دورہ ویسٹ انڈیز؛ مصباح الحق کا سرفراز پر مکمل اعتماد

پاکستان کے لئے دورہ ویسٹ انڈیز کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے، چونکہ ویسٹ انڈیز اپنے میدانوں میں کبھی بھی آسان ہدف نہیں ثابت ہوتا بلکہ مہمان ٹیم کو غیر معمولی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، مگر جیسے کہ اب گرین دستہ تینوں میں فارمیٹ کی عالمی درجہ بندی میں مایوس کن سطح پر ہے اس لئے یہ بہترین موقع ہے کہ اچھی کارگردگی سے پوزیشن کو بہتر کر سکیں، خاص کر ایک روزہ میں تو بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ جبکہ دوسری اہم چیز سرفراز احمد کی صلاحیتوں کا امتحان بھی ہے کہ ٹی ٹونٹی میں تو خود کو قدر بہتر کہتان ثابت کر چکے تاہم ایک روزہ دستے کے قائد کی حیثیت سے یہ پہلا دورہ ہے کامیابی کی صورت میں امید کی جا سکتی ہے کہ ٹیسٹ دستے کی کمان بھی سنبھالنے کو مل جائے مگر ناکامی کی صورت میں ناقدین کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہو گا۔

ساتھ ہی اس سیرسیز میں مصباح الحق کا بھی امتحان موجود ہے جن پر لیبل لگتا جا رہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات تک کی سلو پچوں پر تو کارآمد ہیں مگر جویہی تیز پچوں کی باری آتی ہے مصباح کمزور ترین دکھنے لگتے ہیں۔ ویسے بھی دورہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں سخت ناکامیوں کے بعد دورہ ویسٹ انڈیز زبردست موقع ہے کہ جہاں نہ صرف ٹیم کی درجہ بندی میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ اپنے کپتانی پر اٹھنے والے سوالات کا موثر جواب بھی دیا جا سکتا ہے۔

ٹیسٹ کپتان کے حالیہ بیان سے لگتا ہے کہ دورے کو بہت اہمیت دے رہے ہیں انہوں نے اپنے کولیگ کپتان سرفراز احمد حوصلہ کو محنت کش اور خوش قسمت قرار دیتے ہوئے جہاں حوصلہ بڑھایا ہے وہیں تک مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے کہ 'سرفراز بہترین کپتان ہے، وہ کافی سمجھدار ہے اور جب بھی اسے کسی ٹیم کی قیادت سونپی گئی اس نے اپنی ذمہ داری کے ساتھ انصاف کیا'

ساتھ ہی مصباح نے دستے کو متوازن قرار دیتے ہیں سلیکشن کمیٹی کی بھی کاررکردگی کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ وہاں کی کنڈیشنز سے بھی کھلاڑی کافی حد تک واقف ہیں لہٰذا ان کے پاس اچھا پرفارم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں'۔
یاد رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین آخری ٹاکرا گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ہوا تھا جو گرین دستے کے حق میں یکطرفہ ثابت ہوا، ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی میں مہمان دستے کو کلین سویپ شکست ہوئی جبکہ ٹیسٹ سیریز سوائے ایک میچ کے سبھی میزبان دستے کے حق میں رہے، اب دیکھنا یہ ہے جب ویسٹ انڈیز میں مہمان اور میزبان کی پوزیشن بدل چکی ہو گی تو نتجہ کس کے حق میں رہتا ہے مہمان یا میزبان۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈٰیز کے درمیان 4 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ 26 مارچ کو بارباڈوس میں ہوگا۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد تین ون ڈے میچز اور 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز ہوگی۔

westindies-pakistan-tour-2017

Facebook Comments