کراچی کنگز، سویا ہوا شیر جاگ گیا

پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن میں کراچی کنگز سب سے مہنگی ٹیم کی حیثیت سے ابھری۔ ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کی وجہ سے سب سے بڑی 'فین بیس' بھی کراچی ہی کی تھی اور معروف ٹیلی وژن 'اے آر وائی' کی ملکیت ہونے کی وجہ سے انہیں تشہیر کے سب سے زیادہ مواقع بھی ملے۔ اس لیے کراچی کنگز سے بہت توقعات تھیں لیکن جیسے ہی سیزن شروع ہوا سب پر پانی پھر گیا۔ ایک کے بعد ایک شکست، یہاں تک کہ گرتے پڑتے پلے آف میں پہنچے اور وہاں بھی بری طرح شکست کھا کر دوڑ سے باہر ہوگئے۔ کچھ یہی حال لاہور قلندرز کا بھی دکھائی دیا جو لیگ کی دوسری سب سے مہنگی ٹیم تھے۔ یوں دونوں ہی 'اونچی دکان' کے 'پکوان پھیکے' ثابت ہوئے۔

مایوس کن آغاز

کچھ یہی کہانی رواں سال بھی دہراتی ہوئی دکھائی دی۔ کراچی کنگز نے پہلے، دوسرے یہاں تک کہ تیسرے مقابلے میں بھی شکست کھائی تو ملک بھر میں اسے تضحیک کا نشانہ بننا پڑا۔نئے کھلاڑیوں، کپتان کی تبدیلی اور نئی روح پھونکنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی تھیں اور جب لاہور قلندرز کے خلاف مقابلے میں بھی شکست کھائی تو ایسا لگا اس بار سب سے پہلے باہر ہونے والا کراچی ہوگا۔ یہاں پر دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف بارش زدہ مقابلے نے کراچی کو واپسی کی راہ دکھائی۔ کراچی ڈک ورتھ لوئس طریقے کے مطابق 8 رنز سے جیت تو گیا لیکن تب بھی مذاق کا نشانہ بنا کہ بارش نے میچ جتوایا ورنہ کراچی میں دم نہيں تھا۔ شاید یہی طنز و تشنیع کراچی کو دوبارہ ابھرنے پر آمادہ کرگئی۔

زخمی شیر کی دھاڑ

پھر اگلے مقابلے میں کراچی نے 'فین فیورٹ' پشاور زلمی کو چت کردیا۔ شعیب ملک کی نصف سنچری اور بابر اعظم کی عمدہ بلے بازی کی مدد سے 174 رنز بنائے اور پھر باؤلنگ میں شاہد آفریدی اور ڈیرن سیمی کے ابھرتے ہوئے خطرے کا بھی کامیابی سے سامنا کیا۔ 9 رنز کی اس کامیابی نے کراچی کے حوصلوں کو جتنا بلند اتنا ہی کوئٹہ کے ہاتھوں شکست نے کام خراب کیا۔

یہی وجہ ہے کہ روایتی حریف لاہور کے خلاف مقابلہ بہت اہمیت اختیار کرگیا۔ اگر ہم اسے پی ایس ایل سیزن 2 کے بہترین مقابلوں میں سے ایک قرار دیں تو بے جا نہ ہوگا۔ آخری اوور کی آخری گیندوں پر کیرون پولارڈ کے دو چھکوں نے کراچی کے حوصلے آسمان کو پہنچا دیے۔ اسی کی بدولت کراچی نے آخری راؤنڈ مقابلے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو ایک اور شکست دے کر پلے آف مرحلے میں جگہ پائی اور یہاں بھی ایک کارکردگی کے شاندار مظاہرے کے ساتھ 127 رنز کے معمولی ہدف کا کامیابی سے دفاع کیا اور ناک آؤٹ مقابلے میں جگہ حاصل کرلی۔

اب زلمی کے خلاف

اب کراچی کنگز آج دبئی میں تیسرے پلے آف میں کھیلیں گے جہاں ان کا مقابلہ پشاور زلمی سے ہوگا۔ پشاور کے خلاف راؤنڈ مرحلے میں کراچی نے دو میں سے ایک مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن ابتدائی چھ مقابلوں میں صرف دو فتوحات اور اس کے بعد مسلسل تین کامیابیوں کے ساتھ کراچی فتوحات کی راہ پر گامزن ہے جبکہ پشاور پہلے پلے آف میں ایک یقینی کامیابی سے محروم ہونے کے بعد بقا کی جنگ لڑے گا۔ کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟ کون لاہور میں ہونے والے تاریخی فائنل میں جگہ بنائے گا؟ اس بارے میں ابھی کچھ کہنا تو قبل از وقت ہوگا لیکن کراچی کے اس سفر نے کئی ناقدین کے سوالوں کے جوابات دے دیے ہیں۔

کراچی کے 'کنگز' سب سے آگے

اگر انفرادی سطح پر بھی دیکھیں توکراچی کے کھلاڑی سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ رنز اوپنر بابر اعظم کے ہیں جو 290 رنز کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ وکٹوں میں بھی ہمیں کراچی ہی کے سہیل خان نظر آتے ہیں جو اب تک 15 شکار کر چکے ہیں۔ یہاں تک کہ کیچز اور وکٹ کیپنگ میں بھی کراچی ہی کے کھلاڑی نظر آتے ہیں۔ پی ایس ایل2 میں اب تک سب سے زیادہ 8 کیچز کیرون پولارڈ نے پکڑے ہیں جبکہ وکٹوں کے پیچھے سب سے زیادہ شکار کپتان کمار سنگاکارا نے کیے ہیں جس میں دو ناقابل یقین کیچز بھی شامل ہیں۔ اس لیے اگر کراچی آج جیت جاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ بہترین بلے باز کی محمد حنیف ٹرافی، بہترین باؤلر کی فضل محمود ٹرافی اور بہترین وکٹ کیپر کی امتیاز احمد ٹرافی کراچی کنگز ہی کو ملے اور اگر فائنل بھی جیت گئے تو شاندار 'اسپرٹ ٹرافی' تو ملے گی ہی!

Kieron-Pollard

Facebook Comments