی بلکہ 124 رنز کو جواب میں صرف 111 رنز ہی بنانا تھے کیونکہ اس کے نتیجے میں کراچی بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر لاہور کو پیچھے چھوڑ جاتا۔ لیکن کراچی نے اس پر اکتفا نہیں کیا اور کامیابی سمیٹ کر ہی دم لیا۔ اس میں کرس گیل کے صرف 17 گیندوں پر دو چوکوں اور پانچ چھکوں سے بنائے گئے 46رنز نے اہم کردار ادا کیا اور یوں پچھلی ناکامیوں کا کفارہ بھی ادا ہوگیا۔

کراچی کے لئے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ پلے آف کے اہم مرحلے سے قبل گیل کا بلا رنز اگلنے شروع ہو گیا ہے۔ یہ دوسری ٹیموں کے لئے یقیناً خطرے کی علامت ہے۔ ویسے دل جلانے کو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کرس گیل نے لاہور قلندرز کو ٹورنامنٹ سے نکال کر خود کو ٹیم سے نکالنے کا بدلہ لے لیا ۔ بہرحال گیل کے فارم میں واپس آنے سے امید بندھ گئی ہے کہ کراچی کے اگلے مرحلے کے میچز مزید سنسنی خیز اور کانٹے دار ہوں گے۔

Facebook Comments