پاکستان کے ویراٹ کوہلی

میں 'ڈان نیوز' میں اپنے ساتھی صحافی عبد الغفار کے ساتھ بیٹھا تھا، کام کے ساتھ ساتھ گفتگو بھی چل رہی تھی کہ اچانک ٹیلی وژن اسکرین پر نوجوان بلے باز بابر اعظم رونما ہوئے۔ وہ لاہور میں جاری تربیتی کیمپ کے دوران ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرنے آئے تھے۔ ان کی گفتگو پر 'ٹکرز' بنانے لگا اور اسیدوران عبد الغفار کو یاددلایا کہ ابھی کوئی صحافی بابر اعظم کا موازنہ ویراٹ کوہلی سے کرنے ہی والا ہے۔ابھی میرا جملہ ادا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک صحافی نے یہی 'حرکت' کر ڈالی۔

یہ سوال ہم پاکستانیوں کے لیے نیا نہیں ہے۔ ہم کئی سالوں سے ہر ابھرتے بلے باز کو کوہلی بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، اور ہر بار منہ کی کھا رہے ہیں۔

"آپ کو کرکٹ فینز پاکستانی ویراٹ کوہلی قرار دے رہے ہیں، کیا کہیں گے آپ؟" یہ وہ سوال ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے ہر اس کھلاڑی کے سامنے اٹھایا جاتا ہے جو کوئی سنچری بناتا ہے یا ایک اچھی سیریز کھیل لیتا ہے۔ بس وہ کوہلی بن جاتا ہے اور جہاں بھی جاتا ہے یہ سوال تحفے کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے۔ داستان کا آغاز کوئی عمر اکمل سے ہوتا ہے جو اس "منحوس" سوال کی زد میں سب سے پہلے آئے اور آج تک گاہے بگاہے نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ اب تو خیر ثابت ہوچکا ہے کہ عمر اکمل اور ویراٹ کوہلی کا موازنہ ایسا ہی جیسے شرجیل خان اور سعید انور کو ملا دیا جائے۔ اس کے باوجود پاکستان سپر لیگ کے دوران عمر اکمل کے سامنے پھر یہ سوال دہرایا گیا۔ یہ تو "چھوٹے اکمل" کی ہمت تھی کہ انہوں نے 50 ویں مرتبہ اس سوال کا جواب دیا اور کہا کہ موازنہ تب بنتا ہے جب میں اور کوہلی ایک ہی نمبر پر کھیل رہے ہوں، میں ہمیشہ چھٹے نمبر پر کھیلتا ہوں۔ ان کا موازنہ کرنا ہے تو بابر اعظم سے کریں کیونکہ وہ دونوں ایک ہی نمبر پر کھیلتے ہیں۔

پھر احمد شہزاد کی باری آئی۔ "شہزادے" نے بین الاقوامی سرکٹ میں صلاحیتوں کے جوہر دکھائی تو ہمارے صحافی بھائیوں کے دل میں انہیں بھی کوہلی بنانے کی "معصوم خواہش" نے جنم لیا۔ ایک بارسوال کا جواب مل گیا تو بات ختم ہو جانی چاہیے لیکن احمد جواب دے دے کر تھک گئے، لیکن سوال کرنے والوں کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ لگتا ہے انہوں نے اپنے سوال کی "طاقت" سے احمد کو کوہلی بنا کر ہی چھوڑنا ہے۔

بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف مسلسل تین سنچریوں کے بعد پاکستان سپر لیگ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو یہ سوال بابر اعظم پر بھی فرض ہوگیا۔ ایک صحافی بھائی کے دل کے ارمان باہر آئے اور انہوں نے 7 سال پرانا سوال پھر ٹھونک دیا۔ بابر اعظم کا جواب تھا کہ کوہلی اور وہ مختلف قسم کے کھلاڑی ہیں، اس لیے موازنہ نہ کیا جائے۔

بات یہ نہیں کہ بابر کس قسم کے کھلاڑی ہیں اور کوہلی کس قسم کے۔ سوال یہ ہے کہ آخرہماری دنیا کوہلی پر ہی آ کر کیوں رک جاتی ہے؟ ہم اس طرح کے سوالات کرکے اپنے ہی کھلاڑیوں کو کیوں دباؤ کا شکار کرتے ہیں؟ آخر ان پر کوہلی کی نفسیاتی برتری کیوں تھوپ دی جاتی ہے؟ پہلی بات تو کسی کا کسی سے موازنہ کرنا ہی نہیں چاہیے لیکن اگر یہ فضول سوال پوچھنا ہی ہے تو کیا دنیا میں دوسرے کھلاڑی مر گئے ہیں؟ لیکن شاید ہمیں بھارتیوں کے ہاتھوں اپنا مذاق بنوانے کا شوق ہے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ احمد شہزاد نے پاکستان سپر لیگ میں ایک اچھی اننگز کھیلی تو ایک بھارتی صحافی نے ٹوئٹ کیا کہ کہیں احمد شہزاد کو پھر کوہلی سے تو نہیں ملا دیا گیا؟

بات صرف بلے بازوں اور ان کے کوہلی سے موازنے تک ہی حدود نہیں۔ یہاں تو ایک ففٹی یا ایک اچھے اسپیل کے بعد کھلاڑیوں کو 'لیجنڈز' سے ملا دیا جاتا ہے۔ صہیب مقصود نے ابھی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی نصف سنچری ہی بنائی تھی کہ وہ 'ملتان کا سلطان' بن گئے اور صرف ایک مقابلہ انہیں "نیا انضمام الحق" کا بنا گیا۔ جب محمد عامر نے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں بلے بازوں کی گلیاں اڑائیں تو ملک بھر میں "نئے وسیم اکرم" کی صدائیں بلند ہوگئیں۔

مکی آرتھر اچھے بھلے کوچ ہیں لیکن پاکستان میں رہ کر لگتا ہے ان پر بھی پاکستانی رنگ چڑھ گیا۔ آسٹریلیا پہنچے تو شرجیل خان کو ڈیوڈ وارنر اور اسد شفیق کو سچن تنڈولکر سے تشبیہ دے ڈالی۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ ہمارے 'ماہرین اعداد و شمار' نے ٹوئٹ کر کے پوری کردی کہ 23 میچز کے بعد بابر اعظم کا ریکارڈ کوہلی سے اچھا ہے۔

بات کو مزید طول دیے بغیر صرف اتنی التجا ہے کہ موازنے کے اس سلسلے کو یہیں روک دینا بہتر ہے۔ نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہیے لیکن بڑے کھلاڑیوں سے تشبیہ دے کر انہیں فائدے کے بجائے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ نئے کھلاڑیوں کو کسی ایسے سوال کی ضرورت نہیں ہے اس لیے انہیں معاف ہی رکھیں تو بہتر ہے۔

Babar-Azam

Facebook Comments