"پی ایس ایل الیون"، پاکستان سپر لیگ کے بہترین کھلاڑی

یہ پاکستان کرکٹ اور عوام کے لیے ایک سنہرا دن تھا۔ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لیے دنیائے کرکٹ کے سپر اسٹارز کی لاہور آمد ایک خواب کی تعبیر تھی۔ فائنل سے پہلے مکمل طور پر غیر یقینی کی کیفیت تھی اور جن حلقوں کو پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں انعقاد سے چڑ ہو رہی تھی انہوں نے اسے ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کپ کا فائنل تک قرار دیا۔ یہ شبہات تب یقین میں بدلنے لگے جب فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کردیا۔ اپنے پیغامات میں ان تمام کھلاڑیوں نے فائنل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ضرور کیا لیکن شرکت پر رضامند نہیں ہوئے۔ یہ کوئٹہ کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا اور جب جمعہ کو آخری پلے آف میں پشاور زلمی نے کامیابی حاصل کی اور فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تو ٹیم مالک جاوید آفریدی نے خوش خبری سنائی کہ ان کے تمام غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آ رہے ہیں۔ یہ ایک طرف تو پاکستان کے لیے بہت بڑی خوش خبری تھی وہیں پشاور کے لیے فتح کی ضمانت بھی کیونکہ کوئٹہ کا وننگ کمبی نیشن ٹوٹ چکا تھا اور پشاور کے لیے چیمپئن بننا آسان تھا۔ پھر توقعات کے عین مطابق پشاور نے فائنل میں کوئٹہ کو باآسانی شکست دی اور یوں پہلی بار پاکستان سپر لیگ جیت گیا۔

ایک ماہ تک جاری رہنے والے پی ایس ایل2 نے کئی انمٹ یادیں چھوڑی ہیں۔ کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کو ہی لے لیں۔ کامران اکمل کی طوفانی بلے بازی سے لے کر نوجوان شاداب خان کی ناقابل یقین کارکردگی تک، ہمیں کئی کھلاڑی نظر آئے اور بھائے اور 'کرک نامہ کی پی ایس ایل2 الیون' میں ہم ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کررہے ہیں جن کی کارکردگی سب سے نمایاں رہی اور انہوں نے اپنی ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔

احمد شہزاد (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)

Ahmed-Shehzad

احمد شہزاد کا بلّا اس پی ایس ایل میں خوب رنز اگلتا رہا اور انہیں ایک مختلف کھلاڑی کے روپ میں دیکھ کر تمام شائقین کو بہت خوشی ہوئی۔ کوئٹہ کے لیے کھیلتے ہوئے احمد نے کئی بار بہت اچھے آغاز فراہم کی اور ان کی بلے بازی کی وجہ سے ہی کوئٹہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ خاص طور پر پشاور زلمی کے خلاف پہلے پلے آف میں 38 گیندوں پر 71 رنز کی اننگز کون بھول سکتا ہے؟ جس کی بدولت کوئٹہ سب سے پہلے فائنل تک پہنچا۔ احمد شہزاد نے 9 اننگز میں لگ بھگ 27 کے اوسط سے 242 رنز بنائے جس میں تین نصف سنچریاں شامل رہیں۔


ڈیوین اسمتھ (اسلام آباد یونائیٹڈ )

Dwayne-Smith

اس بار اسلام آباد یونائیٹڈ اپنے اعزاز کا دفاع تو نہیں کر پایا لیکن ان کے چند کھلاڑیوں نے انفردی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھائی، جیسا کہ ویسٹ انڈیز کے ڈیوین اسمتھ۔ اوپنر نے 9 اننگز میں 34 سے زیادہ کے ایوریج کے ساتھ 274 رنز اسکور کیے جن میں 72 رنز کی ایک ناٹ آؤٹ اننگز سمیت دو نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انہیں یونائیٹڈ کا 'مسٹر ڈپینڈیبل' کہا جا سکتا ہے۔


بابر اعظم (کراچی کنگز)

Babar-Azam
بابر اعظم جب سے قومی کرکٹ میں نمودار ہوئے ہیں ان کا کھیل بہتر سے بہترین ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے لیے کراچی نے بابر کو منتخب کیا تھا اور پھر بابر نے 10 اننگز میں 291 رنز بنا کر سب کو حیران کردیا۔ یہاں تک کہ لیجنڈری کھلاڑی بھی اب بابر اعظم کو اہمیت دینا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر اس سیزن میں کراچی کنگز نے توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے تو اس میں بابر کا بڑا ہاتھ ہے۔


کیون پیٹرسن (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)

Kevin-Pietersen
شاید ہی کوئی اس سال "کے پی" کو اپنی پی ایس ایل الیون میں منتخب نہ کرے۔ پہلے چار میچز میں صرف تین رنز بنانے کے بعد پیٹرسن نے 88 رنز کی ایک یادگار اننگز کھیلی جس کی بدولت کوئٹہ نے لاہور کے خلاف 200 سے زیادہ کا ہدف حاصل کیے۔ ان کی دھواں دار اننگز کی وجہ سے کوئٹہ نے ناقابل یقین کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد بھی پیٹرسن کا بلّا رنز اگلتا رہا یہاں تک کہ کوئٹہ سب سے پہلے فائنل میں پہنچ گیا۔ بلاشبہ اگر پیٹرسن لاہور میں ہونے والا فائنل کھیلتے تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ کوئٹہ کے پرستاروں نے فائنل میں "کے پی" کی کمی شدت کے ساتھ محسوس کی۔


رائلی روسو (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)

Rilee-Rossouw
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے رائلی روسو نے ابتداء کوئٹہ کو فتوحات کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 8 اننگز میں 42 سے زیادہ کا ایوریج پی ایس ایل 2 کے ٹاپ بیٹسمینوں میں سب سے زیادہ تھا جن کی مدد سے روسو نے 242 رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 123 سے زیادہ رہا۔ دو ففٹیز کی مدد سے رائلی روسو نے دو بار مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ بدقسمتی سے کوئٹہ کو فائنل میں روسو کی خدمات بھی حاصل نہیں تھیں۔ جو ٹیم کو فائنل سے قبل چھوڑ کر انگلینڈ چلے جانے والے چار کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  سپر لیگ اسکینڈل کا پہلا شکار، عرفان پر ایک سال کی پابندی

کامران اکمل (پشاور زلمی)

Kamran-Akmal
کامران اکمل کے لیے پی ایس ایل2 کسی خواب سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے ایسا کھیل پیش کیا ہے کہ اب کئی حلقے ان کی قومی ٹیم میں واپسی کی بات کر رہے ہیں۔ ڈومیسٹک سیزن میں بہترین کارکردگی کے بعد کامران ویسے ہی پرامید تھے اور پی ایس ایل جیسے بڑے پلیٹ فارم پر ڈلیور کرکے انہوں نے پھر خود کو ثابت کیا ہے۔ پہلے ہی میچ میں 88 رنز کی عمدہ اننگز اور اس کے بعد فائنل تک کامران نے خوب رنز بنائے اور وکٹوں کے پیچھے بھی سب سے زیادہ شکار کیے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں پی ایس ایل2 میں سب سے زیادہ 353 رنز بنانے پر بہترین بیٹسمین کی 'حنیف محمد ٹرافی' بھی دی گئی اور بہترین وکٹ کیپر کا اعزاز 'امتیاز احمد ٹرافی' بھی۔ یہی نہیں بلکہ کامران اکمل نے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ پی ایس ایل 2017ء کا میلہ کامران اکمل نے لوٹا۔ 'کامی' نے سب سے یادگار اننگز ناک آؤٹ پلے آف 3 میں کھیلی جہاں شکست کا مطلب تھا ٹورنامنٹ سے باہر ہو جانا۔ اس اہم مقابلے میں کامران نے 104 رنز بنائے جو اس سیزن کی واحد سنچری تھی۔


شاداب خان (اسلام آباد)

Shadab-Khan
اگر کسی ایک کھلاڑی کو پی ایس ایل 2017ء کی دریافت کہا جائے تو وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے نوجوان شاداب خان ہی ہوں گے۔ رواں سیزن میں ہمی کئی نوجوان کھلاڑی ابھترے ہوئے دکھائی دیے جنہوں نے اپنی کارکردگی سے خود کو منوایا لیکن آل راؤنڈر شاداب خان سب کے دل کے لبھائے۔ لاہور کے خلاف صرف 24 گیندوں پر 42 رنز کی طوفانی اننگز، کئی شاندار کیچز، زبردست وکٹیں شاداب کے کارنامے رہے۔ گگلی پر ان فارم بابر اعظم کو کلین بولڈ کرنے کا منظر بہت خوب تھا۔ شاداب نے ٹورنامنٹ میں 9 وکٹیں حاصل کیں اور یوں نمایاں ترین باؤلرز میں سے ایک رہے۔


شاہد آفریدی (پشاور زلمی)

Shahid-Afridi
شاہد آفریدی نے جب سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے ان کے کھیل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پشاور زلمی کو ضرورت بھی تھی کہ "لالا" میچ کا نقشہ پلٹنے والے آل راؤنڈر کا کردار ادا کریں۔ اس سال ان کی کارکردگی کی وجہ سے پشاور نے فتوحات بھی حاصل کیں۔ بدقسمتی سے تیسرے پلے آف میں کراچی کے کیرون پولارڈ کا کیچ پکڑنے کی کوشش میں شاہد آفریدی زخمی ہوگئے اور یوں فائنل نہیں کھیل سکے لیکن اس کے باوجود شاہد آفریدی کے 177 رنز اور 15 چھکے انہیں "پی ایس ایل الیون" میں لانے کے لیے کافی ہیں۔


سہیل خان (کراچی کنگز)

Sohail-Khan
سہیل خان کراچی کنگز کی 'سرپرائز انٹری' تھی کیونکہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کے لیے موزوں باؤلر نہيں لیکن اس پی ایس ایل میں سہیل نے کمال کردای اور سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرکے 'فضل محمود ٹرافی' حاصل کی۔ کراچی کنگز کو آخری پلے آف تک لے جانے میں جہاں دیگر کھلاڑیوں کا کردار اہم تھا وہیں پر سہیل بھی نمایاں تھے۔ انہوں نے 9 میچز میں صرف 15 کے ایوریج سے 16 وکٹیں حاصل کیں۔


وہاب ریاض (پشاور زلمی)

Wahab-Riaz
زلمی کے اسپیڈسٹر وہاب ریاض نے بھرپور پرفارمنس دے کر اپنا حق اداکردیا ہے۔ وہ سہیل خان سے صرف ایک وکٹ پیچھے رہے اور پی ایس ایل2 میں 15 وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن جو چیز وہاب کو سب سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ انہوں نے10 یا زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرز میں فی اوور سب سے کم رنز دیے۔ ان کا اکانمی ریٹ صرف 6.15 تھا جبکہ ایوریج بھی صرف ساڑھے 13۔


سنیل نرائن (لاہور قلندرز)

Sunil-Narine
بلاشبہ کراچی کنگز کے اسامہ میر نے زیادہ وکٹیں حاصل کیں اور یاسر شاہ نے بھی بہت عمدہ باؤلنگ کی لیکن سنیل نرائن نے باؤلنگ کے ساتھ ساتھ بلے بازی میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔ لاہور قلندرز اس سال بھی اتنا اچھا کھیل نہ دکھا سکے اور یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ پلے آف کے لیے کوالیفائی نہ کر سکے لیکن ان کے باؤلرز نے ضرور متاثر کیا۔ یاسر شاہ اور سہیل تنویر کے ساتھ ساتھ نوجوان محمد عرفان جونیئر سب کی نظروں میں آئے۔ لیکن نرائن سب سے جدا تھے۔ انہوں نے 20 کے اوسط سے 10 وکٹیں بھی حاصل کیں اور ایک جارحانہ بلے باز کے روپ میں بھی نظر آئے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں 11 چھکے لگائے اور 181 کے اسٹرائیک ریٹ سے 116 رنز بنائے۔


رمان رئیس (اسلام آباد یونائیٹڈ)

Rumman-Raees

کراچی سے تعلق رکھنے والے رمان رئیس وکٹ لینے کے بعد اپنے جشن کے منفرد انداز کی وجہ سے سب کو بھا گئے ہیں۔ ان کا انداز خبری چینلوں اور اخبارات کی سرخیوں میں بھی رہا لیکن معاملہ صرف 'سیلیبریشن' تک محدود نہیں تھا بلکہ رمان کی کارکردگی بھی بہت اچھی رہی۔ انہوں نے صرف 7 میچز میں 12 وکٹیں حاصل کی۔ اکانمی بھی صرف 6.19 اور ایوریج بھی 13.50۔ یہ ہر لحاظ سے ایک بہترین کارکردگی ہے جس کی وجہ سے انہیں 'پی ایس ایل الیون' میں بارہویں کھلاڑی کی جگہ دی گئی ہے۔

Facebook Comments