عمران خان سے کہاں غلطی ہوئی؟

کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان سپر لیگ 2017ء کے اختتام پر ملک بھر میں یہ ایونٹ اس طرح موضوعِ بحث ہوتا کہ جہاں تعریف کی ضرورت پڑتی ادھر وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا جاتا اور جہاں خامیوں کی بات آتی تو بےرحم تنقید سے بھی گریز نہ کیا جاتا اور یوں تیسرے سیزن کو مزید بہتر اور فائدہ مند بنانے میں مدد ملتی، لیکن 'عظیم' عمران خان نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔ فائنل کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے "پھٹیچر" اور "ریلو کٹّا" جیسے الفاظ استعمال کرکے نہ صرف 'فرینڈلی فائر' کیا بلکہ پی ایس ایل کی بلند پروازی کی اہمیت بھی گھٹانے کی کوشش کی۔ معاملہ اس قدر سیاسی ہو جانے کے بعد لعن طعن کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس طوفانِ بدتمیزی میں اردو کی "سیاسی لغت" میں دو الفاظ کا "قیمتی" اضافہ ہوا۔ خیر، معنی معلوم ہوں یا نہ ہوں ہر طرف انہی الفاظ کی جگالی جاری ہے۔

معروف صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام میں ان لفاظ کے معنی و مفہوم کے بارے میں پوچھا تو خان صاحب نے منطق پیش کی کہ یہ کوئی توہین آمیز الفاظ نہیں بلکہ "کرکٹ کی اصطلاحات" ہیں، عوام ان سے آگاہ نہیں اس لیے شور مچا رہے ہیں۔ کپتان کی وضاحت کے بعد تو ہمدردوں نے ان الفاظ کو ایسے ایسے جامے پہنانا شروع کردیے کہ سب کو 'عذرِ گناہ، بد تر از گناہ' جیسے محاورے کا موقع و محل کے اعتبار سے استعمال کرنا آ گیا۔ بہرحال، کوئی کہہ رہا تھا کہ ریلو کٹے کا مطلب ہوتا ہے 'ریٹائرڈ کھلاڑی'، کسی کے نزدیک بیکار کھلاڑی کو ایسے پکارا جاتا ہے۔ کسی کے نزدیک ٹیموں کے انتخاب کے بعد بچ جانے والے کھلاڑی کو کہا جا تا ہے لیکن کوئی سمجھ نہیں پا رہا کہ معاملہ معنی و مفہوم کا نہیں بلکہ سوچ اور وقت کا ہے جس کے تابع یہ 'گل افشانی' کی گئی ہے۔

میرے خیال میں سابق کپتان کی اس گفتگو کے تین حوالے ہیں، جن میں سے ایک شدید غصہ اور فرسٹریشن ہے۔ چونکہ خان صاحب دنیائےکرکٹ کے مہاتما ہیں اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بات کو نظر انداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے جب لاہور میں فائنل کروانے کو "پاگل پن" قرار دیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ گی ہمت کیسے ہوئی کہ حکم عدولی کرے؟ اور غیر ملکیوں کی جرات کیسے ہوئی کہ میرے خدشات کے باوجود اِدھر کا رخ کریں؟

اب ظاہر ہے ان غیر ملکیوں سے خان صاحب کو ذاتی رنجش تو ہے نہیں، اگر تھی بھی تو ان کی آمد پر تھی کہ ان کی وجہ سے خان صاحب کو خفت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے مخالفین کو بغلیں بجانے کا موقع ملا۔ تو اس غصے میں انہیں 'ریلو کٹا' اور 'پھٹیچر' کہا۔ مگر اب وضاحتیں دینے میں بھی یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ جب الفاظ میں غصہ شامل ہو جائے تو وہ بے معنی نہیں رہتے بلکہ خاص مفہوم اختیار کرلیتے ہیں۔

اس تمسخرانہ گفتگو کا دوسرا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ فائنل کے کامیاب انعقاد کا جو شور مچا ہے اس سے شریف خاندان کو سیاسی جبکہ نجم سیٹھی کو اخلاقی فائدہ ہو گا اس لئے بہتر یہ ہے اس کی افادیت کو کم کیا جائے تاکہ عوام میں یہ بات جائے کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد اتنا بڑا واقعہ نہیں ہے جتنا ظاہر کیا جا رہا ہے، یہ سب تو عام بلکہ "ریلو کٹے" کھلاڑی تھے جنہیں پیسے دے کر کہیں بھی بلایا سکتا ہے ۔مگر خان صاحب یہ بھول گئے معاملہ یہ ہے ہی نہیں کہ کون سے کھلاڑی آئے؟ معاملہ یہ ہے کہ کچھ کھلاڑی تمام تر خدشات کو بالائے طاق رکھ کر آ گئے جس سے دنیا میں پاکستان کے محفوظ ہونے کا مثبت تاثر پیدا ہوا۔ سچی بات یہ ہے کہ ان غیر ملکی کھلاڑیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اس پی ایس ایل فائنل کو خاص اہمیت دی، اگر وہ بھی نہ آتے تو تب دنیا بھر کو زیادہ خطرناک پیغام جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرکٹ میں بڑی تبدیلیاں متوقع

بہرحال، ان الفاظ کی وضاحت میں جو تیسری بات کہنے کی کوشش کی گئی کہ وہ یہ ہے کہ چونکہ یہ الفاظ توہین آمیز نہیں بلکہ کرکٹ کی اصطلاحات ہیں اور عوام "بے سمجھ" ہیں اس لیے شدید ردعمل آ رہا ہے۔ درحقیقت عوام کے غصے کا تعلق اس کلچر سے ہے جس میں دشمن بھی مہمان بن کر آئے تو اس کی قدر کی جاتی ہے۔ پھر یہ غیر ملکی تو ہماری مدد کرنے آئے تھے تو ان کا تمسخر اڑانا اور القابات سے پکارنا پوری قوم نے اپنی توہین کے مترادف سمجھا ہے۔ پھر جہاں تک اس بات کا تعلق یہ الفاظ کرکٹر عام بولتے ہیں تو جناب! الفاظ کی اتنی اہمیت نہیں رہتی جتنی ٹائمنگ یعنی موقع محل کی ہوتی ہے۔ مثلاً اگر دوست یار اپنی محفل میں کسی کو چور کہہ کر پکاریں تو اس کی اہمیت نہیں، مگر جب وہی الفاظ تھانے میں بیٹھ کر دوست کے لئے ادا کیے جائیں تو ان کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ بالکل غیر ملکیوں کے معاملے میں یہی ہوا کہ غلط ٹائمنگ سےالفاظ کی نوعیت شدید ہو گئی۔

کاش عمران خان کو اچھے مشیروں کا ساتھ حاصل ہوتا اور وہ سیاسی مخالفین اور ریاست کو الگ الگ کرکے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تو بہت آرام سے نہ صرف لاہور میں فائنل کا پورا میلہ تنہا لوٹ سکتے تھے بلکہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے پاکستان آمد پر مزید اطمینان کا باعث بھی بن سکتے تھے کیونکہ کرکٹ کی دنیا میں ان کے الفاظ کی قدر بہت زیادہ ہے۔ بہرحال، کمان سے نکلے تیر کی طرح منہ سے نکلے الفاظ واپس تو نہیں آ سکتے، ان الفاظ نے جو نقصان کرنا تھا وہ کر چکے اور آگے بھی کرتے رہیں گے مگر اس میں ایک بڑا سبق یہ ہے کہ سیاست کو کرکٹ سے دور رکھنے ہی میں بہتری ہے۔ اسی میں دونوں کی بھلائی ورنہ کرکٹ سے کمائی گئی عزت سیاست کی نذر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

Facebook Comments