بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھلنے لگے؟

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے رواں سال ستمبر میں ’ورلڈ الیون‘ کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن اس میں کون کون سے کھلاڑی شامل ہوں گے؟ اس حوالے سے تصویر ابھی واضح نہیں ہے اور نہ کچھ تفصیل بتائی گئی ہیں۔

"ورلڈ الیون" کے نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ میچز ریگولر کرکٹ کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ چند ایسے کھلاڑویوں پر مشتمل دستہ ہو گا جو پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے لئے معاون کا کردار ادا کریں گے، مگر اس کا مثبت اثر آئی سی سی پر ضرور پڑے گا جو ان میچز سے پاکستان میں سکیورٹی کے معاملات کا مزید جائزہ حاصل کرنا چاہ رہی ہے اور اطمینان کی صورت میں بین الااقوامی کرکٹ کی واپسی کی راہ ہموار ہو گی۔

غیر ملکی کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون کی تشکیل 17 ستمبر کو دبئی میں ہو گی، اور اس کے بعد یہ 22، 23، 28 اور 29 ستمبر کو چار ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے لیے پاکستان آئے گی۔ ان چاروں میچز کی میزبانی بھی لاہور کے ہی حصے میں آئی ہے جہاں چند روز قبل پاکستان سپر لیگ کا تاریخی فائنل کھیلا گیا ہے۔

ابھی یہ واضح تو نہیں ہو سکا کہ پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں انعقاد سے پاکستان کرکٹ کو مزید کتنا فائدہ حاصل ہو گا؟ مگر اس حد تک ضرور ہوا ہے کہ آئی سی سی سمیت کرکٹ سے وابستہ کئی عظیم ناموں نے پاکستان کی ضرورت کو سمجھنا اور سنجیدہ لینا شروع کر دیا ہے۔ معاملہ یہاں تک پہنچانے میں اہم ترین کردار پاکستانی سکیورٹی اداروں کا بھی ہے کہ پی ایس ایل فائنل میں جن کی سکیورٹی سے دنیا مطمئن ہوئی اور اسی لئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ورلڈ الیون کے لئے بھی اسکیورٹی کے بالکل ویسے انتظامات کیے جائیں جیسے پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لیے کیے گئے تھے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے صدر جائلز کلارک نے بھی پاکستان میں بین الااقوامی کرکٹ کی بحالی کی حمایت کی ہے بلکہ بین الاقوامی ٹیموں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی اس حوالے سے مدد کریں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد ہم سب کے مشترکہ دشمن ہیں اور انہیں کبھی جیتنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے۔ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ہی دہشت گردوں کے عزائم کے خلاف بہترین جواب ہو گا۔ یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ پاکستان کی کرکٹ کے لئےبڑی خدمات ہیں اس لئے ان پر کرکٹ کے دروازے مزید ہرگز بند نہیں رکھے جانے چاہئیں، اور ویسے بھی پاکستان اب ہوم سیریز ملک سے باہر کھیلنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

Facebook Comments