اسمتھ، کوہلی اور ڈی آر ایس تنازع، فف تپ گئے

وہ زمانے لد گئے جب کرکٹ شرفاء کا کھیل ہوا کرتا تھا۔ اب یہ بدمعاشوں اور بدتمیزوں کا کھیل بن چکا ہے اور شاید یہی وجہ ہےکہ بین الاقوامی کرکٹ میں 'ریڈ کارڈ' اور 'یلو کارڈ' متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ بہرحال، جب تک اسے قانون کی صورت ملے تب تک تو سب اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں میں جس طرح کا رویہ اب تک دکھایا گیا ہے، وہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں جو کسر رہ گئی تھی وہ بنگلور میں کھیلے گئے دوسرے مقابلے میں پوری ہوگئی جہاں 'ریویو' معاملے نے دونوں کپتانوں کی اخلاقی حیثیت ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے دہرے معیار بھی کھول کر رکھ دیے ہیں۔

آسٹریلیا کے کپتان اسٹیو اسمتھ نے قبول کیا تھا کہ آؤٹ ہونے کے بعد ڈی آر ایس معاملے پر انہوں نے ڈریسنگ روم سے مدد لینے کی کوشش کی تھی۔ پھر بھارتی کپتان کہنے لگے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ آسٹریلیا نے ڈی آر ایس قوانین کو اس طرح چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔ تنازع بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ دونوں ممالک کے بورڈز اپنے کپتانوں کے دفاع میں سامنے آئے اور بھارت نے تو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو باقاعدہ شکایت بھی درج کروائی لیکن جب دیکھا کہ یہ بات ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے تو واپس لے لی۔ پھر دونوں بورڈز نے مشترکہ بیان جاری کیا اور معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے "بگ تھری" کے ساتھ رعایت برتنے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے لیکن "چھوٹوں" کے گرد فوراً شکنجہ کس لیا جاتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان فف دو پلیسی دو مرتبہ بال ٹیمپرنگ تنازع میں پھنسے۔ ایک بار پاکستان کے خلاف اور دوسری مرتبہ آسٹریلیا کے خلاف اور دونوں بار معاملہ جرمانے سے آگے نہیں بڑھا لیکن فف اس پر بھی معترض ہیں اور کہتے ہیں کہ میری حرکت تو اس کے مقابلے میں بہت چھوٹی تھی لیکن اس کے باوجود جن مرحلوں سے گزرنا پڑا وہ سب کے سامنے ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فف نے اگر ایسا کچھ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کے درمیان ہوتا تو شاید نتیجہ یہ نہ نکلتا۔ بھارت یا آسٹریلیا کے مقابلے میں ایسا ہی ہو سکتا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ میرے اس بیان پر آسٹریلیا کا میڈیا کیا ردعمل دکھاتا ہے؟

Facebook Comments