کامران اکمل اب صرف اسپیشلسٹ بیٹسمین

کامران اکمل کا یہ کہنا ہے کہ میں ایک بلے باز کی حیثیت سے قومی دستے میں واپسی چاہتا ہوں، نہ کہ وکٹ کیپر کی حیثیت سے، کیونکہ سرفراز احمد اس ذمہ داری کو احسن انداز سے نبھا رہے ہیں اور انہیں چھیڑنا مناسب نہیں ہے۔

"کامی" کا یہ بدلہ بدلہ سا اور سنجیدہ انداز وقت کی مار یا دورِ فراغت کا ادراک ہے؟ سبب کچھ بھی ہو مگر حوصلہ افزا ہے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے تک اکمل برادران کے نخرے سنبھالے میں ہی نہیں آتے تھے۔ معاملات یہاں تک پہنچ گئے کہ جب ایک بھائی کو میچ سے باہر کیا جاتا تو دوسرا نہ صرف خفگی کا مظاہرہ کرتا بلکہ اپنا ردعمل بھی ریکارڈ کرواتا۔ یہاں تک ڈریسنگ روم کا ماحول خراب کرنے اور کپتان کے خلاف سازشیں کرنے تک کی باتیں زبان زد عام آئیں۔ مگر زبان کی موجودہ مٹھاس سے محسوس ہو رہا ہے کہ طویل عرصے کی فراغت نے بہت کچھ اچھا سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں تربیتی کیمپ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کامران اکمل بہت پر اعتماد لگے کہ انہیں دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے قومی ٹیم میں واپسی کا سندیسہ لازمی مل جائے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ "کامی" نے یہ واپسی کا سفر اپنی محنت اور کارکردگی کی بدولت طے کیا ہے۔ قائداعظم ٹرافی ہو یا پاکستان سپر لیگ، دونوں میں رنز کے انبار لگائے۔ پی ایس ایل میں بہترین وکٹ کیپر کی 'امتیاز احمد ٹرافی' کے ساتھ سب سے زیادہ رنز بنا کر 'حنیف محمد ٹرافی' اور 'مین آف دی ٹورنامنٹ' رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ کامران کا بلّا اب چل پڑا ہے اور اب کوئی وجہ نہیں کہ انہیں قومی الیون کا حصہ نہ بنایا جائے۔ بس ایک فٹنس معاملہ ایسا ہے جو سب محنت پر پانی پھیر سکتا کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ جدید کرکٹ لیول کی فٹنس قائم رکھنا آسان نہیں اور اوپر سے چیئرمین پی سی بی شہریارخان پالیسی بیان بھی جاری کر چکے ہیں کہ کھلاڑیوں کا انتخاب فٹنس کی بنیاد پر کیا جائے گا خواہ کھلاڑی سینئر ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم کامران فٹنس کے معاملے پر بھی بہت مطمئن دکھائی دئیے ان کا کہنا تھا کہ 'میرا فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اور اپنی طرف سے 100 فی صد کرنے کی کوشش کی ہے'۔ان شاءاللہ فٹنس اور کارکردگی کو ساتھ چلا کر قومی دستے میں اپنی جگہ پکی کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔

سرفراز احمد کے قیادت سنبھالنے کے بعد کامران اکمل نے ساری توقعات اب بلے بازی سے لگا لی ہیں جو کہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے کیونکہ جب سے کامی کو انتخاب کے حوالے سے گرین سگنل ملتا محسوس ہو رہا ہے تب سے ہی ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں سرفراز کے ہوتے ایک اور وکٹ کیپر کی کیا ضرورت ہے؟ کامران اکمل کا کہنا تھا کہ میں بلے باز کی حیثیت سے لوہا منوانے کی کوشش کر رہا ہوں اور اس حوالے سے میں اب بھی سابق کپتان انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان سے بیٹنگ ٹپس لیتا رہتا ہوں تا کہ کارکردگی میں استحکام آئے اور کمیوں کو پورا کیا جا سکے۔

Kamran-Akmal2

Facebook Comments