کرکٹ میں بڑی تبدیلیاں متوقع

زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو بدلتے وقت اور حالات کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کی جاتی رہے اور اُبھرتے مسائل کا بروقت حل تلاش کر لیا جائے تبھی ترقی و کامرانی کا سفر جاری رہتا ہے۔ " میریلیون کرکٹ کلب" (ایم سی سی) کرکٹ کے قوانین مرتب بھی کرتا ہے اور ان کا نگہبان ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اب اس ادارے نے دو اہم تبدیلیاں تجویز کی ہیں ایک تو بلّے کے حجم کو محدود کرنے کے حوالے سے جبکہ دوسرا امپائروں کے ساتھ کھلاڑیوں کے غیر مہذب رویے کی روک تھام کے لئے۔

میریلیون کرکٹ کلب نے اعلان کیا ہے کہ بلوں کے سائز کی چوڑائی 108 ملی میٹر، گہرائی 67 ملی میٹر اور کنارے 40ملی میٹر تک محدود رکھی جائے گی اور اسے یقینی بنانے کے لئے ایک خصوصی آلے کی مدد لی جائے گی جس کی پیمائش کے بعد ہی بلے کے استعمال کی اجازت ملے گی۔ اس قانون کی وجہ ایم سی سی پر ہونے والی مسلسل تنقید تھی کہ اب بلّوں کا سائز اتنا بڑھ چکا ہے کہ بلےباز کے غلبے کی وجہ سے کھیل کا توازن بھی بگڑ رہا ہے۔

دوسرا نیا قانون یہ متعارف کرایا گیا ہے کہ اب امپائر کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کھیل کے دوران بدتمیزی کرنے یا برا رویہ اختیار کرنے والے کھلاڑیوں کو وقتی یا مستقل طور پر میدان سے باہر کر سکے گا۔ اس اختیار کے ملنے سے خراب رویے برتنے والے کھلاڑیوں کو انتباہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ٹیم پر 5رنز کا جرمانہ بھی کیا جا سکے گا جبکہ امپائروں کے پاس کھلاڑی کو میدان بدر کرنے کا صوابدیدی اختیار بھی ہو گا۔

اس قانون کی حدود کا تعین کچھ اس طرح تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی بہت زیادہ غیر ضروری اپیلیں کرے یا امپائروں سے نامناسب رویہ روا رکھے تو اسے متنبہ کیا جائے گا جبکہ کسی کھلاڑی کو جان بوجھ کر گیند مارنے یا اس سے ٹکرانے کی صورت میں 5 رنز کی پنالٹی عائد کی جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی کھلاڑی امپائر کو دھمکی دے یا اشتعال انگیزی کا مرتکب پایا جائے تو اسے میدان سے نکال دینے کا اختیار ہو گا۔

ایم سی سی کے سربراہ جان اسٹیفن نے کہا یقینی طور پر اب وقت آ گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے خراب رویوں کا سخت نوٹس لیا جائے اور سزائیں متعارف کی جائیں تا کہ نچلی سطح پر امپائروں کے ساتھ بڑھتے غیر مناسب رویے کو کنٹرول کیا جا سکے کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے امپائر کھلاڑیوں کے رویے کی وجہ سے کھیل سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں، ان نئی پابندیوں سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔

Facebook Comments