سیمی خان شنواری

ڈیرن سیمی اب پاکستانیوں کے لئے اجنبی نام نہیں رہا، بہت اپنا اپنا سا محسوس ہونے لگا ہے اور اس کی وجہ یکطرفہ نہیں۔ جتنی محبت اور اپنائیت پاکستانیوں نے انہیں دی، انہوں نے نے دوگنی کر کے لوٹا دی ہے۔ ویسے بھی جب ایک غیر ملکی اپنے مداحوں کو پیغام دینے کے لئے انہی کی زبان سیکھنے میں لگ جائے اور جواباً مداح اسے اپنے قبیلوں کا حصہ شمار کریں تو اس قربت کو کسی پیمانے میں کیسے تولا جا سکتا ہے ؟ "سیمی خان شنواری" پاکستان میں مقبولیت کی انہی بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں۔

ڈیرن سیمی قسمت کے دھنی ہیں، ویسٹ انڈیز کے کپتان بنے تو ایک نہیں بلکہ دو بار ٹی ٹوئنٹی کا عالمی کپ لے اڑے اور جب پشاور زلمی کی کمان سونپی گئی تو اسے بھی چیمپئن بنا دیا۔ شاہد آفریدی کا قیادت کی 'پگ' اپنے سر سے اتار کر سیمی پر سجانے کا فیصلہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے۔

سیمی کپتان کی حیثیت سے تو بہت کامیاب ہیں لیکن نہ وہ غیر معمولی مہارت رکھنے والے بلے باز ہیں اور نہ ہی گیند بازی میں بہت خطرناک، انہيں کرکٹ کی اصطلاح میں 'یوٹیلٹی پلیئر' کہہ سکتے ہیں جو کام آ جاتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کو جیتنے والے ویسٹ انڈین دستے کا جائزہ لیں تو شاید سب سے کم رنز اور وکٹیں سیمی ہی کی ہون گی۔ اس کے باوجود تمام کھلاڑی ان کی قیادت میں یکسو دکھائی دیے اور ایسے وقت میں جب بورڈ اور کھلاڑی آپس میں متصادم تھے، ساری ٹیم سیمی کے ساتھ تھی اور یہی ایک قائد کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ کئی کھلاڑیوں کو دوبارہ ویسٹ انڈیز کے لیے منتخب نہیں کیا گیا لیکن آخری مقابلے میں شیروں کی طرح لڑے اور بازی ماری۔

پاکستان میں کامیاب کپتان کے طور ہمیشہ عمران خان کا نام لیا جاتا تھا جو غلط بھی نہیں ہے۔وہ سخت گیر قسم کے اصول پسند کھلاڑی تھے، سمجھوتہ کبھی نہیں کرتے تھے،کھلاڑیوں کے انتخاب پر ان کی کڑی گرفت تھی، ان کی چھپی صلاحیتوں کو بھی بھانپ لیتے تھے اور ان سے صلاحیت کے مطابق کام لینا عمران کا خاصہ تھا اور انہی خطوط پر چلتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو فاتح عالم بنایا۔ لیکن سیمی کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ ان کے مزاج میں سختی سرے سے ہے ہی نہیں، نہ ہی وہ ٹیم کے چناؤ کو اپنی انا کا مسئلہ بناتے ہیں تو آخر ان کے پاس ایسا کون سا پارس کا پتھر ہے جس کو چھوتے ہیں سونا بنا دیتے ہیں۔

میری رائے میں اس کی سب سے بڑی وجہ ہے قائد اور کھلاڑیوں کے درمیان فاصلہ نہیں ہوتا۔ عام طور پر یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ قیادت ابھی ہاتھ نہیں آئی اور کھلاڑی خود کو باقی اراکین سے مختلف تصور کرنے لگ جاتا ہے۔ مگر سیمی کی کپتانی میں ڈریسنگ روم کا ماحول اتنا خوشگوار اور پرجوش رہتا ہے کہ کسی کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا اور ٹیم حقیقتاً ٹیم بن کر کھیلتی ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ سیمی کی کپتانی میں کھیلنے والے کھلاڑی بہت مطمئن اور 'رلیکس' نظر آتے ہیں کیونکہ ان پر کوئی دباؤ ڈالا ہی نہیں جاتا۔ اب ذرا اندازہ لگائیں کہ ایک کپتان ناقص کارکردگی کی وجہ سے کھلاڑیوں کی ٹھیک ٹھاک 'کلاس' لے جبکہ دوسرا کپتان ناکام ہونے والے کھلاڑی کو حوصلہ اور ہمت دیتا پایا جائے تو کس کو کھلاڑیوں کی جانب سے زیادہ بہتر ردعمل کا سامنا ہوگا؟ اور کن کھلاڑیوں میں پژمردگی کی جگہ کچھ کر کے دیکھانے کی امنگ جاگے گی؟ یقیناً دوسرے کپتان کو! اور یہی سیمی کی ایک اہم صلاحیت ہے۔

ڈیرن کی دو مزید کمال کی عادتیں ہیں جو انہیں دوسرے قائدین سے ممتاز بناتی ہیں ایک تو ان کی خوش مزاجی بلکہ زندہ دلی جس کے مظاہر ہر مقابلے میں نظر آتے ہیں اور پی ایس ایل کے میچوں میں تو بہت قریب سے دیکھنے کو ملے۔ وہ بنا موبائل کے سیلفی تو سب کو یاد ہو گی کہ جب سلپ میں ایک شاندار کیچ پکڑ کرسب کھلاڑیوں کو اشارے سے اپنے قریب جمع کیا اور 'خیالی سیلفی' لی۔ اس وقت تمام کھلاڑیوں پروکٹ حاصل ہونے کی خوشی تو تھی ہی مگر ساتھ ہی کپتان کی اس معمولی ادا پر خوشگواری کا احساس الگ سے موجود تھا۔ ڈیرن کی یہ ادا تو اب گلی محلوں کی کرکٹ میں خاصی مقبول ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ سیمی میدان میں کیچ چھوٹنے، مس فیلڈ ہونے یا برا اوور کروانے پر کبھی چیختے چلاتے اور کھلاڑی پر غصہ ہوتے نہیں دیکھے گئے۔ جس کا مطلب یہ کہ وہ کھلاڑیوں کی عزت نفس کا خاص خیال رکھتے ہیں اور انہیں میدان میں گرنے نہیں دیتے۔

اس کا یہ بھی مطلب ہرگز نہیں کہ سیمی کو دبایا جا سکتا ہے یا سرکاری ملازم کی طرح بلیک میل کر کے خاموش کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے سیمی کا دوسرا رخ تب سامنے آیا جب ورلڈ ٹی ٹونٹی سر پر کھڑا تھا مگر کھلاڑیوں اور بورڈ کے مابین اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ بورڈ کے عدم تعاون کے باوجود سیمی الیون نے حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے نہ صرف ٹورنامنٹ میں شرکت کی بلکہ جیت کر بھی دکھا دیا مگر بورڈ کی زیادتیوں کو فراموش نہیں کیا۔ اختتامی تقریب میں بورڈ کے نام سیمی نے ایسی جارحانہ تقریر کی کہ کسی اور کپتان سے ہرگز توقع نہیں کی سکتی تھی۔ خود کو ساتھیوں کے حقوق کا مخافظ سمجھ کر بنا خوف سب سے ٹکرا جانے کی صلاحیت کسی بھی کپتان کو غیر معمولی بنا سکتی ہے، مگر ایسا حوصلہ ہر کسی کے پاس کہاں؟

حقیقت یہ ہے کہ ڈیرن شارجہ اور دبئی میں کھیلتے ہوئے بھی پاکستانیوں کے دلوں میں جگہ بنا چکے تھے مگر جس طرح تمام ممکنہ خوف اور خدشات کو نظر انداز کر کے اور شاہد آفریدی اور جاوید آفریدی کے مشوروں سے قائل ہو کر سیمی پاکستان پہنچے اور شائقین میں گھل مل گئے، اس بہادری اور اپنائیت سے پاکستانیوں کے دل جیت لیے ہیں۔ اب تو عوام انہیں اعلیٰ شہری اعزاز اور پاکستان کی اعزازی شہریت دینے کے مطالبے کر رہے ہیں۔

سیمی خان شنواری بطور انسان اور کپتان سب کے لئے مثال ہے خاص کر کپتانوں کے لیے کہ کو کھلاڑیوں کے رویوں کو کس طرح سمجھنا چاہیے اور محبت، اخلاق، ذمہ داری اور زندہ دلی کامیابی کی اصل کلید ہیں۔

Facebook Comments