بہت برا ہوا، ہربھجن کے ساتھ

دیگر کئی کھیلوں کی طرح کرکٹ بھی ایک ایسا کھیل ہے جس کے نتائج خاصے غیر متوقع بھی نکل سکتے ہیں۔ بعض اوقات ظاہری اعداد و شمار یا عوامل کی بنیاد پر فتح کے بلند و بانگ بعد ازاں شکست کی خفت کو دگنا کردیتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہوا ہے ہربھجن سنگھ اور بھارت کے ساتھ۔آسٹریلوی کرکٹ ٹیم دورۂ بھارت پر پہنچی تو ہربھجن سنگھ نے اسے بھارت کا دورہ کرنے والی کمزور ترین آسٹریلوی ٹیم قرار دیا اور یہ دعویٰ تک کر ڈالا کہ اس دورے کا نتیجہ 2013ء کی طرح چار-صفر سے بھارت کے حق میں نکل سکتا ہے اور اگر آسٹریلیا بہت اچھا کھیلا تو بھارت تین-صفر سے جیتے گا۔

لیکن 23 فروری کو پونے میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں بھارت کا جو حال ہوا، اسے دیکھ کر ہربھجن سمیت بھارتی کرکٹ شائقین بغلیں جھانک رہے ہیں۔ بھارت کو اپنی جس بیٹنگ لائن پر ناز تھا، اسی نے دغا دی، پہلی اننگز میں صرف 105 رنز اور دوسری اننگز صرف 107 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ یہ اسی ناقص کارکردگی کا نتیجہ تھا کہ پانچ روزہ مقابلہ تیسرے ہی روز اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

آسٹریلیا نے پہلے بلے بازی کی اور میٹ رینشا اور ڈیوڈ وارنر کے عمدہ آغاز کے باوجود کچھ خاص بیٹنگ نہ دکھا سکا۔ جب 205 پر 9 وکٹیں گر چکی تو مچل اسٹارک کے 61 رنز کی بدولت 260 رنز کا مجموعہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا۔ جواب میں بھارت کا آغاز ہی مایوس کن تھا۔ مرلی وجے اور لوکیش راہل نے بھارتی اننگز کا آغاز کیا تو ساتویں اوور میں مرلی دس رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد ایسا لگا جیسے باقی بلے باز صرف کریز چھونے کے لیے میدان میں اترے۔ مرلی کے دس رنز، راہل کے 64 اور اجنکیا رہانے کے 13 رنز کے علاوہ کوئی کھلاڑی دہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہوسکا۔ چی پجارا کے حصے میں صرف 6 رنز آئے جبکہ کوہلی کے حصے میں تو صفر آیا۔ یہاں تک کہ 41ویں اوور کی پہلی گیند پر بھارت کی پوری ٹیم 105 رنز پر میدان بدر ہوچکی تھی۔ بھارتی ٹیم کی اس ناکامی میں بائیں ہاتھ سے گیند کروانے والے اسٹیو او کیف نے مرکزی کردار ادا کیا، جو اپنا محض پانچواں ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے۔ انھوں نے 13.1 اوور میں 35 رنز کے عوض چھ وکٹیں لیں۔

اب آسٹریلیا کو 155 رنز کی برتری حاصل تھی، جس کو بڑھانے میں تمام آسٹریلوی بلے بازوں نے حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ کپتان اسٹیون اسمتھ نے سنچری داغی اور 109 رنز بنائے۔ رینشا اور مچل مارش نے 31، 31، جبکہ اسٹارک نے 30 رنز کی اننگز کھیلی۔ یوں آسٹریلیا اس بار 285 رنز بنانے میں کامیاب ہوگیا۔

اب بھارت کی دباؤ میں موجود بیٹنگ لائن تھی اور سامنے 441 رنز کا ہدف۔ نتیجہ بالکل بھی مختلف نہیں نکلا۔ پجارا نے 31 رنز بناکر کچھ مزاحمت کی کوشش کی، لیکن کوئی دوسرا کھلاڑی 20 کے ہندسے کو نہ چھو سکا۔ راہل 10، کوہلی 13، اور رہانے 18 رنز بناسکے۔ 34ویں اوور میں بھارت کی پوری ٹیم 107 رنز بناکر آؤٹ ہوچکی تھی۔ ایک بار پھر اسٹیو او کیف نے میدان مارا اور 15 اوور میں 35 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔ بقیہ چار وکٹیں ناتھن لیون کے حصے میں آئیں یعنی بھارت نے جو 'اسپن جال' آسٹریلیا کے لیے بچھایا تھا، خود ہی اس میں بری طرح پھنس گیا۔

کچھ ایسے ہی مناظر ہمیں 2012ء میں انگلستان کے دورۂ بھارت میں دیکھنے کو ملے تھے جہاں بھارت کی یہی چال الٹی پڑ گئی تھی اور مونٹی پنیسر اور گریم سوان نے بھارت کی بیٹنگ لائن کے بخیے ادھیڑ دیے تھے۔

کیا ہربھجن سنگھ اب اپنا بیان واپس لیں گے؟ ڈھیٹ ہیں، شاید اور جم جائیں۔ آسٹریلیا کے پاس اب موقع ہے کہ ان کی بولتی مزید بند کروائے۔

KL-Rahul

Facebook Comments