یہ 'پلے آف' کیا ہے؟

تمام نشیب و فراز عبور کرنے کے بعد بالآخر پاکستان سپر لیگ کے مقابلے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں تمام ٹیموں کی جانیں اٹکی ہوئی ہیں۔ پچھلے سال کی طرح پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پہلی دونوں پوزیشنوں پر قبضہ جما لیا ہے اور یہی دونوں پہلے پلے آف میں مدمقابل ہوں گے جبکہ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ دوسرا پلے آف کھیلیں گے جسے 'ایلی منیٹر' کہتے ہیں یعنی یہاں جو ٹیم ہارے گی وہ واپسی کا راستہ لے گی۔ لاہور قلندرز تمام تر کوششوں کے باوجود اس سال بھی اگلے مرحلے میں نہيں پہنچ سکے لیکن لاہور کے لیے فائنل سے بڑا انعام کوئی نہیں ہو سکتا جو 5 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

بہرحال، ہم پلے آف مرحلے کی بات کر رہے تھے جس کا پہلا مقابلہ آج شارجہ میں پشاور اور کوئٹہ کے درمیان کھیلا جائے گا۔ یہاں جیتنے والی ٹیم براہ راست فائنل تک پہنچے گی جبکہ ہارنے والی کو ایک موقع مزید ملے گا کہ وہ دوسرے پلے آف میں کراچی اور اسلام آباد کے مقابلے کے فاتح سے کھیلے گی اور جو ہی میچ جیتے گا، وہ بھی فائنل تک رسائی حاصل کرے گا۔ اگر آپ نے پی ایس ایل کا پہلا سيزن دیکھا ہو تو آپ اس فارمیٹ کے بارے میں جانتے ہوں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنا لمبا چکر کیوں کاٹا جا رہا ہے؟ ٹاپ 4 ٹیموں کے درمیان سیمی فائنل کیوں نہيں کروایا جا رہا؟ اصل میں یہ موقع ہے سرفہرست آنے والی ٹیموں کے لیے جنہوں نے پورے سیزن میں محنت کی اور سب سے آگے نکل گئیں۔ ان کا انحصار محض ایک مقابلے پر نہیں ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاپ 2 ٹیموں کو موقع ملتا ہے ایک تو براہ راست فائنل تک رسائی کا، پھر ہارنے کی صورت میں مزید ایک موقع کا۔ جب نچلی دو ٹیمیں ہوتی ہیں ان کو براہ راست فائنل تک رسائی نہيں ملتی بلکہ پہلے ایک ٹیم خود کو حقدار ثابت کرے کہ وہ ناک آؤٹ مقابلے کے قابل ہے اور پھر پہلے پلے آف کی شکست خوردہ ٹیم کا مقابلہ کرے۔ ہے نا مزیدار؟

PSL-Captains

Facebook Comments