پی ایس ایل فائنل کا بھرپور سکیورٹی پلان

پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہی ہوگا، یہ فیصلہ تو ہو چکا لیکن خدشات کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور سب کی تان ایک ہی جگہ پر ٹوٹ رہی ہے کہ سکیورٹی کا کیا بنے گا؟ متعدد غیر ملکی کھلاڑی عدم تحفظ کا شکار ہو کر معذرت کر چکے ہیں جبکہ سیاسی تماش بین اس معاملے پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔ اس لیے جب تک 5 مارچ بخیر و عافیت گزر نہیں جائے گا تب تک یہ طوفان برقرار رہے گا۔

پاکستان کرکٹ تاریخ کے اس سب سے بڑے موقع پر سکیورٹی کیسی ہوگی اور اسے فول پروف کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اس کا جائزہ لینے کے لیے پنجاب کی صوبائی حکومت کا کابینہ اجلاس ہوا جس میں تفصیلی منصوبہ تشکیل دیا گیا۔ اس کے مطابق تمام کھلاڑیوں کو سربراہان مملکت کی سطح کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی بلکہ ایک سینئر ذمہ دار کے بقول سربراہان مملکت سے بھی کچھ بڑھ کر یعنی عام طور پر وی وی آئی پی افراد کو تین سطحی سکیورٹی دی جاتی ہے لیکن کھلاڑیوں اور دیگر عہدیداران کو پانچ سطحی اعلیٰ ترین سکیورٹی فراہم کی جائے گی جو ان کو محفوظ انداز میں اسٹیڈیم تک لانے اور وہاں سے لے جانے کو یقینی بنائے گی۔

علاوہ ازیں کھلاڑیوں کو باکس سکیورٹی کے حصار میں رکھا جائے گا جس کا مطلب ہے ان سے صرف وہی افراد مل سکیں گے جنہیں پہلے ہی اجازت حاصل ہوگی۔ یہ سکیورٹی 24 گھنٹے قائم رکھی جائے گی۔

پھر میدان میں داخلے کے لیے تمام شائقین کو مکمل تلاشی دینا ہوگی اور واک تھرو گیٹس کے ذریعے میدان میں داخل ہو سکیں گے۔ اسٹیڈیم میں داخل ہونے والے ہر فرد کی بایومیٹرک طریقے سے شناخت بھی ہوگی اور قومی شناختی کارڈ کے بغیر داخلے کی قطعی اجازت نہيں ملے گی خواہ ان کے پاس میچ ٹکٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اسٹیڈیم سے 400 گز کے فاصلے تک کسی بھی گاڑی کو پارک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سکیورٹی کے فرائض پاک فوج کے دستے اور پولیس انجام دے گی جنہيں علاقے کی تمام معلومات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے پانچ مارچ کو صوبائی دارالحکومت کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔

Facebook Comments