سری لنکا؛ وزارت کھیل نے کرکٹ بورڈ تحلیل کر دیا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے کرکٹ بورڈز میں سیاست و حکومت کی مداخلت کے خلاف فیصلے کے ایک ہی روز بعد سری لنکا کی وزارت کھیل نے بد عنوانی اور بد انتظامی کا الزام لگاتے ہوئے عبوری کرکٹ بورڈ کو تحلیل کر دیا ہے۔ اب تمام اختیارات اگلے چھ ماہ کے لیے ایک پینل کے سپرد کر دیے گئے ہیں جس کی صدارت سری لنکا کرکٹ کے سابق چیئرمین اپالی دھرماسینا کریں گے۔

ہمبنٹوٹا اسٹیڈیم سمیت عالمی کپ 2011ء میں متعدد میدانوں کی تیاری میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

گو کہ سری لنکا کی وزارت کھیل نے اب تک اس اقدام کی کوئی باضابطہ وجہ تو بیان نہیں کی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ کمیٹی کو بد انتظامی اور بد عنوانی کے الزامات کے بعد تحلیل کیا گیا ہے۔

سری لنکا گزشتہ 7 سال سے عبوری انتظامات کے تحت اپنا کرکٹ بورڈ چلا رہا ہے اور حال ہی میں عالمی کپ 2011ء کی میزبانی کے سلسلے میں نئے میدانوں کی تعمیر اور بعد ازاں ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر بد عنوانی کی خبریں زیر گردش تھیں۔ عالمی کپ کے بعد اب سری لنکن بورڈ 23 ملین ڈالر سے زائد کا مقروض ہے ۔ علاوہ ازیں بورڈ میں اقرباء پروری بھی عروج پر ہے اور عرصہ دراز سے من پسند افراد کا تقرر ہوتا رہا ہے۔

اس معاملے پر وزارت کھیل کا موقف ہے کہ یہ آئی سی سی کی سفارشات پر عملدرآمد کی پہلی کڑی ہے اور ہم کرکٹ بورڈ میں جمہوری نظام کو نافذ کرنے کی سمت قدم اٹھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ سال جنوری میں کرکٹ بورڈ میں انتخاب کرانے کا اعلان بھی کیا گیا۔

Facebook Comments