باپ بیٹے کی ایک ہی میچ میں نصف سنچریاں

دوسرے شعبوں میں تو شاید یہ عام بات ہو لیکن دنیائے کرکٹ میں ایسا بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ باپ اور بیٹا ایک ہی مقابلے میں اکٹھے جلوہ گر ہوں اور نصف سنچریاں بھی بنا ڈالیں۔ مگر ویسٹ انڈیز کے سابق بلےباز شیونرائن چندرپال اور ان کے 20 سالہ بیٹے تیج نرائن چندرپال نے ایک فرسٹ کلاس مقابلے میں نہ صرف شاندار اور انوکھی شراکت داری قائم کی بلکہ نصف سنچریاں بنا کر نیا ریکارڈ بھی قائم کر دیا ہے۔

بائیں ہاتھ کے مستند بلےباز چندرپال نے بےشمار مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی اور اہم فتوحات سمیٹیں۔ موصوف کی صلاحیتوں کا اندازہ صرف اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ملک کے لیے سب سے زیادہ رنز بنانے والے دوسرے بلے باز ہیں۔ جبکہ ان کے بیٹے تیج نرائن نے 2013ء میں فرسٹ کلاس کرکٹ سے آغاز کیا تھا۔ تاہم دونوں باپ بیٹے کا اپنی ریاست گیانا کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک ہی میچ میں اکٹھا کھیلنا اور نصف سنچریاں بنانا یقیناً بہت یادگار لمحہ تھا جسے شائقین نے نے خوب سراہا۔ یاد رہے کہ یہ چندرپال کی فرسٹ کلاس کیریئر کی 136ویں نصف سنچری تھی جبکہ تیج نرائن کا یہ 16 واں فرسٹ کلاس میچ تھا اور اب تک 3 نصف سنچریاں بناچکے ہیں۔

سبائنا پارک، جمیکا میں کھیلے جارہے میچ میں تیج نرائن چندرپال نے کھیل کے دوسرے روز اپنے والد سے کچھ لمحے پہلے نصف سنچری مکمل اور تاریخی 58 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے جبکہ دوسری اننگز میں بدقسمتی سے وہ کھیل ہی نہ سکے اور زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ نوجوان تیج نرائن ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم کی کپتانی کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں اور اب امید ہے جلد قومی دستے میں شمولیت کے دروازے بھی کھل جائیں گے۔

ویسے یہ پہلا موقع نہیں کہ جب باپ بیٹے نے فرسٹ کلاس میں اکٹھا معرکہ سر کیا ہو۔ اس سے پہلے 1931 میں جارج گن اور ان کے بیٹے جارج ورنن بھی انگلش کاونٹی میں اکٹھے کھیلتے ہوئے ایک میچ میں سنچریاں تک بنا چکے ہیں جوو کرکٹ کی تاریخ کا ایسا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے بعد بھی چند مرتبہ ایسے واقعے پیش آئے تاہم کرکٹ کی بین الاقوامی مقابلوں کی تاریخ میں تاحال ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جہاں باپ اور بیٹے نے ایک ہی ٹیم کی اکٹھے نمائندگی کی ہو۔

Shivnarine-Chanderpaul

Facebook Comments