زندہ دلانِ لاہور کے سامنے پشاور چیمپیئن بن گیا

پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن میں پشاور فیورٹ تو تھا ہی لیکن بدقسمت بھی تھا، ایک رن سے پہلا پلے آف ہارا اور پھر ناک آؤٹ مقابلے میں شرجیل خان کی سنچری نے زلمی کا کام تمام کردیا لیکن اس بار قسمت پشاور کے ساتھ تھی۔ وہ پہلا پلے آف تو ضرور ہارا لیکن کراچی کنگز کے ابھرتے ہوئے خطرے کو دبانے میں کامیاب ہوگیا اور یوں فائنل تک پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے تھا جو اپنے اہم کھلاڑیوں کے بغیر بے دانت کا شیر تھے۔ نتیجہ وہی نکلا جس کی توقع تھی، پشاور نے باآسانی کامیابی حاصل کی اور یوں پی ایس ایل چیمپیئن بن گیا۔

لاہور میں فائنل سے قبل ایک شاندار اختتامی تقریب منعقد کی گئی جس میں کئی فنکاروں نے شرکت کی۔ تقریب کا سب سے شاندار لمحہ وہ تھا جب پاک فوج کا چھاتہ بردار دستہ پانچوں شریک ٹیموں اور پاکستان کے پرچم کے ساتھ فضا سے میدان میں اترا۔ ہزاروں تماشائیوں کے روبرو ڈیرن سیمی رقص کر رہے تھے تو ماحول ہی بدل گیا۔ بہرحال، رنگارنگ تقریب کے بعد مقابلے کا آغاز کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد کے ٹاس جیتنے سے ہوا جنہوں نے پہلے پشاور کو بلے بازی کی دعوت دی۔ کامران اکمل اور ڈیوڈ ملان نے اننگز کا آغاز کیا اور ذوالفقار بابر کے پہلے اوور میں ہی "کامی" کے تین چوکوں نے گزشتہ مقابلے کی جھلک دکھا دی۔ پھر انور علی کے اوور میں ڈیوڈ ملان نے 15 رنز بٹورے اور شائقین سے خوب داد وصول کی۔ پاور پلے کے چھ اوورز تک مار کٹائی کا یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ اس مقابلے کے لیے خاص طور پر آنے والے ویسٹ انڈیز باؤلر ریاد امرت نے ڈیوڈ ملان کو 17 کے انفرادی اسکور پر دبوچ لیا۔ کامران اکمل کا ساتھ دینے کے لیے اب مارلن سیموئلز آئے اور دونوں نے 10 اوورز میں مجموعے کو 82 رنز تک پہنچا دیا۔ یہاں کامران 32 گیندوں پر 40 رنز بنا کر حسان خان کی خوبصورت گیند کا شکار ہوگئے۔

کامران اکمل کی وکٹ گرتے ہی زلمی کی تيز پیشقدمی کو بھی نظر لگ گئی۔ اگلے دو اوورز میں انہیں دو مزید صدمے برداشت کرنے پڑے۔ پہلے محمد نواز نے سیموئلز کو ٹھکانے لگایا اور اگلے ہی اوور میں حسان خان نے خوشدل شاہ کی ایک رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ رنز بنانے کی رفتار کچھوے جیسی ہوگئی اور گرتے رن ریٹ کو سنبھالنے کے لیے جیسے ہی محمد حفیظ نے تیز کھیلنے کی کوشش کی، ایک اور نقصان اٹھانا پڑ گیا۔ وہ ریاد امرت کے ہاتھوں وکٹ گنوا بیٹھے جنہوں نے اگلی ہی گیند پر افتخار احمد کو ایل بی ڈبلیو کرکے سنسنی پھیلا دی۔ کپتان ڈیرن سیمی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لیے آئے اور 11 گیندوں پر 28 رنز کی طوفانی اننگز کھیل ڈالی۔ ان کے تین چھکوں کی تماشائیوں نے خوب داد دی جن میں سے دو انہوں نے آخری اوور میں لگائے اور مایوس زلمی شائقین کو خوش کردیا۔ پشاور نے مقررہ 20 اوورز میں 148 رنز بنائے جسے بہت بڑا مجموعہ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن جس طرح وکٹ کا رویہ تھا، اس سے لگتا تھا کہ یہ کافی سے زیادہ ہیں۔

کیون پیٹرسن اور رائلی روسو کے بغیر کمزور بیٹنگ لائن کے حامل کوئٹہ کی اننگز کا آغاز ہی غیر سنجیدہ تھا جس نے مشکل ہدف کو ناممکن بنا دیا۔ مورنے وان ویک اور احمد شہزاد ابتدائی گیندوں سے ہی دباؤ میں دکھائی دیے اور پہلے اوور میں صرف رن بنا سکے۔ محمد اصغر نے دوسرا اوور پھینکا جس میں دباؤ کھل کر سامنے آ گیا، وان ویک حسن علی کے براہ راست تھرو پر رن آؤٹ ہوئے اور جب تیسرا اوور شروع ہوا تو اسکور بورڈ پر صرف دو رنز تھے۔ بنگلہ دیش سے آنے والے انعام الحق کو تیسرے اوور میں ایک زندگی بھی ملی جب ڈیرن سیمی نے سلپ میں ان کا آسان کیچ چھوڑا لیکن اس کا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ اصغر کے دوسرے اوور میں انعام ایک اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر کھڑے کرس جارڈن کو کیچ دے گئے۔

معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کپتان سرفراز احمد میدان میں آئے اور لگاتار دو چوکے لگا کر کوئٹہ کے پرستاروں کے ڈوبتے دلوں کو سہارا دیا۔ لیکن حسن علی کے اگلے اوور میں احمد شہزاد کی وکٹ نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ کپتان نے اس بڑھتے دباؤ سے نکلنے کے لیے جارحانہ رویہ اپنایا اور محمد حفیظ کو بھی دو چوکے رسید کیے لیکن جوش میں ہوش کھو بیٹھے۔ دو چوکے لگانے کے بعد حفیظ کو ایک اور باؤنڈری لگانے کی کوشش میں آگے بڑھے لیکن گیند کامران اکمل کے ہاتھوں میں چلی جنہوں نے اسٹمپنگ کے ذریعے کام تمام کردیا۔ کوئٹہ پر شکست کے بادل واضح نظر آنے لگے تھے۔ سعد نسیم کی 4 رنز کی اننگز ختم ہونے کے بعد تو کوئی امید باقی نہيں بچی تھی۔ زمبابوے سے آنے والے شان اروائن نے بمشکل اسکور کو 50 کا ہندسہ عبور کروایا یہاں تک کہ 24 کے انفرادی اسکور پر ان کا بھی بلاوا آ گیا۔ 16 ویں اوور کی تیسری گیند پر کوئٹہ کی وہ ٹیم جس نے رواں سیزن میں دو مرتبہ 200 کے ہندسے کو جا لیا تھا، صرف 90 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور یوں پشاور پاکستان کا نیا چیمپيئن بن گیا۔

پشاور کی جانب سے محمد اصغر نے سب سے زیادہ تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ حسن علی اور وہاب ریاض دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

فائنل کا میلہ لوٹا پشاور کے کامران اکمل نے، انہوں نے ٹورنامنٹ کے بہترین وکٹ کیپر کا اعزاز "امتیاز احمد ٹرافی" بھی حاصل کیا، بہترین بلے باز کی "محمد حنیف ٹرافی" بھی جیتی اور مین آف دی ٹورنامنٹ بھی قرار پائے۔ بہترین باؤلر کا اعزاز "فضل محمود ٹرافی" ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کراچی کنگز کے سہیل خان کو ملی۔

آخر میں پشاور کے کھلاڑیوں نے خوبصورت ٹرافی کے ساتھ خوب جشن منایا اور یوں ایک یادگار شام اپنے اختتام کو پہنچی۔

Facebook Comments